- الإعلانات -

وزیراعظم قتل وزیراعظم پھانسی

سید خورشید شاہ قومی اسمبلی کے ممبر ہیں اور پیپلزپارٹی کے سندھ سے ممبر قومی اسمبلی بن کر اسمبلی میں آئے ۔ شاہ صاحب کی جماعت قومی اسمبلی میں سب سے بڑی اپوزیشن جماعت بن کر ابھری ہے۔ اپوزیشن میں آنے سے پہلے شاہ صاحب کی جماعت نے ملک اور قوم پر خوب راج کیا ۔ جس وجہ سے ان کی جماعت کو اپوزیشن جماعت کا اعزاز حاصل ہوااور جماعت نے سید خورشید شاہ کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مقرر کیا ۔ اپوزیشن لیڈر بننے سے پہلے سید خورشید شاہ کی جماعت نے ملک میں دو تین مرتبہ اقتدار کے مزے لوٹے ہیں اور یہ بھی درست ہے ۔ کہ جماعت کے حقیقی سربراہ و بانی ذوالفقار علی بھٹو اقتدار اعلیٰ تک پہنچنے سے پہلے ایوبی مارشل لاء کے وزیر خاص تھے جمہوریت پسند بھٹو جنرل ایوب خان کے بڑے ہی Fan اور وزیر خاص بھی رہے ہیں اقتدار کے مزے لوٹنے کے بعد ذوالفقار علی کو پھانسی دی گئی۔ ان کا جرم کیا تھا۔؟ کیا وہ اس سزا کے حقدار تھے بھی ۔ اور کیا اس سزا کیلئے ہمارے حکمرانوں کو غیر ملکی آشیرباد بھی حاصل تھی یا نہیں ۔ یہ تو طیارہ میں ہلاک ہونے والے ضیاء الحق ہی بتا سکتے تھے ۔ کیونکہ کہتے ہیں کہ سزاوار کرانے میں امریکہ کا بھی کردار تھا۔ بھٹو پھانسی چڑھ گیا ۔ ضیاء الحق صدر پاکستان فضا میں اپنے درجنوں ساتھیوں سمیت اڑتے اڑتے زمین پر آگر ے مگرپتہ تک نہ چلا کہ اتنا بڑا حادثہ کیسے ہوا۔ جس میں صدر پاکستان اور کئی دوسرے جرنیلوں کے علاوہ امریکی سفیر اور فوجی اتاشی کے ہمراہ ہلاک ہوگئے ۔ مگر معلوم نہ ہوسکا ۔ کہ اس حادثہ میں کون کردار تھا ۔؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ امریکہ نے اپنے لوگوں کی قربانی دے کر نیوکلیئر پاکستان موجد سے بھی جان چھڑائی ۔ سابق وزیراعظم لیاقت علی خان کو راولپنڈی میں قتل کردیا گیا قوم کو نہ بتایا گیا کہ ملک کا وزیراعظم کس جرم کی سزا پا گیا ۔؟ اس کے قتل کی وجوہات کیا تھیں قاتل کون تھے ۔ ؟اور ان قاتلوں کے پیچھے کون تھے ۔ ؟اور ملک کے وزیراعظم کو قتل کرنے والوں کو کیا سزا ہوئی۔؟ لیاقت علی خان کے بعد دوسرے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو تھے ان کو اقتدار سے الگ کراکر تختہ دار پر چڑھا دیا گیا اس مقدمے کو ضیاء الحق کی ذاتی تحظ کی کہانی کہا جائے تو بھی غلط نہ ہوگا۔ یہ بھی سچ ہے کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ضیاء الحق نے کسی بڑی سازش کے تحت تختہ دار پرچڑھایا اور پھر ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر چڑھانے والے ضیاء الحق کو ایسی موت دی گئی کہ دنیا دنگ رہ گئی۔ یہ سزا کس نے دی ۔ ؟یہ حادثہ کس نے کرایا۔؟ آخر ملک کے درجن جرنیل اور امریکی سفیر وغیرہ کو ایک طیارے میں کیونکہ اکٹھا کی اگیا جب کے سب کیلئے اپنا اپنا بندوبست تھا ۔ اور ضیاء الحق کی جان لینے کے لئے گہیوں کے ساتھ گھن کو پیس دیا گیا ۔ یوں ایک بار پھر ملک کے سربراہ کو فضائی حادثے کی صورت موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ آج تک قوم کو اس حادثے کی رپورٹ سے بھی آگاہ نہ کیا گیا گیا ۔ پھر سابق وزیراعظم کی بیٹی اور سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو کراچی میں قتل کر نے کیلئے خود کش دھماکے کرائے ۔ گئے مگر معلوم نہ ہوسکا کہ کراچی میں سینکڑوں افراد کے قتل کے پیچھے کون تھا۔ کیا یہ کام حکام کا نہ ہے کہ وہ کسی بھی واقعہ کے مجرموں کو تلاش کرے مگر ایسا نہ ہوسکا ۔ حتی کہ بے نظیر بھٹو کے خاوند نے ملکی صدارت کے مزے لوٹے مگر اپنی بیوی پر قاتلانہ حملے اور سینکڑوں ساتھیوں کے قتلوں کے ملزموں کی تلاش نہ کرسکے ۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے ملک کی صدارت کے دوران کیا کچھ کمایا ؟اور ملک کے ساتھ کیا کچھ کیا ۔؟ یہ الگ الگ کہانی ہے ۔ مگر یہ بات بڑی تکلیف دہ اور حیرت انگیز ہے کہ ملک کا صدر ہوتے ہوئے وہ اپنی بیگم یعنی سابق وزیراعظم پاکستان بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کی نہ تو نشاندہی کرسکے اور نہ ان کی گرفتاری کرسکے سزا تو اگلا مرحلہ ہے ۔ یہ تماشے ملک میں عشروں سے ہورہے ہیں ۔عوام اپنی قسم کی سزا سے دوچار ہیں اور خواص اپنے مسائل کے شکار ہیں قوم اپنی دال روٹی کے چکر میں مبتلا ہیں ۔ تو حکمران اپنی لوٹی میں مصروف ہیں سید خورشید شاہ کے حوالے سے ایک قومی روزنامے میں خبر چھپی کہ ہر حکومت فلاح و بہبود کے بجائے ٹائم پاس کرکے چلی جاتی ہے یقیناًخورشید شاہ نے سو فیصد درست کہا مگر خورشید صاحب مرکز میں تو ان لوگوں کی حکومت ہے کہ جن کے ساتھ آپ نے جمہوریت بچانے کے معاہدے کئے تے اور سندھ میں آپ کے اپنے شاہ صاحب کی حکومت ہے ۔ آپ وزیراعلیٰ سندھ کو یہ بات بتائیں کہ یہ حکومت فلاح بہبود کی بجائے وقت پاس کرکے چلی جاتی ہے ۔ اور اسطرح ملک اور قوم کے مسائل اتنے بڑھ جاتے کہ وزیراعظم قتل ہو کہ وزیراعظم پھانسی پر چڑھ جائے یا صدر کو فضا میں ساتھیوں سمیت ہلاک کردیا جائے قوم ان معاملات اور مسائل سے پردہ اٹھانے کی بجائے اپنی دال پانی کی فکر کرے گی حکمران یوں ہی وقت گزارتے جائیں تو وہ اپنا انجام دوسروں کیلئے باعث عبرت چھوڑتے جائینگے ۔