- الإعلانات -

آئین اور سماج

کسی بھی ریاست یا سماج کی بقاء اور ترقی کے لیے ضروری ہے کہ وہ نظم اجتماعی پر عمل پیرا ہو۔دور جدید مین اس نظم اجتماعی کو آئین کہا جا سکتا ہے۔ سوال اب یہ ہے ہم بطور معاشرہ اس آئین کو کس حد تک مانتے ہیں ۔یاد رہے غزل صرف مطلع کا نام نہیں ، اس میں مقطع بھی آتا ہے اور گاہے مقطع میں سخن گستران بات بھی در آتی ہے۔
سیکولر احباب سے آغاز کر لیتے ہیں۔برادر مکرم وجاہت مسعود سے لے کر عالی جاہ امتیاز عالم تک اور حقوق انسانی اور آئین دوستی مشغلہ کرنے والی ان عالی مرتبت خواتین سے ،جو ’ سول سوسائٹی‘ تخلص کرتی ہیں، جناب ایاز امیر تک،کون ہے جو اس آئین اور قانون کو مانتا ہے؟یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک آدمی اس آئین کو مانتا ہو اور پھر بھی سیکولرزم کا داعی ہو۔کیا ان احباب کو علم نہیں کہ آئین کے آرٹیکل 2کی رو سے پاکستان کا مملکتی مذہب ’اسلام ہے ؟کیا وہ لا علم میں کہ آئین میں اللہ کو پوری کائنات کا حاکم مطلق قرار دیا گیا ہے؟کیا وہ نہیں جانتے کہ ایک ایسے نظام کی تشکیل آئینی فریضہ ہے جس میں قرآن و سنت کے اصولوں کے تحت زندگی گزرای جا سکے؟مذہب کو انفرادی زندگی تک محدود کر دینے کے یہ داعی کیا اس بات سے آگاہ نہیں کہ آئین نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی زندگی کو بھی اسلام کے اصولوں کے مطابق گزارنے کا تقاضا کرتا ہے؟کیا انہوں نے آرٹیکل 31 نہیں پڑھا جس میں مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی اسلام کے بنیادی اصولوں کے مطابق گزارنے کے لیے سہولیات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری قرار دی گئی ہے بلکہ ریاست کو اس بات کا بھی پابند کر دیا گیاہے کہ وہ ایسے اقدامات کرے کہ عوام قرآن و سنت کے مطابق زندگی کا مفہوم سمجھ سکیں۔اس آرٹیکل کے تحت ریاست اس بات کی بھی پابند ہے کہ وہ اسلام کے اخلاقی معیاروں کو فروغ دے؟ کیا ان کی عقابی نظروں سے کبھی آرٹیکل 227 نہیں گزرا جس نے یہ اصول طے کر دیا ہے کہ موجودہ تمام قوانین کو اسلام کے مطابق بنایا جائے گا اور کوئی ایسا نیا قانون نہیں بنایا جائے گا قرآن و سنت کے منافی ہو؟آئین کے ان آرٹیکلز سے پوری آگہی کے باوجود اگر یہ عالی مرتبت شخصیات سیکولرزم کی بات کرتی ہیں تو اس رویے کو نام کیا نام دیا جائے؟آئین دوستی تو یہ کہلا نہیں سکتی ،کیا اسے سیکولر انتہا پسندی کہا جائے؟
اب آئیے میڈیا کی طرف ، کارپوریٹ کلچر کی جملہ تحدیدات کے باوجود جو عالم وجد میں خود کو ریاست کا چوتھا قرار دینے پر مصر ہے۔آرٹیکل 37فحش ادب اور فحش اشتہارات کی مما نعت کرتا ہے لیکن میڈیا کیا دکھا رہا ہے؟بات کی جائے تو میک اپ سے لدے خواتین و حضرات کیمروں کے آگے تشریف فرما ہو جاتے ہیں اور کمال معصومیت سے سوال کرتے ہیں : یہ فحاشی کیا ہوتی ہے؟اس لمحے آدمی سوچتا ہے یہ حضرات کسی کی ہاں پیدا ہوئے تھے یا ورکشاپ میں تیار ہو کر آ گئے ہیں کہ بنیادی انسانی اخلاقیات ہی کو سینگوں پر لیے بیٹھے ہیں۔اب اگر ماتھرا کی شوز میں بھی فحاشی نہیں ہے تو یہ روشن خیال حضرات اس کلچر کو اپنے گھر تک کیوں نہیں لے جاتے؟فحاشی کے خلاف بات کرو تو ارشاد ہوتا ہے کوئی اور چینل لگا لو یہ مت دیکھو۔سماج ان کے کیمرے اور قلم کے شر سے ڈرتا ہے ،آگے سے یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ ہم چینل کیوں بدلیں تم یہ سرگرمیاں اپنے گھر میں اپنی محرمات تک محدود رکھو۔ریاستی قوانین کو میڈیا نے سینگوں پر لے رکھا ہے۔آئین فوج کو بطور ادارہ ایک تقدس دیتا ہے مگر ہمارے ’ سینیر تجزیہ کار‘ فرد اور ادارے کے فرق کو پامال کر کے آٹھ سے بارہ بجے تک وہ درفنطنی پھیلاتے ہیں کہ الامان و الحفیظ ۔قوانین موجود ہیں مگر ان پر لاگو نہیں ہو سکتے۔کوئی بندوق کی طاقت سے آئین اور قانون پامال کرتا ہے تو کوئی قلم اور کیمرے کی طاقت سے۔کھڑے سبھی ایک ہی لائن میں ہیں۔
*****