- الإعلانات -

میڈیا ایک موثر ہتھیار

میڈیا ایک ایسا ہتھیار ہے جسے ہر زمانے میں مقتدرحلقوں نے اپنے مقاصد کے لیے خوب استعمال کیا ہے۔ جب عرب میں اسلام کی تعلیمات پھیل رہیں تھیں تو مخالف قوتوں نے بھی میڈیا کو استعمال کرنے کی بھر پور کوشش کی تھی۔آج بھی میڈیا کوہی استعمال کر کے پرامن دین اسلام کو دہشت گرد ثابت کر دیا گیا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب بیرونی دنیا سے پاکستان میں ہر آنے والا فرد دہشت گردی پر ہی بات کرتا ہے اور ہماری حکومت اور مقتدر حلقے دشمن میڈیا کی وجہ سے اتنے دباؤ میں ہیں کہ وہ بھی اس جھوٹ میں شامل ہو جاتے ہیں۔میڈیا ہے کیا؟۔ میڈیا ایک خبر یا معلومات کا ذریعہ ہے۔اس کے طریقے، زبان کا ذریعہ،پرنٹ میڈیا، الیکٹرونک میڈیا،انٹرنیٹ اورسمارٹ فونز وغیرہ۔ خبر کو پھیلا کر لوگ اپنے مقاصد حاصل کرتے ہیں۔ ہر زمانے میں اس پر زور دیا گیا ہے۔ ہمارے قریب کے دور میں کیمونسٹ روس نے میڈیا کو ہی استعمال کر کے خوب جھوٹ بولا تھا اور اسے کنٹرول کر کے اپنے مقاصد کے لیے استعمال بھی کیا تھا۔کیمونسٹ ہر جھوٹی بات کو اتنی بار دھراتے تھے کہ وہ سچ نظر آنے لگتی تھی ۔اور جس بات کو باہر کی دنیا تک نہیں جانے دیتے تھے اس پر پابندی لگا دیتے تھے۔یہودیوں نے میڈیا کی اہمیت کو جانتے ہوئے اپنے پیسے کے زور پر دنیا کے تمام بڑے بڑے میڈیا ہاؤسز کو خرید رکھا ہے ۔ہمارے پاس جتنی بھی خبریں یا معلومات آتیں ہیں یہودی میڈیا سے ہی چھن کر آتیں ہیں۔ خبریں کبھی جھوٹیں اور کبھی شوگر کو ٹڈ ہوتیں ہیں۔ ان خبروں کی وجہ سے عوام اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔ اسی یہودی میڈیا نے آجکل دنیا میں اسلام کو دہشت گرد ثابت کر کے دیکھا دیا ہے اور ہم اس کے پیچھے اندہ دھند پڑے ہوئے ہیں۔اس موضوع ’’ میڈیا، اسلام اور ہم‘‘نے ایک کتاب شائع کی ہے جو آج ہمارے مدنظر ہے۔اس کتاب میں مصنف نے ثابت کیا ہے کہ میڈیا آگ کی مانند ہے۔ جیسے قدرت نے آگ میں روشی اور جلانے کے دو وصف رکھے ہیں ایسے ہی میڈیا میں بھی دو وصف ہیں۔آگ کی صفت روشنی پھیلانا ہے جو ایک اچھی بات ہے۔ اللہ نے ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تھی کہ اُٹھو اور دنیا میں روشنی پھیلاؤ۔ اس خبر کے بعد رسول اللہ نے پوری دنیا کو اللہ کے کلام سے روشن کیا تھا جو روشنی آج تک اپنا جلوا دیکھا رہی ہے۔ مصنف نے قرآن کے حوالہ دے کر ثابت کیا ہے کہ ابو لہب اور ابو جہل مکہ میں اور کبھی طائف میں رسولؐ اللہ کے خلاف بازاروں میں کھڑے ہو کر اور مجمع لگا کر اسلام کے خلاف تقریریں کیا کرتے تھے۔آج وہی کام مغربی میڈیا اور کبھی ہمارا میڈیا ،ویسے ہی باتیں کر اسلام کو بدنام کرتا ہے۔ مثلاً اسلام کا مذاق اڑانا، مسلمانوں کو جاہل اور بیوقوف کہنا،عقائد کا مذاق اڑانا اور کبھی کہنا کہ یہ سحر زدہ ہیں۔ اس میڈیا کا دوسرا وصف آگ لگانا ہے۔جیسے آج کل شیطانی(یہودی) میڈیا اپنے مقاصد کے لیے پوری دنیا میں آگ لگا رہا ہے اور مسلمانوں کے خلاف جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ مسلمان اس پروپگنڈے سے متاثر ہو جاتے ہیں۔میڈیا نے علمائے اسلام کو بدنام کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ایجاد کیا ہے کہ یہ دین کو اپنی سیاست چمکانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس طر ح مغربی میڈیا اسلام کو بدنام کرنے کے نئے نئے طریقے استعمال کرتا ہے تا کہ لوگوں کو ان کے دین سے متنفر کرے۔ مصنف نے کتاب میں جگہ جگہ قرآن کے حوالے دے کر یہی بات ثابت کی ہے۔ ایک جگہ قرآن کا حوالے دیتے ہوئے لکھتے ہیں ’’ اس کی قوم کے جن سرداروں نے ماننے سے انکار کیا وہ کہنے لگے کہ’’ یہ شخص کچھ نہیں ہے مگر بشر تم ہی جیسا۔اس کی غرض یہ ہے کہ تم پر برتری حاصل کرے‘‘(الانبیا :۳) آج بھی علمائے حق اوردینی سیاسی پارٹیوں کے قائدین کو یہ کہتے ہیں کہ ان کا اصل مقصد اقتدار پر قبضہ کرنا ہے۔کیا ہمارا میڈیا ایسی ہی باتیں عوام میں ابلاغ کر کے اغیار کے نمائندوں کا کام نہیں کر رہے؟ کیا یہ اسلام کی مسخ شدہ شکل نہیں ہے۔مغربی میڈیا اور اس کی چغالی میں ہمارا میڈیا اسلام کی ایسی عجیب و غریب تشریحات لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں کہ الامان الحفیظ۔ رمضان کے مقدس مہینے میں پاکستانی میڈیا نے اور آج کل بھی مارنگ شوز میں میں شرم ناک پروگرام نشر کیے جا رہے ہیں۔ کھیل تماشے کو بطور متبادل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔معاشرے کے دباؤ پر کئی میڈیا پرسنز کو مالکان نے نکال بھی دیا ہے۔مصنف ثابت کرتا ہے کہ قرآن نے غلط خبر کو لہو الحدیث یعنی کھیل تماشا کہا ہے۔ رسولؐاللہ کے وقت بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ قرآن کہتا ہے ’’اور انسانوں ہی میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو کلام دلفریب خرید کر لاتا ہے تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے علم کے بغیر بھٹکا دے اور اسے راستے کی دعوت کو مذاق میں اڑا دے ایسے لوگوں کے لیے سخت عذاب ہے‘‘(القمان:۶) عہد نبویؐ میں کفار تبلیغ اسلام کی دعوت کا اثر زائل کرنے کے لیے طرح طرح کے متبادل طریقے سوچتے تھے کہ لوگوں کو ان لہو الحدیث میں مشغول کر دیا جائے تا کہ وہ قرآن نہ سن سکیں۔ ایک شخص جس کا نام نضر بن حارث تھا وہ تاجر تھا۔ ایران سے واپسی پر اہل فارس کی داستانیں اور کسریٰ کے قصے خرید کر لاتا تھا اور کفار کو سنایا کرتا تھا کہ محمدؐ تم کو عاد و ثمود کے قصے سناتے ہیں۔ میں تم کو رستم اور اسفند یار کے قصے سناتا ہوں اور کفار وہ قصے سنا کرتے تھے۔ایک اور شخص گانے بجانے والی کنیزوں کو اس غرض کے لیے خرید کر لاتا تھا کہ جب رسولؐ اللہ قرآن سناتے تھے تو وہ ان کنیزوں کو گانے بجانے پر لگا دیتا تا کہ لوگ قرآن نہ سنیں۔ کیایہ سرمایا کاری آج بھی میڈیا پر نہیں کی جاتی ہے؟مصنف کہتا ہے اسلام ایک ہی ہے۔ مگر آج متعدل اسلام ،روشن خیال اسلام اور لبرل اسلام کے شوشے چھوڑے جاتے ہیں۔کتاب کے آخری حصے میں مصنف قرآن سے ثابت کرتا ہے کہ خبر کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے۔’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے آئے تو تحقیق کر لیا کرو ۔۔ ۔ ‘‘ (الجرات:۶)حدیث ہے کہ ایک فرد کے لیے جھوٹا ہو نے کے لیے کافی ہے کہ ایک اس نے خبر سنی اور بغیر تحقیق کے آگے بڑھا دی۔ یہ نہ دیکھا کہ خبر صحیح ہے یا غلط ہے۔ لہٰذا خبر کو سنتے ہی قبول نہیں کر لینا چاہیے جب تک کہ تحقیق نہ ہو جائے کہ خبر صحیح ہے کہ نہیں اور خبر دینے والا ذریعہ قابل بھروسہ ہے کہ نہیں۔ کیا وہ فاسق تو نہیں۔ اگر اس فارمولے کو مدر نظر رکھ کر موجودہ خبروں کو دیکھا جائے تو یہ بات سامنے روز روشن کی طرح سامنے آ جاتی ہے کہ دنیا کا میڈیا یہود و نصارا کے قبضے میں ہے وہ مسلمانوں کے بارے میں انتہائی تعصب میں مبتلا ہیں ۔ وہ مسلمان ملکوں کے میڈیا کو بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کیے لاکھوں ڈالر خرچ کر رہا ہے ۔وہ میڈیا کی طاقت سے اپنی باطل تہذیب مسلمان معاشرے پر مسلط کرنا چاہتے ہیں لہٰذا مسلمان میڈیا کو ان کی ہر خبر کو جوں کا توں آگے اپنے معاشرے میں پھیلا نہیں دینا چاہیے۔انفارمیشن ٹیکنالوجی قدرت کا عطیہ ہے اسے استعمال کرکے بھر پور فاہدہ اُٹھا نا چاہیے۔ مسلمان ملکوں کے پاس پیسے کی کمی نہیں انہیں اپنی خبر رساں ایجنسیاں قائم کرنی چاہئیں اور اس قدرت کے عطیہ کو اللہ کے بندوں تک صحیح خبر پہنچانے پر استعمال کرنا چاہیے تاکہ دنیا میں امن و امان قائم ہو۔ اس کتاب کو میڈیا، اسلام اور ہم‘‘ میں ایک صحیح خبر کو کتاب کی شکل میں پیش کر کے اپنا فرض ادا کر دیا۔ اللہ ہمارے معاشرے کو یہود و نصاریٰ کی متعصب خبروں کے شر سے بچائے آمین۔

مفیدمشورہ۔۔۔ شوق موسوی
مسئلہ اپنے میں ہو پہلے علاج اس کا کریں
مجھے لگتا ہے نیا کھیل بھی ایسا ہو گا
نرگسیت ہو انا ہو تو نہ شادی کیجے
تیسری چوتھی کا انجام بھی ویسا ہو گا