- الإعلانات -

شکریہ وزیراعظم

یہ اسی نومبر کی بات ہے کہ میرے اور اپکے” جموریت آمریت ” میں وزیراعظم سے فوری مداخلت کی اپیل والے کالم میں حکمرانوں کی توجہ ڈرگ مافیا کی جانب مبذول کراتے ہوئے گزارش کی تھی کہ مہنگائی کے اس دور میں ڈرگ مافیانے حکمرانوں کی مصروفیات سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے راتوں رات ہایپاٹائٹس شوگر ،بلڈ پریشر اور اسی قسم کی دیگر امراض میں استعمال ہونے والی ادویات کی قیمتوں میں بلا جواز اضافہ کرکے ان بیماریوں کا شکار لاکھوں مریضوں کیلئے ایک نئی مشکل پیدا کردی ہے غالباً یہ کالم وزیراعظم کی نگاہ سے گزرا اور اب خبریں آرہی ہیں کہ نیب نے ڈرگ مافیا کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے مختلف ادویات ساز اداروں کے متعدد ذمہ داروں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمات کا اندراج کرلیا ہے جبکہ ااسلام آباد سے ایک رپورٹ کے مطابق نیب راولپنڈی نے ادویات کی قیمتوں میں غیرقانی اضافے کے میگا کرپشن اسکینڈل میں سابق سیکرٹری ممبر ڈرگ پرائسنگ کمیٹی ڈاکٹر محمد علی۔ایم ایس میسپل فارما سوٹیکل کے ڈائریکڑ احسن فیروز ۔ایم ایس اخی ایجنسی کے پروپرائیٹر عارف عزیزایکسل ہیلتھ کے ڈائریکٹر امیر صدیقی ۔ایم ایس گلیکسی فارما پرائیویٹ کے ڈائریکٹر سیف الرحمان اور خلیل الرخمان ۔ایم ایس مارٹن ڈولیمٹیڈ کے ڈائریکٹر رضوان عمر اور مقتدر ایم اے جاوید سمیت دیگر ملزمان سے چار سو ملین روپے برآمد کیے جاچکے ہیں خبر میں مزید بتایا گیا ہے کہ ممبر ڈرگ پرائسنگ اور آٹھ کمپنیوں نے ملی بھگت کر کے غیر قانونی ڈی ۔پی ۔سی کے ذریعے ادویات کی قیمتوں اضافہ کیا تھا جبکہ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور جسٹس محسن اختر کیانی کی عدالت سے ملزمان کی قبل از گرفتاری ضمانتیں منسوح ہونے پر انھیں احاطہ عدالت سے ہی گرفتار کر لیا گیا ہے میں جب یہ خبر پڑھ رہا تھا تو مجھے دوست ملک چین نے ایک بین القوامی سطح کی فارما سوٹیکل کمپنی کامقدمہ یاد آگیا کہ جسکے ایریا چیف نے چینی آفسیر کے ساتھ ساز باز کرکے اپنی کمپنی کی ادویات کو چینی ہسپتالوں میں متعارف کرانے اور ان کی قیمتوں میں اضافے کا کھیل کھیلا تھا جب یہ صورتحال چینی حکومت کے علم میں آئی تو حکومتی حکم پر عدالت نے اس کمپنی کے افسران کو چین طلب کر کے نا صرف یہ کے قیمتوں اضافے کا گیارہ گنا رقم بلکہ اس کے ساتھ لاکھوں ڈالر جرمانہ وصول کرکے چینی خزانے میں جمع کرانے کے علاوہ کمپنی کے افسران کے ساتھ ساتھ چینی محکمہ صحت کے ان افسران کو بھی طویل مدت کی سزائیں سنائی لیکن ہمارے ہاں ابھی اس نوعیت کی سخت کاروائی تو نہیں ہوئی لیکن امید ہے کہ مستقبل میں یہاں بھی یہی کچھ ہوگا ضرورت اس امر کی ہے کہ ادویات میں اضافے میں ملوث دیگر کمپنیوں تک تحقیقات کا دائرہ بڑھایا جائے اور قوم کے ان دشمنوں پیٹوں سے مریضوں سے لوٹی ہوئی رقوم نکلوا کر ایسی مثال قائم کی جائے کے جس سے مستقبل سے کوئی منافع خور مریضوں کے ساتھ ہاتھ نہ کر سکے ۔وطن عزیز میں عام طور پر یہ تصور ہے کہ ایک چھوٹا سا دواساز ادارہ قائم کریں اور محکمہ صحت کے چند بڑھوں کے ساتھ مل کر اپنی ادویات سرکاری ہسپتالوں تک متعارف کرا دیں اور پھر چندسالوں میں آپکا شمار بڑے صنعت کاروں میں ہونے لگے گا گو کہ ادویات کے معیار سے متعلق قائم ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کچھ کام کررہی اور لاہور سے ایک خبر کے مطابق اس لیبارٹری میں تیرہ ادویات کو مضر صحت قرار دے کر ہسپتالوں میں ان کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے لیکن یہ بھی ابھی ناکافی ہے بازار میں ایسی لا تعداد ادویات موجود ہیں جو مضر صحت غیر معیاری اور جعلی ہیں لیکن ڈرگ انسپکٹر اپنی جیب گرم کرنے کے چکر مین شرم ناک چشم پوشی کر جاتے ہیں جس سے دو نمبری ادویات اور عطائی ڈاکٹر تیز رفتاری سے بڑھ رہے ہیں حرف آخر وزیراعظم سے دو بارہ اپیل ہے کہ مونگ پھلی درآمد کرنے کا لائسنس جاری کرنے والے ادارے کے عوام دشمن افسران پر ابھی تک پہلی اپیل کا اثر نہیں ہوا جس سے سردیوں میں غریب غربا کے استعمال کا ڈرائی فروٹ مونگ پھلی بر وقت درآمدی لائسنس جاری نہ ہونے پر چھلانگ لگا کر قیمت کے لحاظ سے پستہ بادام اور اخروٹ کے مقام پر پہنچ چکا ہے وزیراعظم متعلقہ ادارے کو مونگ پھلی درآمد کے لائسنس فوری طور پر جاری کر نے کا حکم دینے کے علاوہ ادارے کے ان عوام دشمن افسیران کو بھی کھڈے لائن لگائیں تاکہ سردیوں میں غریب لوگ مونگ پھلی جیسے سستے ڈرائی فروٹ کو استعمال کر سکیں ۔
*****