- الإعلانات -

بلیک فرائیڈے

جمعہ کا دن مسلمانوں کے لیے عظمت کا دن ہے ، اس دن کی تاریخی اہمیت بھی ہے ، اسی دن حضرت آدم ؑ کو پیدا کیا گیا اور اسی دن قیامت آئے گی ، اس دن کو مسلمانوں کے لیے عید قراردیاگیا، اسی دن نبی کریم ﷺ خصوصی تیاریاں کیا کرتے تھے، اس دن غسل کرنے ، بال بنانے ، خوشبو لگانے اور دیگر امور کا بھی ثواب ملتا ہے ، یہ دن اسلام اور مسلمانوں کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے مگر افسوس کہ عظمت والے اس روشن اور اجلے دن کو بھی ’’ بلیک فرائیڈے ‘‘ قرار دے دیا گیااور غیروں سے تو کیا گلہ تھا خود اپنے بھی اس بات کو اپنے لیے خوشی محسوس کرتے رہے،پاکستانی میڈیا کا بھی پتاچل گیا کہ ان کی صحافت کی تحقیق اتنی ہی ہے کہ اگر یورپ سفیدکو سیاہ کہہ دے تو یہ بھی سیاہ ہی کہیں گے کیونکہ یہ غلام ہے ۔
اندازہ لگائیں کہ مسلمانوں کو متشدد ہونے کا طعنہ دینے والے خود کتنے تشددپسند ہیں ؟خود ان کے ہاں اسلام کے لیے کتنی نفرت بھری ہوئی ہے ؟ خود وہ کتنے متعصب ہیں کہ مسلمانوں کے ایک خاص دن کو ایک خاص زاویے سے تنقید کا نشانہ بنایااور اسے ’’بلیک ‘‘ قراردے کر دل میں چھپی ہوئی نفرت کو آشکاراکیا ، انہیں یہ بات معلوم ہے کہ ان کے کہنے سے کیا ہوگا؟ ان کے کہنے سے کسی دن کی حقیقت تبدیل نہیں ہو گی ، ان کے فرمان کے مطابق نہ تو کوئی دن کالاہوسکتا ہے اور نہ ہی سفید، اور ویسے بھی تمام دن اللہ کے بنائے ہوئے ہیں اور یہ فی نفسہٖ کالے یا سفید نہیں ہوتے ، بلکہ انسانوں کی وجہ سے ان دنوں کے ساتھ کچھ ایسے واقعات منسوب ہوجاتے ہیں کہ ان دنوں کو انہی تناظرات میں دیکھا جانے لگتا ہے ، ہیروشیما یا ناگاساکی پر ایٹم بم انسانوں نے گرائے تھے اور اس کے لیے دن اور وقت کا تعین بھی انسانوں نے ہی کیا تھا ، پس اگران دنوں میں جاپان کے لیے بربادی مقدر ہوئی تو کیا اس کا ذمہ داری ان دنوں پر عائد ہوتی ہے یا ان انسانوں پر جنہوں نے وہ دن اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیے تھے؟ عالم کفر نے اپنی سی کوشش کرلی ، انہوں نے عالم اسلام کا شیرازہ بھی بکھیر کر رکھ دیا ، انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کو دنیا میں تنہا کردیا، آج پوری دنیا میں مسلمانوں کو اپنی پڑی ہوئی ہے ، انہوں افغانستان ، لیبیا ، عراق کو تباہ کردیا ، فلسطین اورکشمیر میں مسلمانوں کا لہو سستا کردیا گیا ہے ، مگر پھر بھی اسلام اورمسلمانوں کی نفرت سے ان کا جی نہیں بھرا، انہوں نے سمجھا تھا کہ مسلمان تتر بتر ہوگئے ، یہ بکھر گئے ، اب ان کا اتحاد ناممکن ہے، یہ کسی صورت ایک نہیں ہوسکتے ، اور یہ بات سچ بھی ہے مگر پھربھی ان کو جمعہ کے دن مسلمانوں کا ایک جگہ جمع ہونا پسند نہ آیااورانہوں نے اس مبارک دن کو ’’بلیک ‘‘ قراردے دیا،اس بار مسلمانوں کے اس مقدس دن کو تارتار کرنے اور اسے ’’بلیک ڈے ‘‘ کے طور پر کامیاب کرنے کے لیے نفسیاتی گیم کھیلی گئی ، اس بار یہ زہر ’’سیل ‘‘ کی خوشنما پیکنگ میں متعارف کرایاگیا تاکہ کسی کو اعتراض ہو بھی تو اس دلربا نعرے کے پیچھے چھپ جائے اور مہنگائی کی ماری ہوئی قوم اس زہر کو بھی ’’سستا مال ‘‘ کے جام میں ایسے پی لے گویا یہ آب حیات ہو،اس سے ان لوگوں کو بھی اندازہ ہوجاناچاہیے اور ان کی آنکھیں بھی کھل جانی چاہیے جو ہروقت مغرب کی عادلانہ پالیسیوں میں رطب اللسان رہتے ہیں ، جو ہر وقت یورپ اور وہاں کے انسانی حقوق کی وکالت کرتے رہتے ہیں، جو صرف اسلام اور مسلمانوں کو انتہاپسند ہونے کا طعنہ دیتے رہتے ہیں ، جو یہ کہتے ہیں کہ عالم کفر تو اسلام اورمسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا نہیں رکھتا ، کیا اب بھی وہ اس بات پر قائم رہیں گے کہ وہ مسلمانوں کے خیرخواہ ہیں؟ وہ مسلمانوں کے چاہنے والے ہیں؟ان کے رسم ورواج کا احترام کرنے والے ہیں ؟ نہیں ! بلکہ ان کو مسلمانوں سے اتنی نفرت ہے کہ وہ ان کے مقدس دن کا بھی احترام نہیں کر سکتے اور اس کے تقدس کا ذرہ برابر بھی خیال نہیں رکھ سکتے ، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس دن کو نشانہ بنایااور اسے بلیک قراددے دیا، اورایساکیوں کیا؟
اس بات کے پیچھے دو مقصد تھے، ایک یہ مسلمانوں کی جمیعت کو توڑاجائے ، ان کے اتحادکو پارہ پارہ کردیا جائے اوران کومنتشرکردیاجائے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسروں کو رواداری کا درس دینے والے خود اتنا بھی گوارانہیں کرسکتے کہ مسلمان کسی دن کچھ وقت کے لیے کسی ایک جگہ اکٹھے ہی ہوجائیں، حالانکہ یہ بات انہیں بھی معلوم ہے کہ یہ لوگ صرف عبادت کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں نہ کہ امت مسلمہ کی بھلائی اور اتحاد کے لیے، مگر وہ برداشت نہ کرسکے، اس سے اندازہ لگائیں کہ جو لوگ ایک مذہبی فریضے کی ادائیگی کے لیے ہماراایک ہونا نہ دیکھ سکے وہ اپنے خلاف امت مسلمہ کے ایک ہونے کو کیسے گواراکریں گے ، دوسرا مقصد یہ تھاکہ اس دن کی عظمت کو ان کے دلوں سے نکال دیاجائے یا کم کردیاجائے، مسلمان جیسے بھی تھے کم از کم اس دن ان کی اکثریت مسجد تک آجاتی تھی اوران کے دلوں میں اس دن کا احترام اورعظمت بھی موجود تھی، اسی عظمت اوراحترام کو کم کرنے کے لیے اس دن ’’سیل ‘‘ لگائی گئی تاکہ لوگ خریداری میں مصروف ہوجائیں اور یوں اس دن مساجد تک ان کی حاضری کم ہوجائے ، جب ایک دن ایسے گزرجائے گا تو بعدکے باقی کے ایام بھی بے وقعت ہوکر رہ جائیں گے ، یوں معیشت کے مارے مسلمان سستی خریداری کرتے رہے اورجمعہ کا تقدس تارتار ہوتا رہا، وہ لوگ جن کی دوڑ مساجد کی طرف ہوتی تھی وہ بازار کی طرف دوڑتے رہے ، مساجد کی صفیں راہ تکتی رہیں اور بازار میں کھوے سے کھوا چلتا رہا، دوربیٹھے کچھ لوگ مسکراکر کہتے رہے کہ یہ ہے وہ قوم جو چند پیسے بچانے کی خاطر ’’وائیٹ ‘‘ کو ’’بلیک ‘‘ تسلیم کرسکتی ہے اور اس قوم کی اتنی ہی اوقات ہے کہ بولی لگادو تو ان کی آنکھیں اندھی ہوجاتی ہیں اور ان کو سیاہ سفید کا فرق بھی پتا نہیں چلتا،