- الإعلانات -

مشیرانِ اغیار اوراشکِ سحر گاہی سے معمور مجاہد

قارئین کرام ! پاکستان حالت جنگ میں ہے ، کشمیر کنٹرول لائین اور سیالکوٹ ورکنگ باؤنڈری پر پاکستان فوج نہایت بہادری سے ازلی دشمن بھارت کی گولہ باری کے خلاف قومی دفاع میں مصروف ہے جبکہ ڈیورنڈ لائین پر بھارتی حمایت یافتہ اندرونی و بیرونی دہشت گردوں کے خلاف جنرل راحیل شریف کی قیادت میں آپریشن ضرب عضب کی بے مثال قربانیوں سے لپٹی اشکِ سحرگاہی سے معمور مجاہدوں کی قربانیوں نے قومی آزادی کے تحفظ کی قندیل روشن کی ہے۔ چنانچہ قومی سلامتی کے عزم کو پس پشت ڈال کر دشمنانِ پاکستان کی بیان کردہ تجاویز کو علاج سمجھنے والے بے حکمت مشیران اغیار جو محب وطن حلقوں میں گھس بیٹھنے کے باوجود اپنی منفی کوششوں کی ناکامی پر حیرت زدہ ہیں، جنرل راحیل شریف کی متوقع ریٹائرمنٹ کے موقع پر نئے سرے سے صف بندی کر کے قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ اندریں حالات اِس اَمر کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کہ دنیا بھر کی جمہوریتیں ملکی دفاع اور قومی سلامتی کو خطرات سے پاک رکھنے کیلئے اپنی بساط کیمطابق یا پھر تجربے کی کسوٹی پر پرکھے ہوئے دوست ممالک کی مدد سے اپنے دفاع کو مستحکم بنانے کے عمل کو ہمیشہ ترجیح دیتی ہیں اور اپنی صفحوں میں چھپے کسی بھی ازلی دشمن کے سہولت کاروں کو قومی سلامتی کے معاملات میں اثرانداز نہیں ہونے دیتی ہیں۔ صد افسوس کہ ملکی سرحدوں پر بھارتی مسلح کھلواڑ اور افغانستان میں خفیہ اڈوں کو بلوچستان، کراچی اور فاٹا میں دہشت گردی کیلئے استعمال کرنے کی بہیمانہ سازشوں کو پاکستانی عوام سے اوجھل رکھنے کیلئے کچھ وطن فروش سہولت کار ایٹمی پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں جن سے عوام الناس کو بروقت آگاہ رکھنے اور قومی دفاع کو مستحکم بنیادوں پر قائم رکھنے کی ضرورت مسلمہ ہے ۔
معزز قارئین ، ایک ایسے مرحلے پر جبکہ قومی سیاسی اور ملٹری قیادت کو قومی جذبوں سے سرشار ہو کر یکجہتی سے ازلی دشمن کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے کچھ پوشیدہ سیاسی طاقتیں مخصوص مفادات کی آڑ میں ملٹری اور سویلین قیادت کے درمیان بڑی ڈپلومیسی سے اختلافات کے بیج بونے میں پیش پیش نظر آتی ہیں ۔ گو کہ قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے باوجود افواج پاکستان کے چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف اور آرمی چیف کی بیک وقت ریٹائرمنٹ کو ملٹری کمانڈ اینڈ کنٹرول کی معمول کی تبدیلی سے ہی تعبیر کیا جائیگا لیکن کہنے والے کہتے ہیں کہ ازلی دشمن کی جانب سے قومی سلامتی کے اِس نازک مرحلے پر عسکری قیادت کی تبدیلی احسن اقدام نہیں ہے جبکہ کچھ عاقبت نا اندیش پاکستانی سیاسی دانشور بظاہر اِن مشیران اغیار کی چالوں کا شکار ہوتے ہوئے سیاسی اور ملٹری قوتوں کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کی بدنیتی کیساتھ عقل کل بننے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ ہمارے اربابِ اختیار اِس بے حکمت فکر کے جواز کو سمجھنے میں شعوری یا غیر شعوری طور پر ناکام نظر آتے ہیں۔ عوام الناس پہلے ہی وزیراعظم پاکستان کے دفتر سے قومی سلامتی امور کانفرنس سے شروع ہونے والی میڈیا سیکیورٹی لیک یا فیڈ پر حیران پریشان ہیں جس کی انکوائری چند دنوں میں مکمل کرنے کے دعوے کئے جانے کے باوجود ڈان رپورٹ کے صحافی کو ملک سے باہر جانے دیا گیا اور اب اِسی فکر کو مزید تقویت دینے کی ناپاک کوششیں کی جا رہی ہیں جو قومی دانشوروں کیلئے نا قابل فہم ہے ۔حقیقت یہی ہے کہ جب قومی سلامتی کے حوالے سے انتہائی اہم معاملات میں تساہل پسندی سے کام لیا جاتا ہے تو وطن دشمنوں کے سہولت کاروں کو حالات خراب کرنے کا مزید موقع مل جاتا ہے۔ اگر ڈان لیک یا فیڈ کے معاملے پر فوری طور پر آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت FIR درج کرکے انکوائری کر دی جاتی تو دشمن کی ڈِس انفارمیشن کو دوبارہ اُبھرنے کا موقع نہ ملتا لیکن نہ معلوم کیوں سیاسی قیادت کی جانب سے بظاہر معاملے کو دبانے کیلئے پہلے تو غیر ضروری طور پر وفاقی وزیر اطلاعات کو اُن کے عہدے سے برطرف کیا گیا اور پھر اِس واقعہ کی مبینہ انکوائری کیلئے کمیشن کی تشکیل میں تاخیر کی گئی جس کے باعث اپوزیشن سیاسی جماعتوں کیلئے یہ کمیشن کام شروع کرنے سے قبل ہی متنازعہ بن کر رہ گیا ہے ۔ یہ اَمر اور بھی زیادہ حیران کن ہے کہ کہ ملکی سلامتی کے اہم معاملے پر قومی ذمہ داری کو محسوس کرنے کے بجائے ملک کی کچھ اہم سیاسی جماعتیں اپنی اپنی سیاسی قیادت کو مبینہ کرپشن کیس سے بچانے کیلئے ایک دوسرے کو بلیک میل کرنے اور آئین و قانون کی زد سے بچنے کیلئے خفیہ ڈپلومیسی کے ذریعے نہ صرف NRO یا سیاسی ڈیل کی بنیاد پر سیاسی سہولتوں کے حصول میں لگی ہوئی ہیں بلکہ مبینہ طور پر ایک دوسرے کی پس پردہ خاموش حمایت سے اپنے نام نہاد مشیران اغیار جو مبینہ طور پر بیرونی فکر کی تکمیل کیلئے ملک میں ڈان گیٹ لیک کی طرز پر سیاسی حکومت اور ملٹری کے درمیان خلیج کو وسیع تر کرنے کیلئے مصروف عمل ہیں کو مہمیز دینے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ یہ لوگ ضرور کامیاب ہو جاتے اگر اشکِ سحرگاہی سے معمور مجاہدین وطن پاکستان فوج کی شکل میں دشمن کے عزائم کے آگے قربانیوں کا بند نہ باندھتے؟
درج بالا تناظر میں گزشتہ دنوں سابق صدر آصف علی زرداری جو فوج پر کڑی تنقید کرنے کے بعد ملک سے باہر چلے گئے تھے سے دامے درمے سخنے منسلک اور امریکہ میں صدر زرداری کی ہدایات پر تعینات کئے جانے والے پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی جو اعلیٰ عدلیہ کی انکوائری کمیشن سے پہلے ہی مفرور ہیں کی جانب سے امریکی انسٹی ٹیوٹ برائے امن (US Institute for Peace) کی حالیہ کانفرنس کے موقع پر دیکھنے میں آیاجب اُنہوں نے اتحادی سپورٹ فنڈ اور مستقبل کے پاکستان امریکی تعلقات کے حوالے کانفرنس میں موجود سابق گورنر اسٹیٹ بنک ڈاکٹر عشرت حسین کی جانب سے پاکستان کی حمایت کرنے پر تلخ کلامی کرتے ہوئے پاکستان ملٹری کو دی جانے والی امدادی رقومات روکنے کا مطالبہ کیا۔ حسین حقانی نے نریندر مودی کی زبان میں بھارتی معاشی ترقی کی تعریف کی جبکہ کانفرنس میں کچھ سابق امریکی اور بھارتی سفارتی نمائندے بھی موجود تھے۔ البتہ کانفرنس میں موجود امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ رابن رافیل نے کولیشن سپورٹ فنڈ کے حوالے سے حسین حقانی کا موقف تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔یاد رہے کہ حسین حقانی پاکستان آرمی پر بھارتی پروپیگنڈے کی بنیاد پر مذہبی شدت پسندوں سے مبینہ تعلقات پر پاکستان آرمی کو شدید تنقید کا نشانہ بنانے کے مشن پر کام کر رہے ہیں جس کا اظہار وہ ملکی مفادات کے خلاف اکثر کرتے رہتے ہیں چنانچہ یہی موقف اُنہوں نے امریکہ میں شائع ہونے والی اپنی دو کتابوں ملا اور ملٹری اور خوبصورت دھوکے بازی (Magnificent Delusions) میں غداروطن کے طور پر کیا ہے ۔ دوسری حیران کن تحریر لاہور سے شائع ہونے والے ویکلی اخبار فرائی ڈے ٹائمز میں نجم سیٹھی کے اداریہ اندرونی و بیرونی دباؤ (Internal and External Pressures) میں کی گئی ہے جسے ڈان میڈیا گیٹ کے صحافی سرل المیڈا نے گزشتہ روز اپنے ٹویٹ میں سراہا ہے۔