- الإعلانات -

عالمی ضمیر ، سندھ طاس اور کشمیر ۔ ۔ !

تین نومبر کوموزمبیق کے دارالحکومت ’’ ماپوٹو ‘‘ میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے کافی بڑی تعداد میں لوگوں نے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری ہندوستان کی ریاستی دہشتگردی اور انسانی حقوق کی پا مالیوں کا سلسلہ فی الفور بند کیا جائے اور اس ضمن میں اقوام متحدہ اپنا کرداد نبھائے ۔ اس موقع پر مظاہرین نے اس امر پر زور دیا کہ عالمی برادری کشمیر میں جاری نسل کشی اور چھرہ سفاکی کا سلسلہ فوری طور پر بند کرائے ۔
دوسری جانب یہ امر کسی تعارف کا محتاج نہیں کہ بھارتی حکمران عرصہ دراز سے پاکستان کے خلاف مختلف قسم کی سازشوں میں مصروف رہے ہیں اور اس حوالے سے ہر قسم کی غیر انسانی روش کو اختیار کرنا گویا دہلی سرکار کا شیوہ بن چکا ہے ۔ حالیہ دنوں میں اسی پس منظر میں سر زمینِ پاک کو ویران اور بنجر ( خدا نخواستہ ) کی بھارتی سازش طشت از بام ہوئی ہے ۔
اسی تناظر میں غیر جانبدار ذرائع نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر پردہ ڈالنے کے لئے دہلی سرکار نے شر انگیزی کا نیا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔ انڈیا اور پاکستان کے درمیان دہلی کی پیدا کردہ اس کشیدگی نے نیا موڑ لے لیا ہے ۔ واضح رہے کہ انڈین حکومت نے 65 سال پرانے اُس معاہدے کو توڑنے کا اشارہ دیا ہے ، جس کے تحت کشمیری علاقوں سے بہہ کر مشرقی اور مغربی پنجاب کے میدانوں کو سیراب کرنے والے چھ دریاؤں کے استعمال کے حقوق دونوں ممالک کے درمیان تقسیم ہوتے ہیں ۔
یاد رہے کہ 1960 میں ورلڈ بینک اور کئی مغربی ممالک نے انڈین وزیراعظم جواہر لعل نہرو اور پاکستانی صدر ایوب خان کے درمیان اس معاہدے کی ثالثی کی اور یہ معاہدہ سندھ طاس معاہدے کے نام سے مشہور ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر زبردستی اپنا ناجائز تسلط جما رکھا ہے اور وہاں سے دریائے سندھ، ستلج، بیاس، راوی، چناب اور جہلم نکلتے ہیں۔ معاہدے میں ستلج، بیاس اور راوی پر انڈیا کے حق کو تسلیم کیا گیا جبکہ پاکستان کو چناب، سندھ اور جہلم پر حقوق دیے گئے۔
یاد رہے کہ پہلے تو بھارت میں پاکستان پر فوجی کارروائی کی باتیں ہوئیں اور اور اسی کے ساتھ ساتھ اسلام آباد کو سفارتی سطح پر تنہا کرنے کے نام نہاد مشن کا آغاز ہوا۔سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے مسلح تصادم کی دھمکیوں یا سفارتی مورچہ بندی اپنی جگہ، لیکن اب بھارت میں پاکستان کے خلاف پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی باتیں بر سرِ عام ہو رہی ہیں جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ بی بی سی جیسے معتبر ادارے کے مطابق بھی یہ ’غیر ضروری اور غیرذمہ دارانہ باتیں ہیں۔ بی بی سی کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو کوئی خصوصی رعایت نہیں دی گئی تھی بلکہ دریاؤں کے رُخ اور جغرافیائی حقائق کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اسی تناظر میں ماہرین نے کہا ہے کہ اگر پانی کو جنگی ہتھیار بنا کر انڈیا نے پاکستان کی طرف جانے والے دریاؤں کا پانی روکنے کی ذرا سی بھی حماقت کی تونہ صرف کشمیر میں ہر لمحہ سیلابی کیفیت طاری رہے گی بلکہ پھر اگر چین نے یہی حربہ استعمال کر کے تبت سے آنے والے برہم پترا دریا کا رُخ موڑا تو بھارت کی شمال مشرقی ریاستیں برباد ہو جائیں گی ۔یہ مہذب بات نہیں مگر اگر اس معاہدے کو توڑا گیا تو انڈیا کو چھٹی کا دودھ یاد آجائے گاکیونکہ چین کے پاس ایسی ٹیکنالوجی ہے کہ وہ ہفتوں کے اندر برہم پترا کا رُخ موڑ سکتا ہے اور پھر تو بھارتی پنجاب، ہریانہ، دہلی اور دیگر کئی ریاستوں میں اندھیرا چھا جائے گا۔
اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ دہلی سرکار نے سندھ طاس معاہدے پر سوال اُٹھا کر پاکستان کے اُس موقف کو خود ہی تقویت دے دی ہے جس کے تحت وہ کشمیر کو اپنی شہ رگ کہتا رہا ہے ۔ اس کے علاوہ کشمیریوں کو انڈیا کے اس اقدام سے بقا کا خطرہ لاحق ہوگا اور بھارت مخالف تحریک مزید زور پکڑے گی ۔ کچھ عرصہ پہلے پاکستان کے مشیرِ خارجہ ’’ سر تاج عزیز ‘‘ نے ایک سے زائد مرتبہ کہا کہ ’’ پاکستان کا پانی روکنے کی کسی بھی کوشش کو اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا ‘‘ ۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ’’ پانی کی یہ جنگ کشمیریوں کو نہیں بلکہ بھارت کو انتہائی مہنگی پڑے گی ‘‘اور بھارت حکومت اپنی جنونی روش پر فوری طور پر نظر ثانی کرے وگرنہ اس کے نتائج اس کے لئے اچھے نہیں ہوں گے ۔
بھار ت کے ہندو جنونیوں نے یہ نیا شوشہ بھی چھوڑا کہ اس معاہدے کی وجہ سے کشمیر ( مقبوضہ ) کو ہر سال ساڑھے چھہ ہزار کروڑ روپے کا نقصان بھگتنا پڑتا ہے۔کیونکہ دہلی سرکار کو جہلم، چناب اور سندھ کے دریاؤں پر بند تعمیر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے کٹھ پتلی نائب وزیر اعلیٰ ’’ نر مل سنگھ ‘‘ نے بھی مودی کی اس احمقانہ اور غیر انسانی دھمکی کو بجا قرار دیاتھا ۔