- الإعلانات -

دہشتگردی کیخلاف عدم برداشت کی پالیسی جاری رکھنے کا عزم

سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو کوئی تنہا نہیں کرسکتا ، دنیا پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا رہی ہے اپنی سرزمین ہمسایہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ دہشت گردی کے خلاف ہماری عدم برداشت کی پالیسی جاری رہے گی۔ مسئلہ کشمیر طاقت سے نہیں دبایا جاسکتا ۔ بھارتی رویہ جارحانہ ہے جواس کیلئے بھی خطرناک ہے ۔ ایل او سی پر کشیدگی بڑھانا جرم ہے۔ سیکرٹری خارجہ نے بجا فرمایا ہے مسئلہ کشمیر کو ریاستی تشدد اور طاقت کے بل بوتے پر نہیں دبایا جاسکتا۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور اسکی خواہش ہے کہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام متنازعہ مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے لیکن بھارت کا جارحانہ رویہ پاکستان کی امن کاوشوں کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن رہا ہے ۔ بھارت ایک طرف کشمیریوں پر ظلم و ستم ڈھا رہا ہے تو دوسری طرف پاکستان کے اندر دہشت گردی میں بھی اس کا عمل دخل ہے اور’’را‘‘ کے ذریعے دہشت گردی طشت ازبام ہوچکی ہے اور پاکستان اس کے خلاف مسلسل اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتا چلا آرہا ہے پاکستان کو بھارت سے جو تشویش ہے اس سے عالمی برادری بے نیاز اور بے خبر نہیں ہے۔ بھارت لائن آف کنٹرول کی بھی مسلسل خلاف ورزی کرتا چلا آرہا ہے اور اس کی جارحیت آئے دن بڑھتی ہی چلی جارہی ہے ۔ مودی کی انتہا پسندانہ سوچ خطے کے عوام کیلئے خطرات پیدا کررہی ہے ۔ بھارت کے مذموم عزائم آشکار ہوچکے ہیں اور پاکستان اپنے دفاع سے نہ ہی غافل ہے اور نہ ہی کوئی اس کو تنہا کرسکتا ہے۔ پاکستان کی بہادر افواج دشمن کو دندان شکن جواب دینے کیلئے تیار ہے اور وہ دشمن پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ پاک بھارت کشیدگی کا بڑھنا خطے کے امن کیلئے خطرہ ہے ۔ پاکستان جس صبروتحمل کا مظاہرہ کررہا ہے وہ لائق تحسین ہے لیکن بھارت پاکستان کے اندر عدم استحکام پیدا کررہا ہے اور پاکستان کے برداشت کو کمزوری گردان رہا ہے جو اس کی غلط فہمی ہے ۔ پاکستان بھارت کے دانٹ کھٹے کرنے کی صلاحیت رکھتاہے بھارت دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیرسے ہٹانے کیلئے پاکستان مخالف پروپیگنڈا کررہا ہے۔بھارت دراصل عالمی برادر کی التفات کشمیری عوام کے مظالم سے ہٹانے کی ناکام کوشش کررہا ہے۔ عالمی برادری بھارت مظالم سے بخوبی آگاہ ہے۔ پاکستان کشمیریوں کی اس وقت تک اخلاقی ، سیاسی اور سفارتی مدد کرتا رہے گا جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا اور کشمیریوں کو حق خودارادیت نہیں دیا جاتا ۔ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کو چاہیے کہ وہ اپنی منظور کردہ قراردادوں کے تناظر میں مسئلہ کشمیر کو حل کرانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں ۔ برسوں سے مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونا ان اداروں کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان بنتا جارہا ہے ۔ بھارت پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے دہشت گردانہ کارروائیاں کروا رہا ہے لیکن یہ اپنے عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکے گا۔عالمی اداروں کو چاہیے کہ وہ بھارتی دہشت گردانہ کارروائیوں کا نوٹس لیں اور بھارتی جارحیت کو روکنے کیلئے کردار ادا کریں ۔ پاک بھارت کشیدگی سے جہاں خطے کا امن تباہ ہونے کا خطرہ ہے وہاں خطے کی ترقی اور خوشحالی بھی متاثر ہورہی ہے ۔ بھارت لائن آف کنٹرول پر بھی بلا اشتعال فائرنگ کرکے سرحدی قوانین کی دھجیاں بکھیر رہا ہے اور اس کی جارحیت کا پاکستان منہ توڑ جواب دے رہا ہے۔ بھارت پاکستان کی امن پسندی کو کمزوری نہ گردانے پاکستان کی بہادر افواج وطن کے دفاع سے ہرگز غافل نہیں ہے۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی عدم برداشت کی پالیسی خطے میں امن و استحکام کیلئے ہے بھارت ہوش کے ناخن لے اور اپنی جارحیت سے باز رہے۔
پاکستان کیخلاف بھارتی ہرزہ سرائی
بھارتی پنجاب کے نائب وزیراعلی سکھبیر سنگھ بادل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بیان میں ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہاکہ لائن آف کنٹرول پر فوج کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیک کے بعد پڑوسی ملک نے دہشتگردی کو پھر سے شروع کردیا ہے ۔ خالصتان تحریک کے رہنما ہرمندر سنگھ منٹو کے جیل سے فرار ہونے کے واقعے میں پاکستان ملوث ہوسکتا ہے۔انکا کہنا تھاکہ ریاستی حکومت جیل توڑنے کی سازش کو ہر صورت میں بے نقاب کرے گی ۔ہم ہر قیمت پر دہشتگرد گینگسٹر کے جیل توڑنے کی ساش کو سامنے لائیں گئے ۔ریاستی پولیس انتخابات سے قبل پنجاب میں دہشتگردوں اور جرائم پیشہ عناصر کی سازش کی تحقیقات کرہی ہے ۔واضح رہے کہ بھارتی پنجاب میں مسلح افراد نے جیل پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں خالصتان تحریک کے اہم رہنما ہرمندر سنگھ منٹو 5 ساتھیوں سمیت فرار ہو گئے۔بھارتی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے ملزمان کو فرار کرانے کے لئے ٹویوٹا گاڑی استعمال کی تاہم پنجاب کی سرحد ہریانہ اور جموں کشمیر جانے والے راستوں پر سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔حملہ آوروں نے سو سے زائد راونڈز بھی فائر کئے۔بھارتی حکام نے اس واقعہ کا الزام بھی پاکستان پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ ہرمندر سنگھ منٹو نے 2010 میں یورپ کا دورہ کیا اور جون 2013 میں بھی پاکستان سے یورپ کے 11 ماہ کے طویل دورے کے لئے روانہ ہوئے جہاں سے وہ اٹلی، بیلجیئم، فرانس، جرمنی اور دیگر یورپی ممالک سے ہوتے ہوئے جنوب مشرقی ایشیا پہنچے۔خالصتان لبریشن فورس کے49 سالہ سربراہ ہرمندرسنگھ 2014 سے جیل میں تھے، ان کی گرفتاری کو بھارتی سرکار کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف بھارتی پنجاب میں کیے جانے والے آپریشن کی سب سے بڑی فتح قرار دیا گیا تھا۔پاکستان پر بھارتی الزام تراشی سمجھ سے بالاتر ہے۔بھارت کا معاملہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹنے والا ہے۔
حکومت مخالف تحریک کی حمایت
تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ 27دسمبرکے بعد پیپلزپارٹی نے تحریک شروع کی تو لبیک کہیں گے،کراچی میں امن کی بحالی میں رینجرز نے اہم کردار ادا کیا ، پاناما کے حوالے سے ثبوت عدالت میں پیش کردیئے ہیں، عدالت کا جو بھی فیصلہ ہوگا ہمیں قبول ہوگا۔ پاناما کیس کے حوالے سے ثبوت عدالت میں پیش کردیئے ہیں، اب عدالت کا جو بھی فیصلہ ہوگا ہمیں قبول ہوگا۔مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں سڑکوں پر آنے والے پیپلز پارٹی کے فیصلے کو ویلکم کرتے ہیں ۔ حکومت کو بھارت کے ساتھ فی الفور تجارت معطل کرنی چاہیے،بھارت جارحیت بند نہیں کرسکتا تو کیا ہم تجارت بند نہیں کرسکتے،سندھ میں سیاسی خلاء پیدا ہوتا دکھا ئی دے رہا ہے۔ اندرون سندھ پیپلزپارٹی کا ووٹ بنک ہے،احترام کرنا ہوگا،ایک بڑا طبقہ پیپلزپارٹی کی گورننس سے مطمئن نہیں ،اب یہ طبقہ پڑھی لکھی قیادت کی طرف دیکھتا ہے،کراچی شہر میں ایم کیو ایم غالب تھی لیکن اب منقسم ہے،محب وطن طبقہ سمجھتا ہے پی ٹی آئی ترجمانی کرسکتی ہے۔ سندھ کی منفرد ثقافت کا اعتراف کرتے ہیں،تحریک انصاف سندھ میں یوم ثقافت منانے کی تائید کرتی ہے،ہمارے کارکنان یوم ثقافت میں حصہ لیں گے،سندھ وفاق کی اہم اکائی ہے۔تحریک انصاف کا پیپلز پارٹی کی طرف سے حکومت مخالف تحریک کی حمایت حکومت کیلئے درد سربن سکتی ہے۔