- الإعلانات -

بھارت نتیجہ خیز مذاکرات سے راہ فرار اختیار نہ کرے

ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے کہا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بھارت کے ساتھ نتیجہ خیز اور پائیدار مذاکرات چاہتا ہے‘ افغانستان میں حقانی نیٹ ورک‘ تحریک طالبان پاکستان‘ جماعت الاحرار‘ القاعدہ کے ٹھکانے موجود ہیں جو افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کررہے ہیں‘ بھارت افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لئے استعمال کررہا ہے، پاکستان دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کررہا ہے‘ نومنتخب امریکی صدر کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر ممیں مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش ہے بھارت کی جانب سے بدترین مظالم اور قتل عام کے باوجود کشمیری عوام کی مقامی تحریک جاری ہے۔ کشمیری عوام کی جدوجہد اور تحریک آزادی کے لئے قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ پاکستان کشمیری عوام کی مسئلہ کشمیر کے حل تک اخلاقی‘ سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے پاکستان کے خلاف بیان کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے بیان پر جواب دینا مناسب نہیں ہوگا۔ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی دہشت گردی کی لعنت کو ختم ہونے تک جاری رکھے گا‘ جب بھی ضرورت پڑی پاکستان افغآنستان کے امن اور استحکام کے لئے کردار ادا کرے گا۔ افغانستان کو دوسروں پر الزام لگانے کے بجائے بارڈ مینجمنٹ سمیت دیگر مسائل حل کرنے چاہئیں۔ افغانستان میں القاعدہ‘ مینجمنٹ سمیت دیگر مسائل حل کرنے چاہئیں۔ افغانستان میں القاعدہ تحریک طالبان پاکستان‘ جماعت الاحرار‘ حقانی نیٹ ورک کے ٹھکانے موجود ہیں اور وہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کررہے ہیں۔ بھارت افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لئے استعمال کررہا ہے۔ حقانی نیٹ ورک سمیت دیگر تنظیموں کے آٹھ سینئر لیڈر افغانستان میں مارے گئے ہیں۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں کہا تھا کہ افغانستان کی صورتحال سنجیدہ ہے ۔بھارت ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں پاکستان کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھانا چاہتا تھا لیکن مشکلات کے باوجود پاکستان نے کانفرنس میں شرکت کی۔ بھارت نے میڈیا کے ساتھ ناروا سلوک کرکے منفی تاثر دیا جس کو کانفرنس کے شرکاء نے پسند نہیں کیا۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی۔بھارت اور افغانستان کی طرف سے پاکستان پر ہرزہ سرائی اور پروپیگنڈا دراصل حقائق پر پردہ ڈالنے کی حکمت عملی ہے۔ بھارت ایک دہشت گرد ملک ہے اور اس کی دہشت گردانہ کارروائیاں طشت از بام ہوچکی ہے۔ افغانستان میں دہشت گردوں کی کئی آماجگاہ گاہیں موجود ہیں اور پاکستان میں کی جانے والی دہشت گردی کی منصوبہ بندی بھی افغانستان سے کی جارہی ہے۔ ٹھوس شوہد کے باوجود پاکستان ہمسایہ ملکوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے۔ بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور بھارت کے ساتھ تمام متنازعہ مسائل کا حل مذاکرات سے نکالنا چاہتا ہے لیکن بھارتی رویہ رکاوٹ ہے۔ پاکستان افغانستان کو مستحکم دیکھنا چاہتا ہے اور خطے کو دہشت گردی سے پاک کرنے کیلئے مل جل کر کوشش کا بھی حامی ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرے اور بھارت کو دو ٹوک جواب دے اور بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرے ۔ بھارت شرافت کی زبان نہیں سمجھتا ۔ عالمی برادری کو بھی چاہیے کہ وہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام متنازعہ مسائل کے حل کیلئے اپنا کردار اداکرے ۔ پاکستان خطے میں پائیدار امن چاہتا ہے اور بھارت خطے کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ تمام مسائل کا حل مسئلہ کشمیر سے ہی ممکن ہے۔
طیارہ حادثے کی تحقیقات کا حکم
وزیر اعظم نواز شریف نے حویلیاں کے قریب طیارے کے المناک حادثے کی مکمل شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کاحکم دیتے ہوئے کہاہے کہ یہ انکوائری سیفٹی انوسٹی گیشن بورڈ کرے اور اس کو کم از کم وقت میں مکمل کیا جائے ، تحقیقات کے بعد تمام حقائق کو عوام کے سامنے لایا جائے گا، ایئر فورس کے سینئر آفیسرز کو بھی اس انکوائری کمیٹی کا رکن بنایا جائے اور انکوائری میں ایئر فورس کے سینئر افسران کے تجربات سے بھی مدد لی جائے، وزیراعظم نے پی آئی اے انتظامیہ کو سختی سے ہدایت کی کہ طیارے حادثے میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے مکمل رابطہ رکھا جائے اور میتوں کو ان کے حوالے کرنے کے حوالے سے ان سے مکمل تعاون کیاجائے۔پی آئی اے کے اے ٹی آر طیارے کی تباہی کے بعد کے حالات ‘ ابتدائی انکوائری اور ریسکیو کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعظم کو چیئرمین پی آئی اے اور سیکرٹری ایوی ایشن‘ ڈی جی سول ایوی ایشن اور پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے طیارے کی تباہی اور اس کے بعد کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ طیارے کا پائلٹ ایک تربیت یافتہ اور تجربہ کار پائلٹ تھا اور اس کے پاس 10 ہزار گھنٹے تک جہاز اڑانے کا تجربہ تھا۔ وزیر اعظم کو یہ بھی بتایا گیا کہ بدقسمت طیارہ فلائنگ کیلئے مکمل فٹ تھا اوراس کی تمام تر حفاظتی پہلوؤں کو یقینی بنایا گیا تھا اور حالیہ سال جولائی اور نومبر میں اس طیارے کی مکمل انسپکشن کی گئی تھی جس کے بعد طیارے کو اڑان کیلئے فٹ قرار دیا گیا تھا۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ طیارے حاد ثے کی مکمل شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کی جائے اور یہ انکوائری سیفٹی انوسٹی گیشن بورڈ کرے اور اس کو کم از کم وقت میں مکمل کیا جائے اور تمام حقائق انکوائری کے نتیجے میں سامنے لائے جائیں اور ان حقائق کو عوام کے سامنے لایا جائے گا۔طیارہ حادثہ کی تحقیقات کو جلد مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے نتائج عوام کے سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ فضائی حادثے پریشان کن ہیں ان کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات کیے جائیں۔
پانامہ کیس کی سماعت ملتوی
پانامہ کیس کی ازسرنو سماعت نے عوام کی بے تابی اور بے قراری کو بڑھا دیا ہے اور ان کی امیدیں اور امنگیں تشنہ لبی کا شکار ہوگئی ہیں اب پانامہ کیس کی سماعت جنوری کے پہلے ہفتے میں ہوگی ۔ نیا بنچ بنے گا چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ میں ریٹائر ہورہا ہوں اور سردیوں کی تعطیلات بھی ہورہی ہیں ۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے عوام کی امنگوں پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ پانامہ کا ہنگامہ جوں کا توں رہ گیا توقع کی جارہی تھی ۔ عدالت عظمیٰ 2016ء میں ہی اس اہم کیس کا فیصلہ سنا دے گی لیکن اب یہ 2017ء میں چلا گیا ہے ۔ کرپشن کے خلاف سیاسی جماعتوں کا احتجاج مزید بڑھے گا اور سیاسی اُفق پر اس کے اثرات گہرے ہونگے۔ احتساب سے بالاتر کوئی نہیں پاکستان کی تاریخ کا یہ ایک ایسا کیس ہے جس نے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرنے ہیں کرپشن کی روک تھام کے حوالے سے قوم کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہے اور قوم عادلانہ اور منصفانہ فیصلے کیلئے بے تاب ہے۔