- الإعلانات -

الوداع راحیل شریف

جنرل راحیل شریف کا عہد تمام ہوا ، اب وہ تاریخ کی امانت ہیں اور تاریخ ہی اپنی امانت کے بارے میں صائب فیصلہ کرتی ہے۔تاہم تاریخ کی اس حیثیت کے اعتراف کے باوجود ایسا نہیں ہوتا کہ کسی شخص کے بارے میں سب کچھ تاریخ پر چھوڑ دیا جائے ۔لمحہ موجود کی شہادت بھی تزکیہ الشہود کے معیار سے فروتر قرار نہیں دی جا سکتی،مردِ کامل تو ہم میں سے کوئی بھی نہیں کہ خطاؤں سے پاک ہو ،ایک جمع تفریق ہی ہے جس پر کسی شخص کو پرکھا جا نا چاہیے کہ خوبیوں کا پلڑا بھاری تھا یا خامیوں کا۔اس میزان پر پرکھا جائے تو جنرل راحیل شریف اپنی ذمہ داریوں کے باب میں بڑی حد تک سرخرو ہیں۔چند اہل سیاست،جنہیں سماج کے شعور اجتماعی نے ٹھکرا دیا ہے،اورپاؤں جلی بندریا کی طرح ہیجان کے شکار چند اینکرز کی رائے البتہ دوسری ہے ،وہ راحیل شریف سے خفا خفا ہیں ۔اس کی وجہ راحیل شریف نہیں یہ حضرات خود ہیں کیونکہ انہوں نے جنرل صاحب پر اپنے تئیں کچھ ایسی ذمہ داریاں بھی عائد کر رکھی تھیں جو بہر حال آرمی چیف کے فرائض منصبی کا حصہ نہیں ہیں اور ایک آرمی چیف ظاہر ہے کہ ان ذمہ داریوں کو نبھانے کا پابند نہیں جو نیم خواندہ اور ناتراشیدہ اینکرز نے ان پر عائد کر رکھی ہیں ،وہ صرف ان ذمہ داریوں کا مکلف ہے جو ریاست کے دستوری اور عسکری ڈھانچے نے اس پر عائدکی ہوتی ہیں۔
مثال کے طور پر اگر اہل سیاست میں سے کوئی کرپٹ ہے تو اس کا احتساب کرنا جنرل راحیل کی ذمہ داریوں میں سے نہیں تھا۔یہ ذمہ داری کچھ اور اداروں کی ہے۔ہم اس معاملے میں جنرل راحیل ے کوئی شکوہ نہیں کر سکتے۔قانون اگر بڑے بڑے مگر مچھوں کو اپنی گرفت میں نہیں لے پا رہا تو اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے۔احتساب اور کرپٹ لوگوں کی سرکوبی فوج کی ذمہ داریوں میں نہیں ہے۔بطور آرمی چیف ان کی جو ذمہ داریوں تھیں ان میں وہ بڑی حد تک سرخرو ہیں۔اگر مگر کی گنجائش کہاں نہیں ہوتی، لیکن سامنے کی حقیقت یہ ہے کہ جنرل راحیل ہماری عسکری تاریخ کے پہلے چیف ہیں جو وقت پر ریٹائر ہوئے اور کسی جمہوری حکومت کو گھر نہیں بھیجا۔یہ خوبیاں ان سے پہلے کسی چیف میں نہیں تھیں۔بعض حضرات جنرل عبدالوحیدکاکڑ کا نام لیتے ہیں اور کاکڑ فارمولے کو بھول جاتے ہیں جس کے ذریعے صدر اور وزیر اعظم دونوں کو گھر جانا پڑا تھا۔
جنرل راحیل جب آئے تو دہشت گردی کا عفریت اس سماج کو نگل ہی رہا تھا، آج جب وہ جا رہے ہیں تو اس مسئلے پر بڑی حد تک قابو پالیا گیا ہے۔نان سٹیٹ ایکٹرز اب اتنے طاقتور نہیں رہے جتنے ان کے آنے سے پہلے تھے۔دہشت گردی کی کارروائیاں بے شک اب بھی جاری ہیں اور ظاہر ہے کہ ہم جس ماحول میں رہ رہے ہیں معیشت کی طرح دہشت گردی بھی گلوبلائز ہو چکی ہے اور بلوچستان میں بہت سے ممالک کو تکلیف ہے اور وہ آپریٹ کر رہے ہیں جن میں برادر مسلم امہ بھی موجود ہے۔اس لیے یہ سلسلہ تو چلے گا لیکن تین سال کے دورانیے میں اس کے خلاف جو کچھ کیا جا سکتا تھا ،میرا خیال ہے کہ جنرل نے کر دکھایا ہے۔سی پیک اور گوادر پورٹ کے سارے عمل میں بھی جنرل راحیل نے اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھایا۔جنرل کے اقدامات سے بہت سے لوگوں کو تکلیف ہوئی اور انہوں نے اینٹ سے اینٹ بجانے کی باتیں بھی کیں ۔سیاست اور جرم کا جو ایک کارٹل بن گیا ہے وہ بھی جنرل سے ناخوش تھا ۔ان کا خیال تھا ضرب عضب میں کارروائی صرف مذہبی عناصر کے خلاف ہو گی جب وہ دہشت گردی کے دیگر ذرائع تک پہنچی تو یار لوگ بلبلا اٹھے اور اینٹ سے اینٹ بجانے دوبئی چلے گئے۔جنرل راحیل صاحب کے دور میں البتہ ایک چیز ایسی ہے جس پر نقد ہو گا اور آنے والے دنوں میں اہل سیاست اس پر بات کریں گے اور وہ ہے جنرل مشرف پر قانون کا اطلاق۔تاہم مجموعی اعتبار سے جنرل راحیل شریف کا دور زریں