- الإعلانات -

نئی فوجی قیادت اور میڈیا

ہمارے ایک سینئر صحافی اور حکومتی عہدیدار نے سابق آرمی چیف کی رخصت کے ساتھ ہی پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف ہونے والے آپریشن ضرب عضب کو یہ کہ کر متنازعہ بنانے کی کوشش کی کہ ضرب عضب پر نظر ثانی کرنی چاہئے کہ یہ کامیاب ہوا یا نہیں اور اس کے نتائج ریاست پاکستان کے حق میں کس قدر مفید ثابت ہوئے یہ سن کر ہماری تو سٹی ہی گم ہو گئی کہ ایک ایسا شخص جس کو ہم برسوں شوق سے پڑھتے رہے اورجس کی تحریروں سے ہمارا یہ گمان یقین میں بدل گیا کہ محب وطن دانشور حالات کا نہ صرف درست تجزیہ کرتا ہے بلکہ بہت آگے دیکھنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے وہ اتنی بڑی سچائی کو جھٹلانے اور بے شمار جانوں کی قربانی کو بھی دھو ڈالنے کی کوششوں کی کیوں کر حمایت کر سکتا ہے۔ لگتا ہے کہ مسئلہ ان کا نہیں بلکہ کسی اور کا ہے جن کے پاس اس آپریشن کے خلاف اپنی وجوہات اور دلائل ہوں گے لیکن ہمارا ناہنجار اور مسلم دشمن پڑوسی بھارت چاہتا ہے کہ ریاست پاکستان نے مسلمہ او مستند دہشت گردوں کے خلاف جو مشکل ترین جنگ لڑی اور جن دہشتگردوں کی پیوست گہری جڑیں اپنے علاقے سے اکھاڑ پھینکیں اور ان کا پورا نظام جو ایک بڑی چھاؤنی سے بھی بڑا تھا نیست و نابود کردیا گیا جس پر انڈیا نے اربوں ڈالرکی سرمایہ کاری کر رکھی تھی جہاں سے یہ دہشتگرد آئے دن پاکستان میں دھماکے کرواتے تھے خود کش بمباروں کے ذریعے مسجدوں اور امام بارگاہوں میں نمازیوں کو شہید کرواتے معصوم شہریوں کی جانوں کا اتلاف ہوتا اور وہ شہادت کی منزل پاتے تھے دشمن چاہتا ہے کہ ان دہشتگردوں کے خلاف آپریشن روک دیا جائے تاکہ دشمنوں کا نیٹ ورک قائم رہے . لیکن ہمارا مسئلہ پاکستان اور اس میں بسنے والے کم و بیش 20 کروڑ لوگ ہیں جن کی اس آپریشن سے پہلے حالت یہ تھی کہ آئے روز پاکستان میں بم دھماکے ہوتے اور ہمارے شہری ،بچے بوڑھے اور خواتین شہید ہوتے جائیداد کااتلاف ہوتا کئی لائق اور سینئر افسران اور جوان شہید ہوئے اسی طرح کراچی کا نام نہاد سیاسی عفریت جو نہ صرف کراچی میں دہشت گردی کرواتا بلکہ اس دہشت گرد ٹولے کی جانب سے پیدا شدہ بھتے کی وباء کی وجہ سے کراچی کی صنعتیں تباہ کردی گئیں یا پھر صنعتیں بیرون ملک منتقل ہو گئیں یہ دانستہ کرایا گیا اور اس کے پیچھے بھی ہمارا مکار اور دہشت گرد پڑوسی تھا جس کی دہشت گرد ایجنسی را نے اپنے ایکٹو سیل پیدا کرلئے تھے جو انڈیا کی فنڈنگ سے اقتدار میں آگئے اور یہ بات اب پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ الطاف نامی ننگ ملک و ملت غیر ملکی شخص خود برطانوی تحقیقی اداروں کے سامنے اس کا اعتراف کر چکا ہے کہ وہ انڈیا سے فنڈنگ لیکر اس کے ایجنڈے کے مطابق پاکستان میں کارروائیاں انجام دیتا تھا اسی گروپ نے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ متعارف کرائی اس کے بھی کئی اسباب تھے۔ ایک تو اس دہشت گرد گروپ کے سامنے سراٹھانے والے کسی سیاسی مخالف کو منظر سے اسطرح ہٹایا جائے کہ درس عبرت بنے تاکہ کوئی دوسرا ان کے مد مقابل کھڑا نہ ہو سکے، دوسرے بھتے کی ادائیگی سے انکار کرنے والے کو قتل کرکے دیگر تاجروں اور صنعت کاروں کو یہ پیغام دیا جائے کہ خاموشی سے بھتہ دیتے رہنے میں ہی عافیت ہے جس میں تقریبا پورا کراچی ہی یرغمال بن گیا ساتھ ہی کرپشن کی انتہا کردی گئی اس حمام میں سبھی ننگے ہو گئے جس طرح کہ سپریم کہ چکی ہے دوسرے مال کمانے محدود تھے لیکن یہ گروپ ایک بین الاقوامی سازش کے مہرے کے طور کام کرنے لگاجس کی سرپرستی ہمارے نام نہاد مغربی دوست کرتے رہے ہیں تاکہ کراچی ان کے کنٹرول میں رہے جب چاہیں ریاست پاکستان بلیک میل کرسکیں ۔بقول سابق وزیرداخلہ سندھ ذوالفقار مرزا 20 ہزار اسلحے سے بھرے ہوئے نیٹو کنٹینر کراچی میں غائب کردئے گئے ہیں وہ اسلحہ کہاں گیا ابھی برآمدگی محض 5 سے10 فیصد کے درمیان ہی بمشکل ہو سکی ہے یہ اسلحہ اب بھی ریاست پاکستان کیلئے شدید خطرہ ہے رینجرز کی جانب سے سپریم کورٹ کے حکم پر کئے جانے والے اس آپریشن کی کامیابی میں کیا کسی کو کوئی شک ہو سکتا ہے ذرا کراچی کے لوگوں ہی سے پوچھ لیں کہ کیا اور کتنا فرق پڑا ہے کراچی جو ایک آسیب زدہ شہر بن چکا تھا اس کی رونقیں بحال ہو چکی ہیں فاٹا اور اس سے ملحقہ علاقوں میں جس جرات اور بہادری سے آپریشن کیا جس کو نیٹو اور امریکہ کی افواج قاہرہ بھی نا ممکن سمجھتی تھیں یہ کام واقعی نا ممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور تھا دنیا ضرب عضب کی کامیابیوں کی معترف ہے بلکہ انگشت بہ دنداں ہے کہ پاک فوج نے یہ ناممکن کام کس طرح کردکھایا اور دنیا بھر کے فوجی ماہرین پاک فوج سے یہ حکمت عملی سیکھنا چاہتے ہیں۔ خیبر ایجنسی اورتیراہ میں بھی پاک فوج نے جانی قربانیاں دیکر کامیابی سمیٹی اس سے پہلے سوات آپریشن بھی کیا کوئی چھوٹا موٹا کارنامہ تھا بلوچستان میں امریکی دلچسپی انڈین اور دیگر غیر ملکی مداخلت روز روشن کی طرح عیاں ہے جس کو روکنا کیا کوئی معمولی بات ہے اس کام کیلئے افغانستان میں درجنوں ہندوستانی قونصلیٹ بر سر عمل ہیں جہاں سے دہشت گردوں کو ہتھیار رقوم اور ٹارگٹ دئے جاتے ہیں کیا میرے ممدوح صحافی یہ ماننے کو تیار ہیں کہ یہی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں ہمارے مقتدر جن کی نمائندگی موصوف کرتے ہیں فوج کے حوالے سے ایک مخصوص نوع کی نفسیاتی کیفیت کے زیر اثر ہیں حکومت چاہتی ہے کہ نئی فوجی قیادت میڈیا سے ذرا دور ہی رہے اور زیادہ پروجیکشن نہ ہو اس پر نون لیگ کے حامی صحافی حضرات کی کوشش ہے کہ فوج کو یہ پیغام بطور قوم کی سوچ دے حالانکہ حقیقت بر عکس ہے چڑی والی سرکار تو حدیں ہی کراس کر چکی ہے اور فوج کو ایسے مشورے دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ جیسے فوج ان کے زیر انتظام کوئی ادارہ ہو ہمارا مشورہ ہے کہ صحافیوں سمیت تمام فریق اپنی حدود میں رہیں اور سب کو اپنے رول کا پتہ ہے اور پتے کی بات یہ ہے کہ اچھا کریں گے تو لوگ اچھا ہی کہیں گے نا ؛ اللہ ہمیں حالات کو سمجھنے اور حب وطن کے تقاضوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور پاکستانیوں اور پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ آمین