- الإعلانات -

خطہ میں بھارتی ارسٹوکریسی۔پاکستان کیلئے ناقابلِ قبول

’کہنہ اور فرسودہ بھارتی طرزِ فکر ‘کبھی کیا روشن خیالی میں یا پھر انسانیت پروری کے پُرامن سانچے میں ڈھل سکتی ہے‘ اپنے علاقائی کمزور پڑوسی ممالک مثلاً بنگلہ دیش‘ نیپال یا سری لنکا کی اقتصادی ناکہ بندی کرنے سے اپنے آپ کو روک کر یہ کہنہ اور فرسودہ بھارتی فکر کبھی اِس جانب مائل ہوگی بھی یا نہیں کہ بنگلہ دیش ‘ نیپال اور سری لنکا میں بھی کروڑوں انسان زندہ رہنے کی امنگ وترنگ رکھتے ہیں اُن کے بھی کچھ سیاسی واقتصادی حقوق ہونگے یا نہیں؟جنوبی ایشیا میں بھارتی غلبے کی خواہشات کی نئی دہلی کی نظر میں کچھ حدودوقیود ہیں یا نہیں ؟ یا نئی دہلی صرف اپنے خفیہ مشیروں کے تباہ کن جنونی نظریات پر ہر قیمت پر عمل پیرا رہنے میں اپنی علاقائی ’ارسٹو کریسی ‘ کو قائم کرنے میں یونہی بنا کہیں کچھ دیکھے سمجھے جتی رہے گی؟ اور اس کا یہ مذموم خطرناک مقصد کسی رکاوٹ کے بغیر پائیہ ِٗ تکمیل کو پہنچ جائے گا؟نہیں جناب ! اب ایسا بالکل نہیں چلے گا جنوبی ایشیا میں بھارت سے کم ازکم جغرافیائی اعتبار سے نہ سہی مگر ‘ اخلاقی و تمدنی اور ثقافتی اعتبار میں کئی گنا زیادہ طاقت ور ایک اسلامی ملک پاکستان بھی اپنا واضح بیّن محل ووقوع رکھتا ہے بین الاقوامی دنیا میں بھارت کی لاکھ بے تکی‘ لایعنی ‘ مروجہ سیاسی وسفارتی آداب ولحاظ کے منطقی جواز سے ماوراء توضیحات کی چیخ وپکار کے باوجود پاکستان ایسے ناقابلِ تسخیر ملک کے روپ میں اب آتا ہوا دکھائی دینے لگا ہے‘ جو کہ نہ صرف بھارتی علاقائی بالادستی کی راہ میں ایک ناقابلِ عبور سنگلاخ نما پتھر بن چکاہے دنیا بھر کے اہم ترقی یافتہ ممالک یہ تسلیم کرنے پر آمادہ کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کے طور پر لائق احترام بھی ہے پاکستان کو وقار کی علامت سمجھا جا نا ہی وقت کی ضرورت بھی ‘ چونکہ دنیا بھر کے اہم ممالک کے ’اسٹرئرنگ ‘ کا رخ اب ہر قیمت پر پاکستان کی جانب دکھائی دینے لگا ہے یقیناًیہ زمینی حقیقت باآسانی بھارت سے ہضم نہیں ہوپائے گی یہ بنیادی نکات ہیں، جن کی بناء پر بھارت نے اب اپنی تمام تر مبینہ مذموم کا وشوں کو بروئےِ کار لاتے ہوئے پاکستانی فوج کی توجہات مغربی بارڈر سے ہٹاکر مشرقی سرحدوں کی طرف مرکوز کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، قارئین خود اندازہ لگالیں کوئی، دن ایسا نہیں گزرتا ،جب بھارت کی طرف سے مشرقی بارڈرز پر بھارتی فوج لائن آف کنٹرول کی بین الاقوامی خلاف ورزی نہیں کرتی، باوجود اِس کے کہ بھارتی فوج کی خلاف ورزیوں پر پاکستانی سیکورٹی فورسنز کی جانب سے بہت ہی سخت منہ توڑ جواب فوری دیدیا جاتا ہے، دوسری جانب بھارتی پروپیگنڈا مشنری ہرروز نئے سے نئے جھوٹ گھڑتی ہے، شرم نام کی کوئی چیز بھارتی میڈیا کی جھوٹی کہا نتوں کے لئے وقعت نہیں رکھتی ،اُڑی کیمپ پر حملہ سے لے کر پاکستانی سرزمین پر ’تصوراتی انڈین سرجیکل اسٹرائیکس ‘ کی بے سروپا خبریں ‘ اور حال ہی میں پاکستان نے بھارت کی جانب سے جاسوسی کی تازہ ترین متعدد جارحانہ کوششوں کو ناکام بنا یا ‘ بھارتی جاسوس طیارے کو مارگرایا گیا، ایک جاسوس بھارتی آبدوز کو پاکستانی سمندری حدود میں داخل ہونے سے پاکستان کی چوکس نیوی نے ’شٹ اَپ‘ کال دیدی ‘جبکہ بھارتی فوج کی بین الااقوامی کنٹرول لائن پر تواتر کے ساتھ مسلسل بلا اشتعال فائرنگ کے بھی دلیرانہ جواب دینے میں سیکنڈ کی بھی تاخیر نہیں کی جاتی، پاکستانی سیکورٹی فورسنز کی جوابی دفاعی کارروائیوں کے نتیجے میں سرحد پار بھارتی فوج کا جو نقصان ہورہا ہے اُسے چھپانے میں وہ کامیاب بالکل نہیں ہورہا مگر نئی دہلی کی ڈھٹائی اپنی جگہ بدستور قائم‘ یہ ہے اصل میں بھارت کے جنگی جنون کی ایک انتہائی بھیانک تصویر! بھارت کا جنگی جنون خطے کے امن کے لئے بڑھتا ہی جارہا ہے جس کا عالمی اداروں کو نوٹس لینا ہی ہوگا ،بھارت کی طرف سے رواں برس 8 ؍جولائی کو مقبوضہ کشمیر میں بارڈرسیکورٹی فورسنز نے اپنی بہیمانہ چالاکی وعیاری سے اہلِ کشمیر کے نوجوان حلقوں میں مقبولیت پانے والے’ہیرو برہان وانی‘کو شہید کرکے کشمیریوں کے زخموں پر جو نمک چھڑکا وہ اِسی بہیمانہ اقدام کا نتیجہ بھگت رہے ہیں یہ ہیں حقائق ‘ جو جھٹلائے نہیں جاسکتے آزادی کی یہ لہر بھارتی فوج دبانے میں ناکام رہے گی، لاکھ بھارت کشمیر میں ابھرنے والی مقامی تحریکِ آزادی کو دہشت گردی کی کارروائیوں سے تشبیہ دیتا رہے، ا نصاف پسند غیر جانبدار دنیا کی نظر میں بھارت کے اِس غیر منطقی اور غیر انسانی موقف کی رتی برابر کوئی قدر قیمت نہیں ہے‘ لہذاء عالمی رویوں نے بھی بھارتی مایوسی کو اب شدید قسم کی جھنجھلاہٹ سے دوچار کر دیا ہے بھارت کے پاس اب کوئی چارہ نہیں رہا جبکہ اقوامِ متحدہ کے سربراہی اجلاس میں پاکستانی وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کروڑوں پاکستانیوں اور لاکھوں کشمیریوں کی ترجمانی کا حق ادا کیا اُنہوں نے برہان وانی شہید کو ’آزادی کا نڈر سپاہی ‘ قرار دیا تو بھارتیوں کی عقل اور آنکھیں یکدم پتھرا سی گئیں، تب جاکر دنیا کو پتہ چلا کہ بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کی بہیمانہ خلاف ورزیوں سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے کبھی ایل او سی پر فائرنگ کرکے پاکستانی شہریوں میں خوف وہراس پیدا کرنے لگ جاتا ہے اور کبھی مقبوضہ کشمیر میں اُڑی کے ملٹری کیمپ پر اپنی ہی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے تربیتِ یافتہ مسلح ایجنٹوں سے حملہ کرواکر اپنے ہی فوجیوں کو ہلاک کرنے جیسی انتہائی قبیح حرکت کرنے پر آجاتا ہے پاکستان بھارت تنازعات کی بے حد تلخ تاریخ کا بے لاگ اور غیر متعصبانہ تجزیہ کرنے والوں کا یہ کہنا اور یہ ماننا کتنا صحیح ہوگا اِس کا جواب فی الحال کسی کے پاس نہیں ‘ وہ کہتے ہیں بھارت کو پاکستان کی تقسیم کل بھی نامنظور تھی اوّل روز سے پاکستان کو دنیا کی نظروں میں زچ کرنے ‘ پسپا کرنے ‘ سیاسی ہزیمت سے دوچار کرنے اور سفارتی سطح پر پشمانی میں مبتلا کرنے میں بھارت نے اپنی پوری سیاسی طاقت داؤ پر لگادی کہ’ پاکستان کو دنیا بھر میں تنہا کردیا جائے ‘یہ مودی کی پہلی سوچ نہیں ہے ‘ بلکہ 69 برس قبل ولبھ بھائی پٹیل جیسا انتہائی بدبودار متعصب ہندو لیڈر نے بھی ایسا ہی سوچا ہوا تھا جس کی اِس بھیانک اور مکروہ سوچ کا اسیر نام نہاد سیکولر کانگریسی لیڈر نہرو بھی بالا آخر ہو ہی گیا ،تبھی تو کشمیر میں بھارتی فوج اُتاری گی تھی، جب جنگ میں نہرو نے شرمناک پسپائی دیکھی تو وہ فوراً بھاگم بھاگ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں جاپہنچا ،یہ سب کچھ سوچا سمجھا منصوبہ تھا، لہذا کشمیر میں آج جوکچھ ہورہا ہے حقائق پر مبنی یہ وہ تاریخ ہے جس سے بھارت کو بھاگنے کا موقع نہیں ملے گا، یہ آزادی ِٗ کشمیر کی لہر ہے ،کروڑوں پاکستانیوں نے شہید برہان مظفروانی کی شہادت پر کل بھی تشویش ناک غم وغصہ کا برملا اظہار کیا ہم برہان وانی کو آزادیِ کشمیر کا تاریخ ساز ہیرو سمجھتے ہیں دیکھا نہیں زمانے نے‘ جن کے جنازے میں لاکھوں افراد نے شر کت کرکے عالمی برادری کو واضح پیغام د یا ہے کہ کشمیری کسی قیمت پر بھارت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے، شہید برہان وانی کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفنایا گیا اور کشمیریوں کے اِس کھلے اور واضح اقدام سے کیا دنیا اب تک یہ نہیں سمجھ سکی کہ’’ کشمیری عوام پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں‘‘۔ کالم کی تحریر کے اختتامی لمحوں میں یہ انتہائی تشویش ناک اطلاعات موصول ہوئیں کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی افواج نے23 ؍نومبر کی صبح کو بڑی سفاکانہ وحشت وبربریت کا مظاہرہ کیا پاکستانی فوج کے ایک کیپٹن سمیت تین جوان شہید کردئیے جبکہ جنگی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جہاں شہریوں کو شہید اور زخمی کیا وہاں بھارتی فوج نے ایک ایمبولینس کو بھی اپنی درندگی کا نشانہ بنایا ‘اہلِ وطن بھارتی جارحیت کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے اپنی جمہوری حکومت سے یہ اہم مطالبہ کرنے میں یقیناًحق بجانب کہ ’بھارت کو اب اُس کی زبان میں