- الإعلانات -

پی آئی اے حویلیاں حادثہ

دسمبر کو ساڑھے تین بجے سہ پہرچترال سے اسلام اباد روانہ ہونے والی قومی ایر لائن کی بدنصیب پرواز پی کے 661 جس میں 6 افراد پر مشتمل عملے اور42 مسافر سوار تھے یہ پرواز جہاز اے ٹی آر 42 رجسٹریشن AP ۔BHOکے ذریعے آپریٹ ہو رہی تھی جسکے کپتان صالح یار جنجوعہ ان کے نائب اور چھوٹے بھائی فرسٹ آفیسر احمد جنجوعہ پرواز کی قیادت کر رہے تھے زیر تربیت پائلٹ علی اکرم بھی کاکپٹ میں موجود تھے جو روٹ فیملرائیزیشن (RF ) کی تربیت پر تھے یہ تربیت ان ہوابازاوں کے لئے ہوتے ہیں جنہوں نے پچھلے 4۔5 ماہ سے پرواز نہ کی ہو دیگر عملے میں دو خواتین میزبان اور ایک فلائٹ انجینئر کے علاوہ 42 مسافر جن میں 39 مرد 9 خواتین اور 3 بچے شامل تھے مسافروں میں3 غیر ملکی مسافر بھی تھے جہاز کی اسلام آباد آمد کا متوقع وقت 4 بجکر 40 منٹ تھا چترال سے اسلام آباد کا زمینی فاصلہ 172 میل یعنی 276 کلومیٹر ہے ٹیک آف کے بعد مبینہ طور پر دونوں انجن ٹھیک کام کر رہے تھے پرواز ہموار تھی اور موسم صاف تھا پرواز ٹیک آف کے بعد جہاز 13500 فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے اسلام آباد کی جانب رواں تھا راستے میں چراٹ کنٹرول سے 4 بجکر منٹ 9 پر رابطہ ہوا جس نے پرواز کو 13000 فٹ کی بلندی پر رکھنے کو کہا جیسے ہی پرواز اسلام آباد کی کنٹرول زون میں داخل ہوئی تو 4 بج کر 12 منٹ پر کپتان نے اسلام آباد کنٹرول کو اپنی پوزیشن بتائی اوربائیں جانب کے انجن بند ہونے کی اطلاع دی اور اسلام آباد کنٹرول نے کپتان کو پرواز کی بلندی کم کرکے 9500 فٹ کرنے کو کہا تب یہ پرواز حویلیاں کے اوپر پہنچ چکی تھی اور کپتان کو بتایا گیا کہ اگر اسلام آباد ایرپورٹ رن وے سے آپ کا نظری رابطہ برقرار ہے تو آپ کے لئے رن وے 12 اور 30 دونوں کلئیر ہیں جہاں سے آپ کو مناسب لگے لینڈنگ کر سکتے ہیں اس کا مطلب اسلام آباد کنٹرول کی جانب آنے والی دیگر پروازوں کو مختلف سمتوں کو موڑدیا گیا اور ایرپورٹ پر موجود ایمرجنسی سروسز کو آگاہ کردیا گیا اور فائر برگیڈ اور ایمبولینسز رن وے کے ساتھ لائن اپ ہو گئے 4 بج کر 14 منٹ پرکپتان کی آواز دوبارہ گونجتی ہے جس میں وہ کسی بڑی ایمرجنسی(mayday) کی اطلاع دیتے ہیں اور ساتھ ہی پرواز اچانک 7500 پر آجاتی ہے ساتھ ہی مواصلاتی رابطہ منقطع ہو گیا عینی شاہدین کے مطابق جہاز کے دائیں انجن میں آگ لگی ہوئی تھی اور کچھ ہی دیر بعد یہ جہاز آگ کے گولے میں تبدیل ہو کر زمین کی جانب جاتے ہوئے دیکھا گیا اور یہ پرواز حویلیاں کے قریب پپلیاں گاؤں کے ساتھ ہی گرکر تباہ ہو گئی اور جہاز میں موجود تمام افراد ہلاک ہو گئے جن میں معروف دینی اسکالر جنید جمشید بھی شامل تھے۔یہ جہاز فرانس اور اٹلی کی مشترکہ پیداور ہے جس کو ( Avions de regional Transopt) اے ٹی آر کہا جاتا ہے جس میں عدد 42 نشستوں کی تعداد کی نمائندگی کرتا ہے اور یہ 500 سیریز کا نیا جہاز ہے جو 1995 میں بنایا گیا ہے اس میں چھ بلیڈ پر مشتمل پروپیلر لگا ہے اور پریٹ اینڈ وہٹنی کے بنائے ہوئے 2400 ایس ایچ پی یا 1800 kw پاور والے دو عدد پی ڈبلیو 127 ای انجن لگے ہیں جن کے اندر آگ بجھانے کا خود کار نظام موجود ہوتا ہے اور آگ لگنے کی صورت میں کپتان اپنی جگہ بیٹھے ہوئے آرام سے یہ آگ بجھا سکتا ہے آگ عموما اندرونی اسپارک یا انجن میں موجود لبریکیشن آئل کا پریشر کم ہونے سے پروپیلر شافٹ کی لبریکیشن نہیں ہوتی جس کے نہ ہونے کی وجہ سے شافٹ گرم ہوکر بشنگز اور بیرنگ ٹوٹ جانے جس کے سبب انجن جام ہو جاتا ہے اور آگ بھی لگ سکتی ہے یا پرندہ ٹکرانے سے انجن کے اندر کے پرزے ٹوٹنے کے سبب بھی آگ لگنے کا امکان ہوتا ہے .ہوائی جہازوں کو اس طرح ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ کسی بھی وجہ سے اگرایک انجن فیل بھی ہوجائے تو جہاز میں پورے لوڈ کے ساتھ با آسانی نسبتا کم رفتار کے ساتھ محفوظ مقام تک پہنچ سکتا ہے اور خدا نہ خواستہ دونوں انجن بھی فیل ہو جائیں تو پھر بھی یہ جہاز دور تک گلائیڈ کرتے ہوئے کسی میدان یا کھلی جگہ میں آرام سے اتر سکتا ہے پروپیلر والے جہازوں میں یہ صلاحیت زیادہ ہوتی ہے اصل حقائق کا علم تو تفصیلی تحقیقات کے بعد ہوگا کہ ایک انجن فیل ہوا تو جہاز کن حالات میں کنڑول سے باہر نکل گیا تخریب کاری کے امکان بھی ذہن میں رکھنا ہوگا اس جہازکاکپتان خود نہ صرف ماہر ہواباز تھا بلکہ یہ انسٹرکٹر بھی تھا جو انتہائی مہارت کے حامل ہواباز ہوتے ہیں اور کپتان 12 ہزار گھنٹے کی پرواز کا ریکارڈ کا حامل بھی تھا اور اگلے ہفتے بڑے جیٹ ہوائی جہاز ایر بس 320 پر جانے والاتھا،پائلٹ کو دوران تربیت ایک انجن بند کر کے ہوائی جہاز اڑانے کی تربیت بھی دی جاتی ہے کبھی تھوڑی دیر کے لئے دونوں انجن بند کردئے جاتے ہیں اور جہاز کو گلائید کرانیکی تربیت بھی دی جاتی ہے تاکہ ہوا بازوں کو پاور کے بغیر لینڈنگ کی تربیت دی جاسکے چیر مین پی آئی اے محمد اعظم سہگل نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ جہاز بالکل ٹھیک حالت میں تھا پچھلے مہینے اس جہاز کے ڈی چیکس کئے گئے یاد رہے کہ جہاز کی پرواز کے 500 گھنٹے یا 60 دن مکمل ہونے پر اس کو اچھی طرح چیک کرکے ضرورت پارٹس بدلے جاتے ہین لبریکیشن آئل اور کچھ کمپوننٹس بھی بدلے جا تے ہیں لیکن پوچھا جائے کہ چیر مین صاحب کا ایوی ایشن میں کتنا تجربہ ہے کیا یہ کوئی پائلٹ ہیں اور ایرلائن کی مینیجمنٹ کا کوئی تجربہ ہے جواب ہے نہیں جب آپ دھوبی کو کمپیوٹر ورک شاپ میں بتھادین یا کسی ریسٹورنٹ کے باورچی کو تعمیراتی انجینئر لگادین تو نتائج ایسے ہی ہوں گے پی آئی سے میں سیاسی دھڑے بندی چوری اور کام چوری اپنے عروج پر ہے کرپشن اور لوٹ مار نے دنیا کی بہترین ائیرلائن کو تباہ کردیا اس حادثے کی انکوائری تو ہوگی اور حسب سابق رپورٹ کبھی منظر عام پر نہیں آئیں گی دعا ہے کہ اللہ مرحومین کی مغفرت فرمائے ان کے درجات بلند فرمائے ہم لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں اللہ ان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین۔