- الإعلانات -

گورننس کے مسائل اور قرضوں کا بوجھ

نواز حکومت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی تان ان دنوں ہمیشہ یہاں آکر ٹوٹتی ہے کہ زر مبادلہ کے ذخائر ریکارڈ حد تک پہنچ گئے ہیں لیکن کبھی وہ یہ نہیں بتاتے کہ ملک پر قرضوں کا بوجھ کہاں جاپہنچا ہے۔تجربہ کاراورمنجھی ہوئی جماعت کا دعوی ٰکرنے والی مسلم لیگ کو حکومت ملی تواب تک قرضوں کے اندرونی اوربیرونی تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔ گزشتہ تین برسوں میں حکومت نے 8 ہزار ارب روپے کے قرضے حاصل کیے ہیں جسکے بعد ملک پر قرضوں کا مجموعی بوجھ 22 ہزار ارب روپے سے بڑھ گیا ہے۔اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق 30 ستمبر 2016 تک صرف مقامی قرضوں کا بوجھ 14ہزار 787ارب روپے ہوچکا ہے جبکہ30جون 2016 تک غیر ملکی قرضوں کا بوجھ 7 ہزار200 ارب روپے سے بڑھ گیا ہے۔قرضوں کا یہ پہاڑ کون اتارے گا اسکی حکمرانوں کو فکر ہے اور نہ اس بات پر تشویش کہ ہمارا قانون اس بارے کیا کہتا ہے،قانون کہتا ہے کہ قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے 60 فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے مگر بدقسمتی اور اس تجربہ کار حکومت کی مہربانی سے اس وقت قرضے جی ڈی پی کے تقریباً 68 فیصد تک پہنچ چکے ہیں جو فیسکل ریسپانسیبلیٹی اینڈ ڈیٹلی میٹیشن ایکٹ 2005کی خلاف ورزی ہے۔قرضوں کا یہ حجم بیڈگورننس کی عمدہ بے مثال ہے۔نون لیگی حکومت کی عمدہ گورننس کے ہاتھوں سماجی ترقی کے تمام شعبے زوال پذیر ہوچکے ہیں۔اقوام متحدہ کی گلوبل ایجوکیشن مانیٹرنگ رپورٹ 2016 کے مطابق پاکستان تعلیم کے شعبے میں فنڈنگ میں کمی وجہ سے تعلیمی ہدف کو حاصل کرنے میں پرائمری سطح کی تعلیم میں 50 سال اور ثانوی سطح کی تعلیم میں60سال پیچھے ہے۔ اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم یونیسکو کی ستمبر میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق 2014 میں صرف 10 فی صد غریب بچوں جبکہ اسکے مقابلے میں 75 فی صد امیر بچوں نے لوئر سیکنڈری اسکول تک کی تعلیم کو مکمل کیا۔ چاروں صوبوں کے دور دراز کے دیہاتی علاقوں کا سفر کیا جائے تو ہمیں بھینسیں اور بچے ایک ہی سکول میں اکٹھے نظر آئیں گے۔بارہاتعلیمی پالیسیاں بھی آئیں،تعلیمی منصوبے بھی بنے مگر معیاری تعلیم اور شرح خواندگی کا گراف بہتر نہ ہو سکا۔45 سے 54 سال کی عمر تک کے افراد میں شرح خواندگی صرف 46فیصد ہے اور مختلف شعبہ جات میں روزگار کمانے والے اور مختلف اداروں میں کام کرنے والے 54 فیصد افراد ناخواندہ ہیں۔ملکی و غیر ملکی اداروں کے اعداد و شمار سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں تعلیمی زبوں حالی کی بنیادی وجہ کرپشن ہے۔ اربوں روپے کے پروجیکٹ ادھر سے ادھر ہورہے ہیں حتی کہ بیرونی امداد بھی خردبرد ہوجاتی ہے۔یونیسکو کی گلوبل ایجوکیشن ڈائجسٹ کے مطابق پاکستان کو چین اور بھارت کے بعد541ملین ڈالر کی سب سے بڑی عالمی تعلیمی امداد ملی مگر اس کے باوجود تعلیمی ترقی اور شرح خواندگی کے اشاریے بہتر نہ ہوسکے۔بیڈگورننس کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ پنجاب میں900 سرکاری سکولوں اور کالجوں کے مستقل سربراہ ہی نہیں ہیں جبکہ500 سے زائد سکولوں پر بااثر افراد قبضہ کرچکے ہیں۔صوبہ پنجاب جس کے پاس دیگر صوبوں کے مقابلے میں وسائل کے انبار ہیں مگرصحت اور تعلیم مسلسل زوال پذیر ہے میلینیم ڈویلپمنٹ گولز 2015 کا ایک بھی ہدف کوئی صوبہ حاصل نہیں کر سکا ہے۔ ان اہداف میں سکول جانے کی عمر کے بچوں کی 100 فیصد انرولمنٹ، اول تاپنجم جماعت کے طلبہ کی سو فیصد حاضری اور شرح خواندگی کا ہدف 88فیصد تک بڑھانا شامل تھا۔جنوبی ایشیا میں پاکستان تعلیم پر سب سے کم خرچ کرنے والا ملک ہے ۔ بھوٹان جی ڈی پی کا 4.9 فیصد، بھارت 3.9 فیصد، ایران 4.7 فیصد، مالدیپ 8فیصد، ترکی 6فیصد خرچ کرتا ہے جبکہ پاکستان جی ڈی پی کا 2فیصد خرچ کرتا ہے۔تعلیم و تربیت کے معیار (سٹینڈرڈ آف ایجوکیشن)کے اعتبار سے پاکستان جنوبی ایشیا میں 123 ویں نمبر پر ہے۔صرف تعلیم کا کیا رونا صحت کا شعبہ بھی بری طرح تباہ ہورہا ہے.188ممالک پر مشتمل صحت کی بین الاقوامی سٹینڈرڈلسٹ میں پاکستان 149 ویں نمبر ہے۔پاکستان میں ناقص خوراک کی وجہ سے ہونے والی اموات کے بارے میں کوئی باقاعدہ اعداد وشمار تو دستیاب نہیں ہیں تاہم پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق محض آلودہ پانی کی وجہ سے سالانہ 30 لاکھ افراد مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوکر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔صحت کی سہولتوں کا فقدان پاکستان میں گمبھیر صورت حال اختیار کرنے لگا ہے، حکومتی سطح پر قائم اسپتالوں، ہیلتھ کیئر سینٹرز میں موجود سہولتیں اس معیار کے مطابق نہیں جس پرانہیں ہونا چاہیے ،لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک سے اقرباپروری ،میرٹ کشی اوررشوت ستانی کا خاتمہ ہو۔درست مقام پر درست بندے کا انتخاب ہو۔تعلیم اور صحت کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے تاکہ عوام کو ان کے بنیادی

وکیل۔۔۔ شوق موسوی
ہر اِک مقدمے میں پیش اُلٹ دلیل کی
جیتوں کسی طرح سے ہمیشہ سبیل کی
موصوف کو کرے گا مقرر وہ حشر میں
شیطان کو پڑی جو ضرورت وکیل کی