- الإعلانات -

جناب وزیراعظم ! آغاز اپنے شہر سے کیجئے

وزیراعظم ہاؤس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کی صوبائی قیادت کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کے بہتر طور پر کام کئے بغیر جمہوریت پروان نہیں چڑھ سکتی اور بلدیاتی ادارے قومی قیادت کے لیے نرسری کے طور پر کام کرتے ہیں۔ وزیراعظم کی اس بات کی اہمیت اور افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا البتہ اس کے تناظر میں یہ نشاندہی ضرور کی جا سکتی ہے کہ بلدیاتی ادارے صوبائی اور قومی سطح پر تربیت یافتہ اور بلاصلاحیت قیادت فراہم کرتے ہیں، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں میٹروپولیٹن کارپوریشن کو قائم ہوئے ایک سال تک کا عرصہ گزر چکا مگر ابھی تک میئر اسلام آباد کو 10 ارب روپے کے فنڈ فراہم نہیں کئے گئے۔ گذشتہ 6ماہ سے فنڈ کی فائل وزارت کیڈ اور وزارت خزانہ کے ایوان میں پڑی ہوئی ہے اور فی الجملہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ فائل سرد خانے کی نذر کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔موسم سرما میں اسلام آباد میں پانی کا مسئلہ بھی سر اٹھا رہا ہے اس کی بڑی وجہ میٹرو پولیٹن کارپوریشن میں فنڈ نہ ہونے کی وجوہات ہیں۔اکثر ٹیوب ویلوں کی موٹریں خراب ہونے اور ٹیکنیکل سپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے یہ کام التواء کا شکار ہیں۔ میئر اسلام آباد نے اس سلسلے میں ممبر ایڈمن کو یہ ہدایات جاری کیں کہ سارے کام چھوڑ کر فوری طور پر موجودہ وسائل کو بروئے کار لا کر پانی کے مسئلے کو اولین ترجیح دی جائے اور شہریوں کو اس مشکل سے نجات دلائی جائے۔سی ڈی اے میں اس سلسلے میں ہنگامی بنیادوں پر ایک سیل بنا کر کام شروع کر دیا گیا ہے اور افسران کو 24گھنٹے کی ڈیڈ لائن بھی دے دی گئی ہے ۔
میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کا پہلا ادارہ ہے اور میئر اسلام آباد ،شیخ انصر عزیز خود وزیراعظم کے ہی نامزد کردہ ہیں۔ اسلام آباد کی خوبصورتی اور ترقی کے حوالے سے وزیراعظم خود بھی بڑی دلچسپی لیتے ہیں، اس امر کا اندازہ اس طرح لگایا جا سکتا ہے کہ چند روز قبل وزیراعظم ،جب اسلام آباد ایئرپورٹ سے وزیراعظم ہاؤس جا رہے تھے تو انہوں نے کرال چوک اور ایکسپریس وے پر چند لائٹ کو بند مشاہدہ کیا ۔ وزیراعظم نے اس کا نوٹس لیا اور اپنے ملٹری سیکرٹری کے ذریعے سی ڈی اے کے ممبر ایڈمن محمد سلمان خان وڑائچ کو فوری طور پر اس سلسلے میں ضروری کارروائی کی ہدایت کی ا نہوں نے یہ عندیہ بھی دیا کہ اصلاح احوال کے ساتھ ساتھ اس صورتحال کے ذمہ دار افسران کی گوشمالی بھی کی جائے۔
اس صورتحال کے پس منظر میں ،میں وزیراعظم سے درخواست کروں گا کہ وہ اسلام آباد کی میٹروپولیٹن کارپوریشن کو فنڈ فوری طور پر جاری کرنے کے لیے احکامات جاری کریں تاکہ اسلام آباد میں ترقی کا عمل شروع ہو سکے۔ میئر شیخ انصر عزیز اور ان کی ٹیم خاص طور پر ممبر ایڈمن محمد سلمان خان وڑائچ جو دن رات اس شہر کی ترقی کے کام کر رہے ہیں، وہ کامیاب ہو سکیں۔اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھا جائے کہ سی ڈی اے میں ایک مافیا موجودہ میئر شیخ انصر عزیز اور ان کی ٹیم کو ناکام کرنے کے لیے ان کی راہ میں مشکلات پیدا کر رہا ہے ۔ اس سلسلے میں اس ثبوت کا تذکرہ زبان زد عام ہے کہ جب ممبر ایڈمن محمد سلمان خان وڑائچ نے C-16 میں ناجائز تجاوزات کے خلاف ایکشن لیا تو یہ مافیا سرگرم ہوگیا۔ ان افسران کے خلاف ایک اخباری مہم شروع کر دی گئی اور اس کے جواب میں میئر نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم بلیک میل نہیں ہوں گے اور اپنا کام جاری رکھیں گے۔ چند روز قبل غیر قانونی نرسریوں کے خلاف آپریشن کیا گیا تو اس مافیا نے سی ڈی اے کے مذکورہ افسران کے خلاف باقاعدہ مظاہرے بھی کرائے۔ یہ امر اپنی جگہ قابل افسوس اور قابل توجہ ہے کہ ایسی مہم کے دوران بعض میڈیا سے تعلق رکھنے والے احباب کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے جن سے میری ذاتی طور پر درخواست ہے کہ و ہ حقائق کو معلوم کئے بغیر کسی مافیا کا حصہ بننے سے اجتناب کریں۔ میڈیا کو حکومت کے اداروں کے احتساب کا پورا حق حاصل ہے لیکن یہ حق اس فریضہ سے مشروط ہے کہ عوام کے مفادات کو ترجیح دی جائے، حقائق کو مسخ نہ کیا جائے اور معروضیت کو بہرحال برقرار رکھا جائے۔ وزیراعظم نوازشریف نے بلدیاتی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور ان اداروں کو جمہوریت کی اساس اور کلید قرار دینے کے حوالے سے جو بات کی وہ نصابی اور نظریاتی سطح پر مثالی درجہ رکھتی ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اطلاقی اور عملی سطح پر بھی اس سلسلے میں ٹھوس اور ثمربار اقدامات کئے جائیں بلکہ میں تو یہ اصرار کروں گا کہ اس کا آغاز اپنے یہاں یعنی اسلام آباد سے ہی کیا جائے۔