- الإعلانات -

سندھ ورکرز کنونشن

کراچی میں جماعت اسلامی سندھ کا دو روزہ کا ورکرز کنونشن باغ جناح میں منعقدہوا۔ اس میں سندھ بھر کے کارکنوں نے بھر پورشرکت کی۔ اس کنونشن میں ہندو، عیسائی اوردیگر اقلیتوں کے نمایندوں نے بھی شرکت کی۔ خواتین کیلئے پنڈال کا علیحدہ انتظام کیا گیا تھا ۔خواتین نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ دو دن میں سات مختلف سیشن ہوئے۔ ورکرز کونشن کے انچارج جماعت اسلامی کراچی کے امیر نعیم الرحمان تھے۔پہلے چار ا ور آخری دن تین سیشن ہوئے۔ سراج الحق امیر جماعت اسلامی اور سینیٹر کے علاوہ جماعت کی مرکزی اور صوبائی قیادت نے مختلف سیشن سے خطاب کیا۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امور خارجہ کے انچارج عبدالغفار عزیز نے فلسطین اور ترکی کے رہنماؤں کی ویڈیو تقریروں کا اردو میں ترجمہ پیش کیا۔ جبکہ بنگلہ دیش کے رہنما نے اردو میں تقریر کر بنگلہ دیش کے مظالم کا ذکر کیا۔ برما کے رہنما نے بھی خطاب کیا اور برما میں مسلمانوں پر ظلم کی داستان بیان کی۔چوتھے سیشن میں چیئر مین ٹنڈو آدم مسرورغوری نے ٹنڈو آدم کی تعمیر و ترقی پر روشنی ڈالی۔ اس سیشن میں کے پی کے کی تعمیر میں جماعت اسلامی کاکردار کے حوالے سے عنایت اللہ خان سینئر منسٹر،قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کی کار کردگی کے عنوان سے صاحبزادہ ممبر قومی اسمبلی طارق اللہ، آزاد جموں کشمیر اسمبلی میں ہمارا کردار پر عبدلرشید ترابی ممبر اسمبلی آزاد جموں کشمیر، کراچی پر نعمت اللہ خان سابق ناظم کراچی نے اپنے کردار اور موجودہ حالات پر روشنی ڈالی۔ صدارتی خطاب جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری لیاقت بلوچ نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن نے عوام کا اعتماد ختم کر دیا ہے۔درد مشترک اور قدر مشترک کی بنیاد پر اتحاد امت کی ضرورت ہے۔ ملک کے اسلامی تشخص کی حفاظت ہمارا مشن ہے۔انہوں نے کہا کہ انتخابی کرپشن اور بوگس ووٹر لسٹوں نے عوام کا اعتماد چھین لیا ہے۔غیر جانب دار اور شفاف انتخابات عوام کا حق ہے۔ پاپولر پارٹیاں ملک میں جمہورہت چاہتی ہیں مگر ان کے اپنے اندر جمہوریت نہیں۔ جبکہ جماعت اسلامی ایک جمہوری اور غیر مورثی جماعت ہے۔اس کے اندرونی انتخابات شروع سے ہو رہے ہیں۔ ہمارا کردار قوم کے سامنے ہے۔ دوسرے دن پانچویں سیشن میں نائب امیر جماعت اسلامی راشد نسیم، نائب امیر اسداللہ بٹھو، اور نائب امیر حافظ ادریس نے خطاب کیا راشد نسیم نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ صحابہؓ کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ مولانا مودودیؒ کے فلسفے کو دنیا بھر میں پذیرائی ملی ہے۔ صاحبزادہ طارق اللہ ممبر قومی اسمبلی نے کہا کہ الحمد اللہ کرپشن کی لسٹ میں جماعت اسلامی کا کوئی فرد شامل نہیں۔ پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ اسلام ہی ملک کی بقا کا ضامن ہے۔ساتویں اور آخری سیشن میں حافظ نعیم الرحمان،ڈاکٹر معراج لہدیٰ صدیقی ، اسداللہ بٹھو اور کلیدی خطاب جناب سراج الحق نے کیا۔ سندھ ورکرز کنونشن میں مختلف قراردادیں بھی پاس کی گئیں ان میں سندھ میں بلدیاتی سہولتوں کا بحران،ٹرانسپورٹ، پانی اور انفراسٹرکچر کی زبوں حالی،واپڈااور کے الیکٹرک کے مظالم، سندھ کے عوام کے صحت کے مسائل،زراعت کے مسائل، دینی مدارس پر یلغار اور معاشرتی تباہی، سندھ کی تعلیمی صورت حال اور شفاف انتخابی نظام پر قراردادیں پیش کر کے تمام حلقوں کی نمایندگی کی گئی۔ سیشن کے درمیان کارکنوں کے جذبے کو اُبھارنے کیلئے ترانے بھی پیش کیے گئے۔اپنے کلیدی خطاب میں جلسہ عزم اسلامی انقلاب سے سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی کی سب سے پہلے جاری کردہ کرپشن فری پاکستان مہم جاری رہے گی۔ عدالت عظمیٰ سے درخواست ہے کے موثر اقدام کرے۔ ہم سندھ اور کراچی کا مقدمہ ہر جگہ لڑیں گے۔ کراچی کے مسائل کی کنجی عوام کے پاس ہے۔ پاکستان میں خاندانی بادشاہت نہیں اسلامی شریعت چاہتے ہیں۔سندھ اسمبلی میں پاس کردہ تبدیلی مذہب کا بل نامنظور کرتے ہیں۔ زرداری صاحب اس بل کو رکوائیں۔ قائداعظمؒ کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو لبرل، سیکولر یا کچھ اور بنانے والے شہدائے پاکستان اور آئین پاکستان سے کے غداری کر رہے ہیں۔نادرا کراچی کے لوگوں کو پریشان نہ کرے اور سہولت سے کارڈ فراہم کرے۔ مغرب نے مسلمانوں کے خاندانی نظام کو ہدف بنایا ہے۔ خواتین اس کا راستہ روکیں۔خواتین کا اتحاد، عقیدے کی پختگی ہی امریکی حواریوں اور دجالی تہذیب کوشکست دے گی۔ ہمارے خواتین کو مغرب کی خواتین کے بجائے حضرت عائشہؓ اور فاطمہؓ کو رول ماڈل بناناہو گا۔ انقلاب کی جد وجہد میں خواتین کاکردار کلیدی ہے۔ سراج الحق نے خواتین کنونشن میں شریک ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ سراج الحق نے جماعت اسلامی کے مرحوم اور شہید قائدین کے اہل خانہ جس میں خرم مراد، پروفیسر غفور، جان احمدعباسی، محمود اعظم فاروقی،اسلم مجاہد، لقمان بیگ، نصراللہ شجیع اور پرویز محمود کے اہل خانہ شریک تھے کو یاد گاری شیلڈ پیش کیں۔صاحبو! جماعت اسلامی صوبہ سندھ کے دو روزہ ورکرز کنونشن کا یہ پیغام ہے کہ کراچی میں تین دفعہ بلدیاتی الیکشن جیت کر اس شہر کو روشنیوں کا شہر بنانے ے والی اسلامی اور کرپشن سے پا ک قیادت کراچی میں ہمیشہ سے فعال رہی ہے۔ مگر بین الاقوامی سازش اور اسٹبلشمنٹ کی غلطیوں کی وجہ سے کراچی گذشتہ تیس سال سے آگ اور پانی کے سمندر میں غرق رہا ہے ۔ اگر کراچی جو منی پاکستان ہے۔ جو پاکستان کو ستر فی صد ریوینیو دے رہا ہے، کوپھرسے روشنیوں کا شہر بنانا مقصود ہے تو کراچی کو پھر اسی اسلامی اور کرپشن سے پاک قیادت کو سامنے لانا ہو گا۔ اللہ کراچی کے شہریوں کی حفاظت فرمائے آمین۔