- الإعلانات -

بھارتی جارحیت اور ہماری ناکام خارجہ پالیسیاں

مودی کے اقتدار سنبھالتے ہی اس بات کے خدشات ظاہر کئے جانے لگے تھے کہ مودی گجرات میں مسلم کش فسادات کے اہم کردار کو پھر اپنے دور اقتدار میں ضرور دہرانے کی کوشش کریں گے۔کیونکہ یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ بھارتی حکومتیں اور خاص طور پر مودی سرکار شروع دن سے ہی بھارت کے اندر شیو سینا اور اس جیسی کئی انتہا پسند تنظیموں کے سامنے بے بس نظر آئیں گے،بلکہ بھارتی انتہا پسند تنظیموں کا اثر رو رسوخ بھارت کے اندر اس قدر زیادہ ہے کہ وہ پاکستان دشمنی میں جو بھی قدم اٹھائیں مودی سرکار بھی ماضی کی بھارتی حکومتوں کی طرح ان کے غلط اور ظالمانہ اقدامات کے سامنے ہمیشہ بے بس ہی نظر آتے ہیں۔کچھ ایسا ہی ان دنوں بھارتی فوجیوں کی جانب سے پاکستانی بارڈرز کی سنگین خلاف ورزیوں کی صورت میں دنیا بھر کے سامنے آشکارا ہے۔اکا دکا فائرنگ اور سرحدی جارحیت تو کسی نہ کسی صورت میں بھارت کی طرف سے سارا سال ہی جاری رہتی ہے مگر ان دنوں لائن آف کنٹرول اور ورکنگ با ؤ نڈری پر تو اس نے باقاعدہ بھاری ہتھیاروں کے ساتھ جنگ شروع کر رکھی ہے۔جس سے گزشتہ تین ماہ کے دوران بڑے پیمانے پر نا صرف افواج پاکستان کے جوانوں کی شہادتیں ہوئی ہیں ہیں بلکہ اس کی وجہ سے سرحدی دیہات میں تو نہتے اور معصوم شہریوں کیلئے اپنے گھروں کے اندر رہنا ہی محال ہو گیا ہے،چونکہ مودی سرکار سے کوئی بات بھی بعید نہیں وہ ظلم اور بر بریت اور انسانیت سوز مظالم میں کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں ۔جس کا مظاہرہ گزشتہ دنوں اس وقت دیکھنے میں آیا جب بھارتی افواج کی طرف سے وادئی نیلم کی شاہراہ پر مسافر بس کو نشانہ بنا کر سات لوگوں کو شہید کردیا گیا اور اس پر ہی بس نہیں ،زخمیوں کو لے جا نے کیلئے آنے والی ایمبولینس کو بھی نہ بخشا گیا اور وہ بھی بھارتی گولہ باری کی زد میں آگئی،بھارتی سورماؤں اور ان کی انتہا پسند تنظیموں کو ،کہ جنہیں با قاعدہ بھارتی حکومت کی سرپرستی حاصل ہے،انھوں نے کبھی بھی دل سے آج تک پاکستان کے وجود کو برداشت نہیں کیا ،وہ پاکستان کو پھلتا پھولتا اور ترقی یافتہ ملک کی صورت میں آگے بڑھتا کبھی نہیں دیکھ سکتے۔غور طلب بات یہ ہے کہ بھارتی خلاف ورزیوں اور سرحدپر اس کی جارحیت میں ا س وقت تیزی دیکھنے میں آئی جب پاکستان چین اقتصادی راہدار ی پر نہ صرف کام کا باقاعدہ آغاز ہوا بلکہ عملا باقاعدہ آمدورفت بھی شروع ہو چکی ہے۔ہماری افواج بڑے ہی موثر انداز میں ان کو منہ توڑ جواب دے رہی ہیں اور خود بھارتی حکومت اچھی طرح جانتی ہے کہ پاکستانی افواج کی دلیرانہ صفات کیسی ہیں اور پاکستان مکمل طور پر اپنی ارض پاک کے ایک ایک انچ کی حفاظت کرنا جانتی ہیں ،آئیڈیاز 2016ہتھیاروں کی نمائش سے اسکی نیندیں حرام ہو چکی ہیں اور ان کے سینوں پر سانپ لوٹ رہے ہیں ۔مگر اصل دیکھنے والی بات یہ ہے کہ اس ساری بھارتی جارحیت کے خلاف ہماری حکومت بھارت کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے کتنا کردار ادا کر رہی ہے،ہر دن کے نقصانا ت پر سوائے چند الفاظ مزمت کے کچھ بھی نہیں ہو رہا۔بڑے لمبے عرصے سے بھارت را کے ذریعے پاکستان کے اندر جو کاروئیاں کر رہا ہے ،اور جو جاسوس پکڑے گئے ہیں کہ کہ کس طرح بھارت کھلے بندوں پاکستان کی سالمیت کیلئے خطرہ بن رہا ہے،ان تمام حقائق کے باوجود موجودہ حکومت اس قابل نہ ہو سکی کہ وہ عالمی برادری ،اقوام متحدہ،او آئی سی یا دوسرے بین ا لاقوامی امن کے اداروں کو قائل کر سکے کہ وہ بھارت کو لگام ڈالیں کیونکہ ،بھارت جس چنگاری کو ہوا دے رہا ہے اس کے نتائج عالمی جنگ کی صورت پورے خطے کو لپیٹ میں لے سکتا ہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی کن نقاط پر آگے بڑھ رہی ہے اس کا کچھ اتا پتا اس لئے نہیں کیو نکہ جس ملک میں وزارت خارجہ جیسے اہم ترین قلمدان کا اتا پتا ہی نہ ہو یہ کس کے پاس ہے وہاں واضح خارجہ پالیسی یا دنیا کو بھارتی مظالم سے آگاہ کر کے اسے بے نقاب کر نے کے احداف کیسے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔بارہا مواقعوں پر عالمی امن کے نام نہاد ٹھیکیداروں کو مکمل شواہد اور بھارت کی پاکستان کے اندر کی جانے والی کاروائیوں پر مبنی رپورٹس پیش کی جاتی رہیں مگر ان سب با توں کے باوجود نتائج صفر ہیں ۔اپنی اس مکمل ناکام سفارت کاری اور کسی واضح خارجہ پالیسی کے عدم موثر ہو نے کو موجودہ حکومت کھلے دل سے تسلیم کرے اور تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد عالمی اداروں اور دنیا بھر میں اپنے سفارتی مشنریز کو موبلائز کرے کہ وہ بھارتی جارحیت ،ظلم و بر بریت اور عالمی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرے۔چین،سعودی عرب جیسے دوست ممالک کو ساتھ ملا کر واضح طور پر امریکہ سمیت عالمی اداروں کو بھاتی ناپاک عزائم کو ختم کر نے کیلئے اپنا کردار ادا کیا جانا ضروری ہے۔کیونکہ بات اب بہت آگے نکلتی نظر آرہی ہے ۔ہم شدید جارحیت کا شکار ہو نے کے باوجود بھی اگر دنیا کے سامنے بھارتی ناپاک عزائم کو بے نقاب کر نے میں کامیاب نہیں ہو پاتے تو یہ خود ہماری ملکی سالمیت و خود مختاری پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہوگا۔بھارت کو دو ٹوک جواب کے ذریعے واضح کر دینا چاہئے کہ وہ اکیلا ہے ،اور دنیا اسے پریشرائز کرے کہ وہ کشمیر میں جاری مظالم ہوں یا سرحدی خلاف ورزیاں ان سے باز رہے۔جب تک ہمیں اسے اسکے ناپاک عزائم کو آشکارا کر کے دنیا میں تنہا نہیں کر دیتے اس وقت تک ہماری حکومت کی ناکام کارجہ پالیسی پورے ملک کے عوام کیلئے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بنی رہے گی۔

حکمت کی باتیں
ایک حکیم دانا کاقول ہے کہ عمل کی سلامتی کیلئے چار باتیں ازحد ضروری ہیں۔علم ،نیت ،صبر ، اخلاص۔
علم:کسی بھی عمل کو شروع کرنے سے پہلے اس عمل کا علم ضروری ہے۔کیونکہ کوئی عمل بغیر علم کے درست نہیں ہوسکتا ،جب عمل بغیر علم کے ہوتووہ اکثر وبیشتر درست ہونے کی بجائے فساد اورانتشار کا شکار ہوجاتا ہے۔نیت:۔ کسی بھی عمل کو درست سمت میں بجا لانے سے پہلے نیت ضروری ہے کیونکہ نیت کی درستگی کے بغیر کوئی بھی عمل درست نہیں ہوسکتا جیساکہ حضورﷺکا ارشاد گرامی ہے۔’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے بے شک ہر شخص کیلئے وہی کچھ ہے جو اس نے نیت کی ہو‘‘۔صبر:۔ عمل کے دوران صبر کا دامن بھی ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے تاکہ اسکی ادائیگی اطمینان وسکون سے ہواور انسان کی شخصیت کا اعتماد ووقار بھی بحال رہے۔اخلاص :۔صدق دل اورخلوص سے نیت سے کیاجانے والا عمل کبھی رائیگاں نہیں جاتا اوراخلاص کے بغیر کی عمل قابلِ قبول بھی نہیں ہوتا۔ جب تیرا عمل مخلصانہ ہوگا تو اللہ تبارک وتعالیٰ بھی اسے قبولیت سے سرفراز فرمائے-

زیرسماعت۔۔۔ شوق موسوی
وہ کارناموں! کو کب سے چھپا کے بیٹھے تھے
پرانی دال کے اندر اُبال اُٹھیں گے
جواب دینے پڑیں گے سبھی سوالوں کے
جواب دینے پہ تازہ سوال اُٹھیں گے