- الإعلانات -

فرا نزک آڈٹ اور آڈیٹرجنرل ڈیپارٹمنٹ

وائٹ کالر کر ائم ، بلیو کا لر کر ائم اور دیگر ما لیا تی فراڈ ، سکینڈلز ، اور منی لا نڈرنگ سے ذریعے فنڈنگ کے ذرائع اور اُن کا اصل الا صل معلوم کر نے کیلئے تفتیشی اور ما لیا تی خر د برد غبن بڑے پیمانے پر کر پشن اور اس سے متعلق حاصل کر دہ نا جا ئز فائدے جن میں بڑے منصوبوں یعنی میگا پر اجیکٹس کے ٹھیکے اور ادائیگیاں اور دیگر بھار ی بھر ما لیا تی لین دین جو سمگلنگ اور چور بازاری سے حاصل کیا گیا ہو اور اُن سے منسلک شرح کمیشن ، بھتے اور دیگر غیر قانونی مراعات جو فیصلہ کرنے والی مجاز اور با اختیار انتظامی اتھارٹیز اپنے اختیارات کا ناجائز استعما ل کر تے ہوئے فر یقین کیلئے با ہمی رضا و رغبت سے بیرون ملک بینکوں اور ما لیاتی اداروں بے نامی کھا توں کے ذریعے یا کسی اور ٹائٹل کے ذریعے منتقل کیے جاتے ہیں اس میں مقامی ملکی ہنڈی،مقامی بینکنگ سسٹم ، بیرون ملک بینکنگ سسٹم ، سو ئیٹزر لینڈ کے خفیہ اکا ؤ نٹس اور دیگر آف شور کمپنیاں جیسے پا نا مہ ، بہماس اور ورجن آئی لینڈ وغیرہ جیسی محفوظ پنا ہ گاہیں ایسے کا لے دھن میں ملوث جرائم پیشہ گروہوں اور کمپنیوں کو تر قی دینے اور پروان چڑ ھا نے میں کلید ی کر دار ادا کرتے ہیں اس میں خاص کر تر قی پذیر ممالک کی حکمران اشرافیہ ، افسر شاہی اور کا لا دھن (Black money)اکھٹا کر نے والی اور شیڈوں اکانومی (Shadow economy)یا غیر دستا ویزی اکانومی (undcumented)کے بڑے بڑے سٹیک ہو لڈرز اس گھنا ؤ نے اور مکروہ کا روبار میں بکثر ت ملو ث پائے جا تے ہیں جن کے ہا تھ اتنے لمبے ہوتے ہیں کہ قانون نا فذکر نے والے اور احتساب کر نے والے ادارے یا تو سرے سے اُن کے سامنے بے بس ہو تے ہیں یا پھر اُن ما فیا ز اور گروہوں کا حصہ بن کر وہ بھی اس بہتی گنگا میں ہا تھ دھو نے کا شغل بخو شی قبول کر لیتے ہیں کیو نکہ بجائے اُن طاقتور لیٹروں کو قا نو ن کے شکنجے میں کسنے کے اُن کا حصہ بننے میں عافیت سمجھتے ہیں ۔ سچ تویہ ہے کہ پورا ٹیکسیشن کے نظام کی کارکردگی اس پر گواہ ہے اور اسکی واضح مثالیں بشمول ہمارے ملک پا کستان کے دُنیا کے تر قی پذیر معشیتں بھی اس عالمی ٹیکس چوری اور قومی ما لیا تی ذرائع پر ڈاکہ ڈالنے اور ہتھیا نے میں اُنکے سہو لت کار اور اُنکے آلہ کار بن کر پوری قو می زندگی کے ہر شعبے خاص کر مالی ذرائع کو لو ٹ کر کھو کھلا کر دیتے ہے جس کے نتیجے میں کسی بھی ملک کی غر یب عوام ہمیشہ غربت کی اتھا ہ گہر ائیوں میں دھکیل دی جاتی ہے جہاں معا شی اور معاشرتی ترقی کے تمام اشاریے (indicators)کھوٹے ہو جا تے ہیں اور پھر عوام بیچاری محرو میوں اور پسماندگی کے گر داب سے نکل ہی نہیں سکتی قومی احتساب کے ادارے مصالحتاً چپ سا دھ لیتے ہیں بقو ل شاعر :
میری دُنیا لٹ رہی تھی اور میں خامو ش تھا
والی صورت حال پیدا ہو جا تی ہے
اس تناظر میں دیکھیں تو آج کل اس قبیل کے جرائم کا پورے عالمی اُفق پر خاصا چر چا ہو رہا ہے اس کی تازہ مثال پا کستان میں پانا مہ لیکس سے متعلق سیا سی اور عدالتی معاملات اور کاروائی روزانہ میڈیا میں سرفہرست ہو تی ہے اور اُنہی تبصروں ، تذکروں اور معاملات کے حوالے سے کڑے اور کھر ے احتساب کیلئے فرانزک آڈٹ کا تسلسل اور تواتر سے ذکر ہو رہا ہے خاص کر آف شور کمپنیوں کے ذریعے محفوظ سرمایہ کا ری کے ذریعے بھا ری رقوم کے کھا تے وغیر ہ ۔ فرا نز ک آڈ ٹ کی عا م فہم تشریح جو عالمی مروجہّ اصولوں اور قابل قبو ل سٹنڈرڈ زکے مطا بق دراصل فرانزک کی اصطلا ح جیسے میڈکل سائنس میں فرانزک رپورٹ کے طور پر مستعمل ہے اسی طر ح ہر ڈسپلن کے اپنے مروجہ قوانین ، تشریحات اور تعبیرات کے مطابق اصول وضع کیے گئے ہیں ۔ ہمارا مو ضو ع فرانز ک اکاؤ نٹنگ کو بنیا د بنا کر فرانزک آڈٹ کو متشکل کر نا ہے ، لہذا فرانزک آڈٹ کسی بھی ادارے ، آر گنا ئزیشن محکمے یا با الفاظ دیگر متعلقہ فریق یا فریقین یا کھا تے داروں اور اُن سے مستفید ہو نے والے افراد ، کمپنیاں یا ادارے اور اس سے متعلق تمام سر گر میاں شامل ہیں، اگر چہ اس کی کسی خاص ریگو لیٹری فریم ورک میں مخصوص طور پر تشریح یا تعبیر کا اس سے تعلق نہیں ہے دراصل فرانزک اکا ؤٹنگ بڑے پیما نے پر کسی تفتیشی کا م کو پا یہ ثبوت تک پہنچانے میں ممدّ و معا ون ہوتی ہے اور ما لیا تی حقا ئق کا تسلسل پورے بیّن ثبوت اور شہا دت (Physical trail & evidence of accounting transcations)کے ساتھ پیش کر تی ہے یہ ساری اکاؤ ٹنگ سر گرمی کسی بھی زیر تفتیش ادارے کے ما لی معاملات میں تفتیش کو فراڈ کے عمل کے سا تھ ثبوت کے طور پر منسلک کر تی ہے اور اس سارے فراڈ کے تفتیشی عمل میں ایک بیّن اور ٹھوس شواہد کے ٹرائل (Trial)میں پیش کر ے گی ۔ دراصل یہ فرانزک آڈٹ ایک گواہی ہے جو اکاؤنٹنگ کو بنیاد بنا تے ہو ئے کسی بھی اکاؤنٹنگ انٹری کی پور ی شر ح و بسّط سے ما ضی سے جڑے اکاؤنٹنگ ڈیٹا کو پورے حقائق کے سا تھ بطور شہا دت پیش کر تی ہے اس کو عام زبان میں کسی بھی کالے دھن سے متعلق سر گر می یا eventکا trailکہا جا تا ہے ۔ اب آسان ہو گیا ہے کہ ہم یہ جا ئز ہ لیں کہ یہ سار ا عمل اورکام پیشہ وارانہ مہارت سے قومی سطح پر قومی ادارہ جس کو آئنی تحفظ حاصل ہے وہ کر سکتا ہے جس کوآڈیٹرجنرل ڈیپارٹمنٹ (Auditor-General Departement)کہا جا تا ہے ۔ جس کا سربراہ آڈیٹرجنرل آف پا کستان 1973 ؁ء کے آئین کے تحت اپنے عہد ے کا حلف اُٹھا کر اپنی ذمہ داریا ں سر انجام دیتا ہے اور وہ آئین اور قانون کے تحت پاکستان کے قومی خزانے کا آڈٹ کے حوالے سے رکھوالا ہے ۔ اسی طرح اکا ؤنٹس کے شعبے کا اختیار کنٹرولر جنرل آف اکا ؤ نٹس کو ہے ۔ Auditor-Generalکا محکمہ کوئی ایک قسم کا آڈٹ نہیں کرتابلکہ وسیع تنا ظر میں دیکھیں تو آڈٹ کا بڑا اور وسیع دائر ہ کا ر اُن کو دیا گیا ہے جس میں فنانشل آڈٹ ، ریگو لیٹری آڈٹ، ورکس آڈٹ، ڈیفنس آڈٹ، کا رپوریٹ آڈٹ، کمرشل آڈٹ، ریو نیو اور ریسٹس آڈٹ جس میں انکم ٹیکس اور کسٹم اور سنٹرل ایکسا ئز کا آڈٹ، فارن مشن آڈٹ ، پر فارمنس آڈٹ اور پر فارمنس Evaluationآڈٹ ہے۔ اور یہ ساری رپورٹنگ پا رلیمنٹ کی آڈٹ اور اکاؤ نٹس سے متعلق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC)کو پیش کرتی ہے جس کا پور ا ایک منضبط نظام قا عدہ اور قانون سے منسلک ہے ۔ اکا ؤنٹس کی طرف سے Appropriationاکا ؤ نٹس اور فنانس اکا ؤنٹس کی سالانہ رپورٹیں کنٹرو لر جنر ل آف اکا ؤنٹس پبلک کمیٹی میں پیش کر تا ہے ۔ تاریخی طور پر دیکھا جا ئے تو آڈیٹر جنرل آف بر ٹش انڈیا کے زمانے سے برطانوی ہندوستا ن میں اس ادارے کو بنایا گیا تھا اور اس کے واضح اور مفصل ضابطہ کار Codesاور رولز اینڈ ریگو لیشن با قاعدہ طور پر بنائے اور تر تیب دیے گئے اور پھر وقت کے سا تھ سا تھ اُنکی نظر ثانی اور از سر نو تر تیب دینے کی با قاعدہ کوششیں ہو تی رہیں اسی طرح پاکستان بننے کے بعد اور اب تک آڈٹ کا نظام ایک مضبوظ ما لیا تی احتساب کے طور پر (Financial Accountablity)کا بہترین عالمی مروجہ اصولوں کے مطا بق آڈیٹر جنرل کے ہاں موجو د ہے جس نے گزشتہ تقریباً 35سالوں میں عالمی بینک کے تعا ون سے PIFRAکا پراجیکٹ تمام آڈٹ اور اکا ؤ نٹس آفسز میں شروع کیا گیا جس میں ٹریننگ اور قوت کاراور استعداد بڑھانے کیلئے کئی ٹھو س اقدامات کئے گے ۔
(۔۔۔۔۔۔جاری ہے)