- الإعلانات -

جمہوریت اور جمہور

عموماً کہا جاتا ہے کہ ریاست کی ترقی کے لئے جمہوریت کا ہونا ضروری ہے اور جمہوریت کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا جمہوریت ترقی کی ماں ہے جس کے بطن سے ترقی اور خوش حالی برآمد ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ لیکن پاکستان کی حد تک تو یہ سفید جھوٹ کے سوا کچھ نہیں یہ صرف ایک نعرہ ہے ہر سیاستدان کی ہر تان اسی بات پر ٹوٹتی ہے کہ جمہوریت کے بغیر اندھیرا ہی اندھرا ہے جمہوریت ہے تو سب روشن ہی روشن ہے اس نوع کے نعروں سے لوگوں کو بے وقوف بنا کر اپنا الو سیدھا کیا جاتا ہے جس شخص کو اصل بات کی سمجھ آ جاتی ہے اسے یا تو ساتھ ملا لیا جاتا ہے یا راستے سے ہٹادیا جاتا ہے دو دہائیاں قبل ایک پشتون لیڈر نے کہا تھا کہ اگر میرے پاس چار 5 ارب روپیہ ہو تو میں پانچ سال کے لئے اقتدار خرید سکتا ہوں تب لوگ ایک ڈیڑھ کروڑ بک جاتے تھے لیکن آج یہ گیم اربوں میں ہے سب کچھ وہی ہے بس ذرا قیمتیں بڑھ گئی ہیں کہا جاتا ہے کہ جمہوریت کے ثمرات عوام تک پہنچنا ضروری ہیں اور یہ ثمرات واقعی پہنچتے بھی ہیں اور خوب پہنچتے ہیں کہ عوام یہ خود اور ان کے لواحقین ہی ہوتے ہیں اور باقی عوام تو حشرات الارض اور وہ تل ہوتے ہیں جن سے تیل نکلتا ہے اور اس تیل سے ان سب مگر مچھ پلتے ہیں اور اسی سے ان کے ہرطرح مفادات کی آبیاری ہوتی ہے یہ اصل میں ایک منظم مافیا ہے جو تمام وسائل پر اخطبوط کی طرح قابض ہوتا ہے اور مل بانٹ کر کھانے کا عادی ہے کیونکہ مل بانٹ کر کھانا ہی اصل اور عین جمہوریت ہے اور ہر منفعت والی جگہ میں ان کا حصہ ہوتا ہے اور باقائدہ وصولتے بھی ہیں پہلے بڑے بڑے ٹھیکوں میں حصہ داری اور خریداری میں کک بیکس جن میں کبھی ایسی ایسی خریداری ہوتی ہے جن کی کہیں کوئی کھپت یا ضرورت نہیں ہوتی اس ملک میں الیومینیم کو زنگ لگتا ہے اور کچھ عرصہ پہلے ریلوے کی پٹڑی کے نیچے ڈلنے والے سلیپرز کو دیمک کھا جایا کرتی تھی یہ صرف اس پیارے وطن میں ہی ممکن ہے پھر وہ اصحاب جو براہ راست حلقہ یاراں میں ہوتے ہیں انہیں ایسی ” تھندی” وزارتیں عطا ہوتی ہیں جن میں سے کچھ” تیل شیل” برآمد ہوتا ہو کچھ میں بجلیاں کوندتی ہیں کچھ میں شاہی خزانے کی چابیاں سنبھالی جاتی ہیں تاکہ سمدھی سنبھلے رہیں باقی اصحاب کو ہٹو بچو والا پروٹوکول درجن بھر گاڑیاں پولیس کا دستہ گاڑی پر جھنڈا اور کچھ مناسب وزارتیں عطا ہوتی ہیں کچھ وزارتیں بطور سیاسی رواداری؟ اپنے حلیفوں کو دی جاتی ہیں تاکہ دین اور دنیا دونوں کابھلا ہو کچھ کو کمیٹیاں عطا ہوتی ہیں جو صرف حلوے مانڈے کا بندوبست ہی ہوتا ہے کاز سے لگن اور وفاداری کوئی شرط نہیں ہوتی ساتھ ہی پھلدار اور منفعت بخش عہدے اضافی طور پر عطا ہوتے ہیں تاکہ متمتع حضرات برے وقت یا پانامے شنامے میں ساتھ کھڑے ہوں اس سے نیچے چھوٹے ٹھیکے ان یاران باوفا کے لئے ہوتے ہیں جو حلقہ یاراں سے تھوڑا باہر ہوں پھر عوامی نمائندوں کو اپنے حلقوں میں ترقیاتی کام کے لئے گرانٹس عطا ہوتی ہیں اورسب کو معلوم ہے کہ وہ کہاں اور کن جیبوں میں جاتی ہیں آخر میں سرکاری نوکریاں جو باقائدہ قیمتا بکتی ہیں اب جو پیسے دے کر آئے گا وہ تو وہی کچھ کرے گا جس کے لئے اس نے قیمت دی ہے تو اب کہاں کا میرٹ اور کونسی اہلیت اور کیا ترقی اور ملک کی بہبود ہم اپنی گناہ گار آنکھوں سے ایسے اساتذہ بھی دیکھ چکے ہیں جن کے شناختی کارڈ پر انگوٹھا ثبت تھا پوچھنے پر کہ بچوں کو پڑھائے گا کون، آپ کو تو لکھنا پڑھنا نہیں آتا تو جوابا کہتے ہیں کہ اول تو اسکول ہی نہیں ہے ہمارے گاؤں میں اگر کوئی طالب علم آئے گا اور پرھانا پڑا تو کوئی پڑھا لکھا لڑکا رکھ لیں گے جو بچوں کو پڑھائے گا یہ بات ہماری اپنے مرشد سے طے ہو چکی ہے جنہوں نے یہ نوکری دلوائی ہے آج بھی اربوں کے اخراجات کے باوجود تھر میں باقی سہولیات تو ایک طرف پینے کے صاف پانی تک کا حصول نا ممکن ہے ماسوائے غیر سرکاری ادارے (NGOs) جو تھر میں لوگوں کو مقدور بھر لیکن محدود پیمانے پر پانی فراہم کر رہی ہیں سرکاری پلانٹ ختم ہو چکے ہیں اور مال بیرون ملک جا چکا ہے یہ صرف ایک مثال ہے وگرنہ ہر طرف یہی حال ہے چین آج دنیا کی سب بڑی اقتصادی طاقت ہے یا کم از کم پہلی دو یا تین معیشتوں میں ہے وہاں کتنی جمہوریت رہی ہے اور آج بھی کتنا جمہوری معاشرہ ہے یہ سب جانتے ہیں سنگا پور کو جب آزادی ملی تو بحث ہوئی کہ کیا نظام ہونا چاہئے لی کوان یو آئے انہوں نے کہا کہ پہلے میں ملک بنا لوں جمہوریت شمہوریت بعد میں ڈال لینا اور اس مردآہن نے ہزار نکتہ چینیوں کے باوجود وہ سب کچھ کر دکھایا جو وہ چاہتا تھا اور آج سنگاپور کی برآمدات 346.8 ارب ڈالر ہے جس کارقبہ صرف 719 مربع کلومیٹر ہے اور پاکستان کی کسی بھی تحصیل سے چھوٹا ہے جبکہ بڑے بڑے حکومتی ڈھول پیٹنے کے باوجود پاکستان کی برآمدات 25 ارب ڈالر سے ذیادہ نہیں جو بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے جس میں 4 موسم ہیں ہر قسم کی زمین وافر پانی بہترین فنی صلاحیت اور دیانت کی حامل افرادی قوت جس کی صلاحیت کو پوری دنیا تسلیم کرتی ہے قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے سیاحت کے لئے پوری دنیا میں پاکستان سے بہتر جگہ نہیں ہوسکتی ہمارے ہاں میٹرو اور پلوں پر اور غیر ملکی قرضوں پر زور ہے لیکن ہسپتالوں میں دوائیاں نہیں اسکولوں میں تعلیم نہین ہماری بنیادی ترجیحات ہی غلط ہیں اللہ ہمیں عقل سلیم دے اور حب وطن کے تقاضوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائے اللہ پاکسان اور اہل پاکستان کی حفاظت فرمائے
*****