- الإعلانات -

ملاوٹ سے اٹا معاشرہ

موجودہ دور میں اپنے ملک کو خیر آباد کہ کر بیرونی ممالک کی جانب بغرض دال روٹی کی تلاش میں جانے والوں کو عام طور پر اب ان کے پیارے واپسی پر لیپ ٹاپ ،موبائل یادوسرے تحائف کی بجائے اکثر اوقات یہ کہتے سنے گئے ہیں کہ واپسی پر یا وہاں جاکر یہ میڈیسن بھیجنی ہے ،اور شائد یہی ان کیلئے اب سب سے اہم اور پیاری چیز رہ گئی ہے۔کیونکہ باہر کی ہر پاڈکٹ چاہے وہ میڈیسن ہو یا پھر اس کا شمار اشیائے خورد و نوش کے زمرے میں آتا ہو۔ہمیں یقین ہوتا ہے کہ یہ اپنی اثر پذیری یا فعالیت کے لحاظ سے اتنی ہی ہمارے لئے اہم ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے یا جو فوائد و اجزاء اس پر تحریر ہیں وہی اس سے نکلیں گے۔پاکستان میں خاص طور پر ادویات کے معیاری یا ایک نمبر ہو نے کی حالت یہ رہ گئی ہے کہ بڑے شہروں میں محض ایک دو سٹورز کے علاوہ ملاوٹ سے پاک یا ایک نمبر دوائی دستیاب تک نہیں ہے۔ورنہ تو میڈیکل سٹورز پر پڑی ان ادویات کو ایک دو تو نہیں البتہ تین سے لیکر دس نمبروں تک کیٹگرائز کیا جاتا ہے۔وجہ کیا بنی کہ ایک بیمار انسان جو انتہائی مجبوری کے عالم میں ڈاکٹری نسخے کے مطابق دوائی خریدنے اس امید پر جاتا ہے کہ اسے اس تکلیف سے نجات مل جائے گی،مگر اسے کیا پتا کہ وہ دوائی کی صورت اپنے لئے زہر خرید رہا ہے۔ملاوٹ شدہ اور ناقص اشیاء سے متعلق قانون سازی اور اس کی بیخ کنی کیلئے ادارے تو موجود ہیں مگر اس مکروہ اور انسانیت قاتل دھندے میں ملوث لوگوں کے اپنے ہاتھ اس قدر مضبوط ہیں کہ تمام تر قانون سازی اور اداروں کی موجودگی کے باوجود یہ لوگ بڑے آرام سے دامن بچا کر نکل جاتے ہیں اور پھر سے اسی کام میں جت جاتے ہیں ۔پاکستان میں گلی گلی کھلے ادویات ساز ادارے کیا عالمی معیارات ،عالمی ادارہ صحت کے وضع کردہ احتیاطی تدابیر اور فارمولوں کے مطابق ادویات تیار کر رہے ہیں ،صفائی کے کیا انتظامات ہیں یا ادویات کی تیاری میں استعمال کی جانے والی اشیاع یا مشینری کیا وضع کردہ معیارات پورا اترتی ہے کسی کو کسی نہ تو سرو کار ہے اور نہ ہی کوئی خوف کہ یہ سب کچھ نہ کر نے کی صورت میں انھیں کیا سزا مل سکتی ہے۔ہماری حکومتیں گزشتہ کئی دہائیوں سے محض سڑکوں ،پلوں اور انڈر پاسز،رنگ روڈز،اورنج ٹر ین اور میٹرو بس جیسے منصوبوں کی تکمیل کو تو، ترقی کا پہلا زینہ سمجھتے ہیں مگر ملک میں اشیائے خوردونوش اور ادویات میں ملاوٹ اس قدر بڑھ چکی ہے کہ ۔۔۔مرض بڑھتا گیا جوں جوں دواکی ۔۔۔کہ مصداق اب تو ہر طرف ہر پاکستانی کو سوائے ملاوٹ کے کوئی چیز نظر ہی نہیں آتی۔انہی ملاوٹ شدہ اشیاء کے استعمال کا ہی اثر ہے کہ اب تو ہمارے رویوں میں بھی سوائے ملاوٹ اور ظاہری نمود نمائش کے کچھ بھی خالص نہیں ملتا۔ہمارے تعلقات، رشتے، ناطے، دوستیاں، رو یے، رجحانات سب کے سب اس قدر ملاوٹ زدہ ہیں کہ ہمارے اندر سے انسانیت اس قدر مر چکی ہے ضمیر اس قدر نحیف ہیں اور احساس ذمہ داری اس قدر گھٹیا ہے کہ اس ملک کے ڈاکٹرز محض چند سو روپے تنخواہ بڑھانے کے اپنے مطالبے منوانے کیلئے ہسپتالوں میں تڑپتے مریضوں کو چھوڑ کر سڑک بلاک کر کے بیٹھ جاتے ہیں،اور اساتذہ جو اس ملک کی آنے والی نسلوں کو تو تیار کر نے جیسے عظیم اور قابل قدر فریضے سے منسلک ہیں ہڑتال کر کے محض چند ہزار مراعات کی خاطر سکولوں کو تالے لگا کر سڑک پر بیٹھ جاتے ہیں ۔مصیبت تو یہ ہے کہ اب خود جرم کر نے والا دھڑلے سے ،بے

تذبذب۔۔۔۔۔شوق موسوی
اسے بنائیں کہ یا خود ہی فیصلہ کر دیں
جو اُن کے ہیں وہ کہاں اُن کے اختیار ہوئے
کمیشن آپ کو منظور ہے کہ یا نہیں ہے
یہ منصفان تذبذب کا کیوں شکار ہوئے