- الإعلانات -

اکھاڑے سے باہر

ہمارے ہاں اشوز کو اجاگر کرنے، منصوبہ جات کی بر وقت تکمیل و تعمیر کیلئے کچھ عرصے تک تو اسے بڑے بھر پور انداز میں ہر فورم پر اٹھایا جاتا ہے، مگر مسائل کے اس انبار میں سے وقت اور ضرورت کے تحت کسی بھی نام نہاد غیر ضروری معاملے کو سامنے لاکر پہلے والے تمام تر مطالبات و اعتراضات ایسے ہی دم توڑ دیتے ہیں جیسے پنجاب کے دور دراز اضلاع میں مریض فرش پر مسیحائی کے منتظر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر اپنی جان دے دیتے ہیں ۔ہم ایسی بھولنے والی قوم کے زمرے میں آتے ہیں یا یوں کہ لیجئے کہ ہم ایسے بھلکڑ ہیں ہماری سوچوں اور جز باتی وابستگی کو مولڈ کرنا اب کوئی مشکل کام نہیں رہا۔ کالاباغ ڈیم جیسے ملکی ضروریات کے و سیع تر مفاد کے منصوبوں کو محض ایک ایان علی جیسی ماڈلز کا معاملہ سامنے لاکر اسے ہمیشہ کیلئے سرد خانے میں ڈال دیا جاتا ہے۔کرپشن جیسے معاملات کی بیخ کنی کیلئے آج تک اس ملک میں نہ تو اس ملک کی سیاسی قیادت کسی قسم کی قانو ن ساز ی کرنے میں کامیاب ہو سکی ہے اور نہ ہی اسکی ضرورت و اہمیت کو آج تک محسوس کیا گیا ہے۔اور نہیں تو کم از کم یہ کریڈٹ پی ٹی آئی کو جاتا ہی ہے کہ اس نے ماضی کی طرح اس اہم ترین ملکی مسئلے کو دفن ہو نے ہی نہیں دیا،لاکھ کوشش کے باوجود ماسوائے ایک دو جماعتوں کے اس اہم اشو کو بھی سرد خانے میں ڈالنے کی ہر طرح سے کوشش کی گئی،پی ٹی ٓائی جسے دھرنہ سیاست کی وجہ سے پہلے ہی مقتدر حلقے اور پیپلز پارٹی جو ایک مرتبہ پھر اپنی باری کے انتظار میں ہے ،نے بھی بڑے محتا ط انداز میں بیانات دئے۔مگر اب کی بار سپریم کورٹ نے اس اہم ترین عوامی و ملکی مفادات کے تناظر میں اس مسئلے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے فیصلے کے بعد اب سب کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہیں ۔پیپلز پارٹی ا کھاڑے سے با کھڑے اس پہلوان کی مانند جو خود تو مقابلے میں شریک نہ ہے با ہر کھڑے ہو کر صرف تالیاں بجا رہا ہے کی طرح ،ایک ایسی سیاسی چال چلنے کی کوشش کر رہی ہے ،کہ باہر کھڑے ہوکر اندرون خانہ ن لیگ کو سپورٹ کیا جائے پی ٹی آئی کی قیادت پر تنقید کے نشتر بھی چلائے جائیں اور پھر جو فریق بھی اس مقابلے میں مخالف کو چت کرے ،اسی کی طرف بڑھ کر اسی ٹولہ میں شامل ہو کر ناچنا شروع کر دے،مگر اس ساری صورتحال میں وہ خود کو آئندہ الیکشن میں ایک مرتبہ پھر عوام کے سامنے کچھ نہ کر نے کے باوجود باہر نکل کر یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے کے نعرے لگاتے عوامی ہمدردیاں سمیٹنے میں لگ جائیں ۔جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ در اصل پنامہ لیکس کا معاملہ کسی واحد سیاسی جماعت کی ہار یا جیت کے تناظر میں دیکھنے کی بجائے ،دیکھنا یہ ضروری ہے کہ کون سے سیاسی جماعت اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر ایک ایسے مسئلے کی جنگ سپریم کورٹ میں لڑ رہی ہے ،جسے یقیناًہارنے کی صورت میں وقتی طور پر تو کچھ نہ کچھ بیک فٹ پر جانا پڑے گا مگر کم از کم عوام کے سامنے اس بات کا ادراک بڑے واضح انداز میں ہو جائے گا کہ پاکستان میں جمہوریت و سیاست کے اس کھیل میں کس سیاسی جماعت کی سیاسی ترجیحات کیا ہیں ،کیا یہ جماعتیں محض اقتدار میں آنے اور ملکی امور کی باگ ڈور سنبھالنے اور طاقت میں آجانے کو ہی جمہوریت سمجھتے ہیں جس کے ثمرات سے آج تک اس ملک کے عوام محروم ہی چلے آرہے ہیں ۔چونکہ ترقی یافتہ ممالک کے برعکس ہمارے ملک میں سیاسی جماعتیں بغیر کسی نظرئے یا احداف کے حصول کی کے تحت سیاست کرتی نظر آتی ہیں اس لئے ،بعد میں عوام سے کئے گئے وعدوں سے منحرف ہونا یا رشت ستانی،سفارش،بد عنوانی جیسے ناسوراس ماحول میں خوب پھلتے پھولتے ہیں ۔پیپلز پارٹی کوپانامہ لیکس سے متعلق سب حقائق کا اچھی طرح علم ہے،کیونکہ ان کے قابل ترین قانون دان اعتزاز احسن صاحب اور لطیف کھوسہ جیسے اس ملک کے سینئر قانون دان جب ٹی وی ٹاک شوز میں اپنے دلائل دیتے نظر آتے ہیں تو حکومت وقت کو خوب ٹف ٹائم دیتے ہیں ۔ مگر باس کی اجازت کے بغیر وہ خود اس مسئلے پر پی ٹی آئی کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر مقابل کر نے کو تیار نہیں ۔یہ پیپلز پارٹی کی یقیناًاپنی ایک جماعتی یا سیاسی پالیسی تو ہو سکتی ہے مگر سب جانتے ہیں کہ ان کی اپنی قیادت کس قدر کرپشن،اور بد عنوانی جیسے مسائل سے دامن بچاتے بچاتے ایک مرتبہ پھر ایک برانڈ نیو، ایک ایسے وارث کو میدان میں لے تو آئی ہے ،جو اپنے خاندان کی اس وراثت کو ہر صورت بچانے کی تگ و دو میں لگا ہے،وہ قیضیں اوپر کر کے انداز تو اپنے نانا جیسا بنا تا ہے مگر اس کے ایکشن ،اس کے منہ سے نکلے الفاظ سے میچ نہیں کر پاتے،کسی جزباتی فقرے کی ادائیگی کے دوران جب اسکی اردو کہیں پھنستی ہے تو پھر پورے مجمع میں کچھ دیر کیلئے تو انتظار کے لمحات بڑی زحمت کا باعث بنتے ہیں ۔اس دفع پیلپز پارٹی کو ماضی کے برعکس الیکشن سے کچھ دیر پہلے ہی میدان میں اپنی پوزیشن واضح کر نے کیلئے مجبورا سامنے آنا پڑا ،اور اس کی وجہ صرف اور صرف یہی پانامہ لیکس کا معاملہ ہے جسے پی ٹی آئی بڑے بھر پور انداز میں لڑ رہی ہے ،ورنہ ان کی یہ سیاسی روایت آج تک قائم ہے کہ اپنی باری کا صبر سے انتظار کرو لائن میں لگے رہو ایک جماعت جب خوب سیر ہو کر اپنا عرصہ اقتدار مکمل کر لے تو پھر الیکشن الیکشن کے اس کھیل میں خود کو اتار دیا جائے۔الیکشن کمیشن کی62,63کی چھاننی کے سوراخ اب اتنے بڑے ہیں کہ اس میں سے بڑے بڑے مگر مچھ تک نکل جاتے ہیں اور سینوں پر جیت کے تمغے سجا کر ایک مرتبہ پھر اس ملک کی اسمبلیوں میں براجمان ہو کر اس ملک کی تقدیر کے فیصلے کر نے لگتے ہیں ۔پی ٹی آئی خدانخواستہ وہ ثابت کر نے میں کامیاب نہ بھی ہو پائے جس مشن کو لیکر وہ نکلی ہے، مگر کم از کم پیپلز پارٹی جیسی جماعتوں کو وقت سے پہلے ہی اکھاڑے میں لے آئی ہے۔جیت ہار تو کیس کی ہونی ہے مگر کم از کم نظریات و احداف اور منشور و نظریات پہلی بار عوام کے سامنے کھل کر آجائیں گے کہ الیکشن کمپین سے لیکر کرسی اقتدار کا یہ فاصلہ کون کس کے لئے طے کر رہا ہے محض اپنا دامن ،دھن دولت بچا نے کے لئے یا اس ملک میں رائج لوٹ کھسوٹ کے اس نظام میں کہ خود یہ نظام پھر ان کو کلین چٹ دیکر صاف و شفاف بھی بنا دیتا ہے۔