- الإعلانات -

چوری کھانے والے رانجھے

عجب قصہ ہے کہ کچھ بھی نہ ہونے کے یقین کے باوجود عوام کچھ ہونے کے انتظار میں ہیں۔محبوب کا انتظار قدرے طویل ہو جائے تو بڑے بڑے عاشقوں کے بھرم دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں مگرہم پاکستانی بھی کیا ثابت قدم عشاق واقع ہوئے ہیں کہ سالہا سال کے انتظار کے بعد بھی تبدیلی نامی اس محبوبہ کی زلفِ گرہ گیر کی تیرہ دستی میں شبِ وصل گزارنے کے منتظر ہیں جو شاید کبھی آ کر نہ دے گی، کم از کم ان لوگوں کے ہاتھوں تو کبھی نہیں جو فی الوقت اس محبوبہ کے پیامبر بنے ہوئے ہیں اور ہمہ وقت نوید سنائے چلے جا رہے ہیں ’’اب آئی کہ اب آئی۔‘‘
پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی گئی تو اس میں ایسے نیک نام لوگ شامل تھے کہ جنہیں دیکھ کر عوام کو امید بندھی تھی کہ یہ جماعت تبدیلی کی علمبردار ہو گی۔ پھرحوادثِ زمانہ نے عمران خان کو ان نیک نام لوگوں سے دور اور مفادپرست امراء اور جاگیردار طبقے کے قریب کر دیا۔ ہمارے ملک میں سیاست ہمیشہ سے طاقت اور دولت کے بل پر ہوتی آئی ہے۔ صد افسوس کہ عمران خان نے تبدیلی راستہ بھی طاقت اور دولت کے ذریعے طے کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ جس کے نتیجے میں ان کی پارٹی کے بانی، نیک نام لوگ کھڈے لائن لگتے گئے اور عوام کی اس جماعت سے وابستہ امیدیں بھی دم توڑتی گئیں۔ وہ جنہوں نے اس پی ٹی آئی کے اس خوش رنگ پودے کو خونِ جگر دے کر سینچا تھاجب اس پر پھول آنے لگے تو ایسے ایسے بھنورے ان پر جمع ہو گئے جو اس سے قبل ہر ہرے بھرے چمن میں دیکھے جاتے تھے۔ وہ، جنہوں نے اس پودے کی آبیاری میں اولادیں تک بھلا دیں، آج کہیں نظر نہیں آتے، اگر آتے ہیں تو تیسرے درجے کے کارکن کی حیثیت سے۔ اپنے کارکنوں کی عزت کیے بغیر کوئی رہنماء منزل نہیں پاسکا۔ عزت والے کان لپیٹ کر خود ہی ایک طرف ہو گئے۔ جو اٹکے رہے، انہیں کان سے پکڑ کر ایک طرف کر دیا گیا۔ اس سب کے بعد عمران خان کا تبدیلی کا نعرہ اتنا ہی کھوکھلا ہو چکا ہے جتنا میاں شہباز شریف کا زرداری کی لوٹی ہوئی دولت اس کے حلق سے کھینچ نکالنے کا تھا۔ چند ہزار کی نوکری سے چند سال میں ہزاروں ایکڑ اراضی، کئی شوگر ملوں اور ہوائی جہاز کے مالک بن جانے والے جہانگیر ترین جیسے لوگوں کو پہلونشیں فرما کر جب عمران خان کرپشن اور لوٹ کھسوٹ کے خلاف بولتے ہیں تو عوام بخوبی سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ان کا اصل مدعا کیا ہے۔ تبدیلی کی محبوبہ کے انتظار کی طوالت کی وجہ بھی یہی نیت کا کھوٹ ہے۔ من میں لگن صرف اقتدار کی دیوی سے بغلگیر ہونے کی، مگر زبان پر عوام کے دردوآلام کا راگ۔ حلق سے اوپر کے الفاظ میں تاثیر کیونکر ہو گی جب عالمگیر حقیقت ہے کہ بات وہی اثر رکھتی ہے جو دل سے نکلتی ہے۔
زرپرستوں اور اقتدار کی ہوس کے ماروں کی تحریکیں حادثات ہی کو جنم دیتی ہیں۔عمران خان کی تحریک سے تبدیلی کی امید ایسے ہی ہے جیسے آصف زرداری سے ایمانداری کی امید۔ چوری کھانے والے رانجھے گزشتہ دنوں سے آرام دہ کمروں میں میٹنگ پر میٹنگ کر رہے ہیں ۔ ان سے تو شیخ رشید اچھا، جسے کل تک یہ منشی نہ رکھنے کی بڑھکیں ہانکا کرتے تھے۔ موٹرسائیکل پر بیٹھ کر، گلیوں سے ہوتا ہوا وہ اپنا وعہدہ ایفاء کرنے اس مقام پر پہنچا جہاں اس نے آنے کا عہد کر رکھا تھا۔ مگر صرف دیسی بکری کے دودھ کی دہی اور صرف دیسی مرغ کھانے والے اتنی جرأت نہ کر سکے کہ باہر نکل کر پولیس کے ہاتھوں پٹتے کارکنوں کی خیریت ہی دریافت کر لیں۔ کل باہر