- الإعلانات -

حرم پاک ،روضہ رسولﷺ اورماں کی دعا.

جسموں پر سفید چادریں،دنیا کی تمام آسائشوں سے بے نیاز لاکھوں فرزندان توحید فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے منیٰ پہنچ چکے ہیں جہاں خیموں کا ایک شہر آباد ہے ۔مکہ مکرمہ سے منیٰ تک کاپیدل سفر کیا پرکیف سفر ہے ۔ہر مسلمان کی خواہش ہوگی کہ اللہ کی ذات اسے یہ پرکیف نظارے عطا فرمائے ۔حج اسلام کا وہ رکن ہے جس کے بارے میں حضوراکرمﷺ کا فرمان عالی شان وذی وقار ہے کہ جس نے حج ادا کیا اور اس دوران کوئی گناہ نہ کیا ،کوئیو لغو بات نہ کی تو وہ گویا ایسا ہوگیا جیسے ابھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے ۔منیٰ میں رات گزارنے کے بعد تمام حجاج کرام عرفات روانہ ہونگے ۔وہاں رکن اعظم ہوگا،خطبہ حج ہوگا،خطبہ حج کے بعد حجاج کرام ظہر،عصر اکٹھی ادا کریں گے ۔پھر مزدلفہ روانہ ہونگے جہاں پر مغرب اورعشاءاکٹھی ادا کی جائے گی ۔یہاں سے ہی جمرات کیلئے کنکریاں اکٹھی کی جائیں گی ۔پھر اس کے بعد رمی ہوگی ۔قربانی کے بعد حجاج کرام احرام کھول دیں گے ۔پھر مکہ مکرمہ آکر طواف زیارہ کریں گے ۔اس طرح یہ حج مکمل ہوجائیگا۔گذشتہ برس رب تعالیٰ نے راقم پر کرم کیا اور اس وقت راقم حج اکبرادا کررہا تھا مگر 8ذو الحج کے وہ لمحات مجھے مرتے دم تک نہیں بھولیں گے کہ منیٰ روانگی کیلئے راقم غسل کررہا تھا ،احرام باندھنے کیلئے تیار تھا کہ پاکستان (راولپنڈی)سے والدہ ماجدہ کا فون آیا ۔راقم نے سلام کیا ۔دوسری جانب سے نحیف سے والدہ کی آواز آئی پھر اس کے بعد فون میں ایک شور سنائی دیا ۔فون کی لائن کٹ گئی ۔راقم بہت دیر تک فون کرتا رہا مگر کسی نے نہ اٹھایا ۔کافی دیر کے بعد فون آیا کہ والدہ مرحومہ مغفورہ اس دیار فانی سے کوچ کر گئیں ۔پردہ فرما گئیں ۔بس لگتا تھا کہ دنیا اندھیری ہوگئی ،چونکہ راقم یہ حج والدہ مغفورہ کیلئے حج بدل کے طور پر ادا کررہا تھا ،واپسی کی تیاری کی،ساتھی حجاج کرام کو اس غم کا غم ہوا ۔وہاں پر موجود عرب کے علماءکرام بھی آگئے ۔انہوں نے کہا کہ آپ جو والدہ مرحومہ مغفورہ کا حج بدل ادا کررہے ہیں اس سے بڑا کوئی اورتحفہ نہیں لہذا آپ کو مشورہ ہے کہ مناسک حج پورا کریں ۔راقم نے والدہ مرحومہ مغفورہ کا حج بدل حج اکبر مکمل طور پر ادا کیا ۔بس سماں بیان سے باہر ہے ۔وہ ہی مطعاف جہاں کچھ دیر قبل والدہ ماجدہ کی صحت اورزندگی کیلئے دعا مانگ رہا تھا اب اس ہی جگہ مغفرت کی دعا کررہا تھا ،دل پھٹ رہا تھا ،دماغ ماﺅف تھا،ایسے میں حاجی سید احمد علی نے راقم کی بہت ڈھارس بندھائی ۔حج کے ارکان ادا کررہا تھا اوربس دل میںاورلبوں پر ایک ہی دعا تھی کہ اللہ پاک کی ذات محبوب پاکﷺ کے صدقے حج مسرور فرمائے ۔حج مکمل کرنے کے بعد جب راقم مدینہ منورہ پہنچا ۔در رسول ﷺ پر حاضری دی ۔والدین کی جانب سے سلام عرض کیا ۔دعا کی کہ یا رسول اللہﷺ راقم کے اوپر اتنا بڑا غم کا پہاڑ ٹوٹا ،کچھ تو اشارہ کرا دیجیے ۔یہی سوچتے سوچتے راقم کی آنکھ لگ گئی ۔خواب میں دیکھا کہ میرے والد مرحوم مغفور جن کا حج بدل پہلے ادا کرچکا تھا اس سے قبل ایک حج ادا کیا تھا ۔اب والدہ مغفورہ کا حج بدل تھا ۔خواب میں دیکھا کہ میرے دونوں مغفور والدین ایک دوسرے کے ہمراہ جنت البقیع میں داخل ہورہے ہیں ۔رب تعالیٰ کے اس اشارے کے بعد مجھے صبر آیا کہ اس ذات بابرکات نے اس ناچیز کی دعائیں قبول فرمائیں اور جو والدین مغفورین کیلئے حج ادا کیے انہیں بھی اللہ کی ذات نے مقبول ومسرور فرمایا ۔راقم کو اچھی طرح یاد ہے کہ جب والدہ مرحومہ مغفورہ کو 2007ءمیں عمرہ کی ادائیگی کیلئے لیکر گیا چونکہ والدہ مغفورہ پیدل چل نہیں سکتی تھیں ،وہیل چیئر پر تھیں ،والدہ مرحومہ کی خواہش تھی کہ وہ حرم پاک اورمدینہ منورہ ہر جگہ پر پجائیں ،حجر اسود کو بوسہ دیں ،راقم ایک رات پوری حرم پاک میں رہا ،دعائیں کیں کہ اللہ تعالیٰ ایسے اسباب پیدا کرکے کہ میں والدہ مرحومہ کو حجر اسود کا بوسہ دلوا سکوں ۔اگلے روز والدہ مغفورہ کو وہیل چیر پر مطعاف لیکر گیا ۔بس دعا قبول ہوچکی تھی ۔پھر خدا تعالیٰ نے دو تین دنوں میں ایسے مواقع عطا فرمائے کہ اس ناچیز نے والدہ مغفورہ کو پانچ مرتبہ حجر اسود کو بوسہ دلوایا ۔یہ سب اللہ اوراس کے محبوبﷺ کا کرم تھا اور ہے ۔وہاں تو قبولیت ہی قبولیت ہے ۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ والدہ مغفورہ کو میں روضہ رسولﷺ کے سامنے لے گیا اوردعا کی التجا کی ۔وہ خوش قسمت لمحات ماں کے ہاتھ فضاءمیں بلند ہوئے ۔آنسوﺅں کی جھڑی ،ماں کی دعا کہ اللہ تعالیٰ میرے بچوں کو حرم پاک کا بار بار دیدار عطا فرمائے ۔ماں کی کوئی دعا واپس نہیں آئی ،سب قبول ہوئیں ،بس اس کے بعد رحمتیں ہی رحمتیں ہوئیں ۔اللہ کی ذات نے راقم کو بار بار حرم اورروضہ رسولﷺ پر حاضری دینے کی سعادت نصیب فرمائی۔آج میں جو کچھ بھی ہوں یہ سب میرے والدین کی دعاﺅںکا نتیجہ ہے ۔دعا ہے کہ خداتعالیٰ جب آخروقت لائے تو مدفن جنت البقیع میں نصیب ہو ۔آٹھ ذوالحج کو والدہ پردہ فرماگئیں۔مگر آج بھی ان کی دعائیں میرے ساتھ رحمت کا سایہ بن کر چلتی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ہر اولاد کو توفیق عطا فرمائے کہ وہ اپنے والدین کو حرم پاک ،مدینہ منورہ لے جانے کی سعادت حاصل کریںاورپھر دیکھیں وہاں کتنی رحمتیں نازل ہوتی ہیں ۔