- الإعلانات -

خفیہ پیغام برائے عمران خان

پیغام خفیہ ہو کہ اعلانیہ ، مطلوبہ شخص تک پہنچانا امانت ہوتا ہے ۔ پیغام غلط بھی ہوسکتا ہے ۔ اور صحیح بھی ۔ پیغام بہر حال پہنچایا جاتا ہے ۔ عمران کا آبائی ضلع میانوالی ہے ۔ اور این اے71 سے قومی اسمبلی کے ممبر بنتے رہے ۔ اسی حلقے سے نواب آف کالاباغ ملک مظفر خان ، سابق وفاقی وزیر مقبول آحمد خان ، سابق وزیر مولانا عبدالستار خان نیازی ، گل حمید خان روکھڑی ممبران اسمبلی منتخب ہوئے ہیں ۔ عمران خان نے تین حلقوں سے الیکشن جیتنے کے بعد NA71 سے بھی استعفیٰ دیا تھا۔ ضمنی الیکشن میں حکومتی ٹکٹ پر عبیداللہ خان شادی خیل لڑے جو قومی الیکشن میں 70ہزار رووٹوں سے ہارے تھے ۔ ضمنی الیکشن میں حکومتی ٹکٹ پر کامیاب ہوئے ان کا کمال ہے کہ 1993 میں پیپلزپارٹی کی حکومت میں مزے لوٹے ۔ اور مکڑوال کالریز بھی حکومت کی امداد کے بدلے اپنے نام کرائیں پرویز مشرف کے دور میں ق لیگ میں شامل ہوئے حتی کہ اپنے الیکشن میں ق لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کو اپنی حمایت کیلئے اپنے گھر کمرمشانی جلسے پر لے آئے تھے ۔ اور آج مسلم لیگ کے ٹکٹ پر ضمنی الیکشن میں کامیاب ہو کر میان برادران کے اتنے قریب ہوئے کہ اپنے چھوٹے بھائی امانت اللہ خان شادی خیل کو محکمہ آبپاشی کا وزیر بنوا ڈالا ۔ یعنی یہ ان کا کمال ہے کہ حکومت کے مزے لوٹنے میں شامل ہیں ۔ حکمران عموماً نہ آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور نہ کانوں سے سنتے ہیں۔ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے بھائی کو بھی پنجاب میں وزارت دے دی اس طرح بیگم ذکیہ شاہ نواز نیازی کا تعلق بھی میانوالی کی پسماندہ تحصیل عیسیٰ خیل سے ہے ان کے ساتھ امانت اللہ خان شادی خیل کو صوبائی کابینہ میں شامل کرلیا گیا ہے ۔ کوئی پوچھے میاں شہبازشریف سے کہ اس گھرانہ سے کم خدمات تھیں انعام اللہ خان نیازی کی میانوالی اور بھکر دونوں اضلا ع میں عوامی سیاست کرتے ہیں ۔ امانت اللہ خان شادی خیل اور انعام اللہ خان نیازی کا مقابلہ کیا جائے تو وہ طفیل مکتب لگے ہیں ۔ یہ ضرور ہے کہ انعام اللہ خان نیازی کے مقابلے میں شادی خیل برادران کے پاس دولت بہت زیادہ ہے ۔ اور کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ حکمرانوں کو خریدنے کا فن شادی خیل برادران اچھی طرح جانتے ہیں۔ انعام اللہ نیازی کو وزارت دی جاتی تو ایک طرف پرانے کارکن ساتھی کی حوصلہ افزائی ہوتی ورکرز خوش ہوجاتے اور دوسرا ضلع بھکر بھی وزارت کے شمار میں آجاتا ۔ مگر یہ سچ ہے ثابت ہورہا ہے کہ حکمرانوں کی آنکھ اور کان مرضی کی تصویر اور مرضی کی بات سنتے ہیں۔ اور یہ بھی سچ ہے ثابت ہورہا ہے کہ وزراتیں بھی بکتی ہیں ۔ خریدنے والے جو چاہتے ہیں خرید لیتے ہیں۔ بات عمران خان کیلئے خفیہ پیغام کی ہورہی ہے ۔ بیچ میں اور بہت سی باتیں آگئیں ۔عمران خان کے آبائی ضلع کے لوگوں نے قیادت کے بہت سارے غلط ٹکٹوں کے باوجودپی ٹی آئی کو ضلع کی سب سے بڑی اور عوامی جماعت ثابت کیا ہے اگر ضلعی بورڈ صحیح فیصلے کرتا تو آج میانوالی میں 51 ضلعی نشستوں میں سے پی ٹی 40 سیٹیں جیت چکی ہوتی ۔ رات گئی ۔ بات گئی۔ موجودہ صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لئے عمران خان کو میانوالی میں دو چار دن گزارنے ہونگے کیونکہ اس وقت ضلع اسمبلی کی 70نشستوں میں سے 37 پی ٹی آئی کے پاس ہیں اکثیریت کے باوجود عمران خان صحیح فیصلہ نہ کیا تو چیئرمین بنا کر بھی عمران خان فیل ہوجائینگے ۔ عمران خان ضلع میانوالی کی چیئرمین شپ کیلئے طارق خان سوانس جیسا پڑھا لکھا طارق خان آحمد خان جیساشہری یا مولوی عظمت اللہ خان جیسا متحرک شخص کو میانوالی کا چیئرمین ضلع بنائیں عمران خان کیلئے میانوالی کے ساتھیوں کا یہ خفیہ پیغام ہے کہ میانوالی کی ضلع چیئرمین شپ کیلئے آپ خود انٹرویو کرکے کسی ایسے شخص کو نامزد کریں کہ آپ کے معیار پر پورا اترتے ہوئے عوام کی خدمت کیلئے دن رات ایک کردے ورنہ عمران خان آپ کے ضلع میں جس طرح بلدیاتی الیکشن کی ٹکٹو ں کی تقسیم میں ڈنڈی ماری گئی چیئرمین شپ کیلئے ڈنڈی ماری گئی تو آپ اس نقصان کو پورا بھی نہیں کرپائیں ۔ عمران خان صاحب کہاں شہبازشریف نے کمرمشانی کی ٹاؤن کمیٹی ہارنے والے امانت اللہ خان شادی خیل کو وزارت سے نواز اآپ چیئرمین میانوالی کیلئے صحیح ساتھی کو نامزد نہ کیا اور کسی مسافر کو کمیٹی نے نامزد کردیا تو چیئرمین آپ کا بن جائے گا مگر عوام ساتھی اور ورکرز رل جائینگے ۔ جیسے میان صاحبان نے پرانے ساتھی انعام اللہ خان کو چھوڑ کر حکومت کا حصہ بنانے والے امانت اللہ خان شادی خیل کو وزارت سے نواز کر بھکر اور میانوالی کے مسلم لیگی حلقوں کو ٹھیس پہنچا کر جماعت کو مکمل طور پر کمزور کردیا ویسے ہی میانوالی پی ٹی آئی کے ساتھیون کو ٹھیس اور جماعت کو نقصان پہنچائے گا۔