- الإعلانات -

ریلوے کا قدیم اسٹیشنوں کی اصلاح کا فیصلہ خوش آئند

پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں ریلوے کا نظام متعارف کرانے کا سہرا برٹش حکومت کے سر پہ ہے گو کہ یہ اقدام برصغیر پاک و ہند میں تاج برطانیہ کی عمل داری کو مضبوط و مستحکم بنانے کی غرض سے اٹھایا گیا تھا مگر اس کے ثمرات اور فوائد عام آدمی تک بھی پہنچے اس وقت پبلک ٹرانسپورٹ کا کوئی واضح سسٹم موجود نہ تھا اس لئے بہت جلد عوامی حلقوں میں ریلوے نے پذیرائی حاصل کرلی اور برصغیر کے تقریباً تمام بڑے شہر بلکہ ریلوے ٹریک جہاں جہاں سے بھی گزرا وہ ان شہروں ،قصبوں ، دیہاتوں کو آپس میں باہم مربوط طریقہ سے جوڑتاگیا۔ پاکستان کے دونوں حصوں یعنی مشرقی اور مغربی پاکستان میں چونکہ ریلوے ٹریک برٹش حکومت نے بچھایا تھا اس لئے وہاں ریلوے اسٹیشنوں کی تعمیر بھی انہوں نے کی قیام پاکستان کے بعد بدقسمتی سے ریلوے نظام کو بہتر بنانے اور جدید تقاضوں کے ہم آہنگ بنانے کیلئے کام کرنے کی بجائے اسے زوال پذیر بنانے کیلئے کام کیا جاتا رہا چونکہ اسمبلیوں میں مختلف علاقوں سے ٹرانسپورٹر حضرات آکر بیٹھ گئے چنانچہ انہوں نے اسکی تباہی میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی ملک کے ایک بہت بڑے اور معروف ٹرانسپورٹر سالہا سال تک ریلوے کیلئے ٹائم ٹیبل بنانے والی کمیٹی کے ممبر کے طورپر کام کرتے رہے چنانچہ جتنا عرصہ وہ رہے اس وقت تک ریلوے کے نظام الاوقات کا اللہ ہی حافظ رہا اور ٹرینوں کی آمدورفت کے وہ اوقات رکھے جاتے تے کہ جن کے باعث ایک عام آدمی کیلئے ٹرین پر سفر کرنا تقریباً ناممکن بنا دیا گیا ۔ اسلام آباد اور پشاور سے برآستہ میانوالی کراچی جانے والا راستے کا فاصلہ کم تھا اور اس راستہ سے 2ایکسپریس ٹرینیں چلا کرتی تھیں جنہیں رفتہ رفتہ ختم کردیا گیا ۔ آج اس روٹ پر محض پٹڑی ہے یا اسٹیشنوں کی خالی عمارتیں دکھائی دیتی ہیں جو ریلوے کی وزارت کی بے بسی اور نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ غلام احمد بلور جن دنوں ریلوے کے وزیر ہوا کرتے تھے تو ان دنوں ایک ملاقات کے دوران انہوں نے کہاکہ ریلوے میں کون سفر کرتا ہے ؟موصوف ان دنوں خود ایک بہت بڑی ٹرانسپورٹ کمپنی کے مالک تھے اور انہوں نے جتنا نقصان ریلویز کو پہنچایا وہ بھی اپنی جگہ ایک تاریخ ہے یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک کسی بھی حکومت نے انگریز کی بچھائی ہوئی پٹڑی میں ایک کلو میٹر تک کا اضافہ نہیں کیا بلکہ الٹا ماڑی انڈس بنوں سیکشن اور لکی مروت ٹانک سیکشن اور پنڈی چکوال سیکشن ختم کرکے ان کی پٹڑیاں تک اکھاڑ کر فاؤنڈیرز میں ڈال دی گئیں اب ان روٹس پر ریلوے اسٹیشنوں کی عمارت بھوت بنگلوں کا روپ دھارے ہوئے ہیں اور ان علاقوں کے رہائشی ہزاروں افراد پرائیویٹ ٹرانسپورٹروں کے رحم و کرم پر ہیں ۔ موجودہ حکومت نے خواجہ سعد رفیق کو ریلوے جیسے اہم ادارے کا وزیر باتدبیر بنایا انہں نے بھی ابتدائی دنوں بڑی پھرتیاں دکھائیں اور ’’ ڈائننگ کار‘‘ میں ہونے والی کرپشن کو پکڑ کر اسے ایک کارنامہ قرار دیا وزیر موصوف نے وزارت کا منصب سنبھالنے کے بعد آج تک اپنی وزارت کے حوالے سے آج تک میڈیا کو کوئی بریفنگ نہیں دی نہ کسی اخبار کو انٹرویو دیا البتہ وزیر باتدبیر کو ٹی وی کی چکاچوند روشنیوں اور کیمروں میں گھرے رہنا شاید اچھا لگتا ہے۔ شاید میرے الفاظ کچھ تلخ ہوگئے ہوں مگر ریلوے ایک قومی ادارہ ہے اسے ڈوبتا دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔ بہرحال اب سنا ہے کہ وزارت ریلویز نے ملک بھر میں 100 سالہ قدیم ریلوے اسٹیشنوں کو ماڈل اسٹیشن بنانے کا ایک منصوبہ بنایا ہے ان میں رحیم یار خان ، صادق آباد ، فیصل آباد ، سیالکوٹ ، ملتان کینٹ ، ڈی جی خان ، لیہ اور میانوالی کے ریلوے اسٹیشن شامل ہیں یہ فہرست 31 ریلوے اسٹیشنوں پر مشتمل ہے یقیناً یہ ایک اچھا اقدام ہے مغرب میں ریلوے اسٹیشنوں کی عمارات ان کے ہوائی اڈوں کے ہم پلا دکھائی دیتی ہیں جہاں جدید ترین مواصلاتی نظام کام کرتے دکھائی دیتے ہیں یقیناً وزیر ریلوے سعد رفیق کا یہ اقدام اچھا ہے اور اسے اچھا ہی لکھا جائے گا مگر سوال ہے کہ جب ریل کا پہیہ ہی حرکت میں نہ ہوگا تو ان کی بنی سنوری عمارات کس کام کی ۔ اپنے دوست ممالک عوامی جمہوریہ چین ، ترکی اور دیگر سے ریلوے کی جدید بوگیاں اور انجن حاصل کریں اور غریب عوام کی جان ٹرانسپورٹ مافیا سے چھڑوائیں بصورت دیگر پرانی عمارات پر چونے کے لیپ کردینے سے