- الإعلانات -

ٹھوس معاشی پالیسیوں کی ضرورت

وزیراعظم محمد نوازشریف نے وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت ایکسپورٹ ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گھبرانے والے نہیں،ڈٹ کر کٹھن حالات کا مقابلہ کرتے ہیں،ماضی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کر رہے ہیں،توانائی بحران ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والے تاریخیں ہی دیتے رہے،عوام کو دھوکہ دے کر سیاست کرنے پر یقین نہیں رکھتے ،2018 میں بجلی کا مسئلہ حل ہوجائے گا،گذشتہ حکومت کی کارکردگی پر عوام نے انتخابات میں فیصلہ سنایا، کراچی کی رونقیں بحال کرنے کیلئے آپریشن جاری رہے گا،دہشتگردوں کی کمرٹوٹ چکی ہے،دین میں فتنہ و فساد پھیلانے والوں کو کچل ڈالنے کا حکم دیا گیا ہے،ہمارے دور میں بدعنوانی کا کوئی سکینڈل سامنے نہیں آیا،خیبرپختونخوا میں ترقیاتی کام ہم کر رہے ہیں،اگر ہم کے پی کے میں حکومت بنالیتے تو دھرنے والے کیسے بے نقاب ہوتے۔حکومت میں آئے تو بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا تھا،ماضی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان بحرانوں کا شکار ہوچکا تھا،ماضی کی غلط پالیسیوں سے ملک کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کر رہے ہیں،سب سے پہلے توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے منصوبہ بندی کی گئی،توانائی بحران ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والے تاریخیں ہی دیتے رہے،عوام کو دھوکہ دے کر سیاست کرنے پر یقین نہیں رکھتے۔ماضی کی حکومتوں نے اس مسئلے پر کوئی توجہ نہیں دی۔وزیراعظم نے کہاکہ ہماری سوچ2018تک محدود نہیں بلکہ کہیں آگے کی ہے،ماضی کے حکمرانوں کا کوئی سکینڈل سامنے نہیں آیا،گزشتہ حکومت نے عوام کے مسائل کے حل کیلئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے،گذشتہ حکومت کی کارکردگی پر عوام نے انتخابات میں فیصلہ سنایا۔حکومت کی معاشی پالیسیوں سے برآمدات پر مثبت اثرات مرتب ہوئے،ہمیں شرح نمو پر بھرپور توجہ دینی ہے،شرح نمو میں اضافے سے غربت ،پسماندگی اور بے روزگاری کا خاتمہ ممکن ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ زراعت کے شعبے کی ترقی کیلئے کسانوں کو بھرپور مراعات دیں گے،سی پیک منصوبے سے توانائی سمیت مختلف بحرانوں پر قابو پارہے ہیں،تھر پاکستان کے شاندار مستقبل کی امید ہے،تھر کے کوئلے کی فراہمی سے پاکستان کی توانائی ضروریات پوری ہوں گی،ہماری ترجیح سستی اور وافر بجلی کی فراہمی ہے،برآمدات بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے،بھاشا ڈیم 1400ارب روپے کا منصوبہ ہے،بھاشا ڈیم کیلئے زمین خرید لی گئی،یہ ملک کا سب سے بڑا توانائی و آبی منصوبہ ہوگا،کراچی کی رونقیں بحال کرنے کیلئے آپریشن جاری رہے گا،گذشتہ 70برس میں گوادر کی ترقی پر کسی نے توجہ نہیں دی۔ گوادر پاکستان کیلئے گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے،بلوچستان کے عوام کی مایوسی خوشی میں تبدیل ہورہی ہے۔وزیراعظم نے بجا فرمایا اس وقت ملک کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے ایک طرف دہشت گردی ہے تو دوسری طرف بھارتی جارحیت سر اٹھائے دکھائی دے رہی ہے لیکن ہمارے خیال میں سیاسی استحکام کی اس وقت ملک کو ضرورت ہے اس کے بغیر ملک کو ترقی و خوشحالی کے راستے پر نہیں ڈالا جاسکتا۔وزیراعظم سیاسی تدبر اور بصیرت سے کام لیتے ہوئے سیاسی حالات کو سدھاریں اور سیاسی عدم استحکام سے ملک کو بچائیں جمہوریت میں وزیراعظم عوام کے سامنے جوابدہ ہوا کرتا ہے بدقسمتی سے ہمارے ہاں حکومت اور اپوزیشن آپس میں الجھتی رہتی ہے جس سے محاذ آرائی ہوتی ہے اور سیاست کھینچا تانی سے ملک کی ترقی مفلوج ہوجاتی ہے اب بھی وقت ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام لایا جاسکتا ہے اور ملک کو مسائل کے گرداب سے نکالا جاسکتا ہے ۔ حکومت کا یہ فرض قرار پاتا ہے کہ وہ ملک سے بیروزگاری ، مہنگائی کاخاتمہ کرے ، معاشی انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے اور عوام کے جان و مال کا تحفظ کرے جب تک سماجی انصاف نہیں ہوگا اس وقت تک حکومت پر تنقید ہوتی رہے گی ۔ حکومت معاشی استحکام کیلئے کوشاں ہے لیکن مزید اقداما ت کی ضرورت ہے۔
چیف جسٹس کا فل کورٹ ریفرنس سے خطاب
فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہاکہ ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ ملک کے اندر جاری نا انصافی ،اقرباء پروری اور بد عنوانی کے تدارک کے سلسلے میں اپنا کردار بہتر طور پر ادا کر سکوں۔ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کیے لئے ضروری ہے کہ ادارے نا صرف مضبوط ہوں بلکہ ان میں مکمل ہم آہنگی ہو۔لہٰذا میں نے اپنی استطاعت کے مطابق نہ صرف عدلیہ کو بلکہ دیگر حکومتی اداروں کو مضبوط کرنے اور ان میں مکمل ہم آہنگی پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے ۔ ان تمام کاوشوں سے آپ لوگ بخوبی واقف ہیں۔ اب آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ میں اپنی کوششوں میں کس حد تک کامیاب ہوسکاہوں۔انہوں نے کہاکہ فراہمی انصاف میں بار کے کردار کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے ہمیشہ بنچ اور بار کے مابین تعلقات کو بہتر کرنے کے سلسلے میں ہر ممکن کوشش کی ہے۔یہاں مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی محسوس ہوتی ہے کہ اصولوں پر بغیر کسی سمجھوتے کے اس سلسلے میں مجھے ہمیشہ بار کی جانب سے مکمل تعاون اور حمایت حاصل رہی ہے جس پر میں بار کے نمائندگان اور ممبران کا مشکور ہوں۔میں امید رکھتا ہوں کہ مستقبل میں بھی بار فراہمی انصاف کو یقینی بنانے کے لیے عدلیہ کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی اور سائلان کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اپنامثبت کردار بھر پور انداز میں ادا کرے گی۔ نامزد چیف جسٹس مسٹر جسٹس ثاقب نثار نے کہاکہ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی صوفی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، چیف جسٹس کے والد حضرت بابافرید گنج شکر کے مرید تھے، چیف جسٹس انورظہیرجمالی کی خدمات بے مثال ہیں، ان کا منصب امتحانوں اور آزمائشوں سے بھرا پڑا ہے۔ عدلیہ شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ذمہ دارہے، آزاد عدلیہ جمہوریت کا اہم جزو ہے، عدلیہ کو غیر جانبدار اور دباؤ سے آزاد ہوکرکام کرنا چاہیے، اللہ کے فضل سے پاکستان کی عدلیہ آزاد ہے اورعدلیہ آئندہ بھی اپنی آزادی کو برقراررکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بددیانتی، بے ایمانی سے ہی بدعنوانی پروان چڑھتی ہے جب کہ حکومت اورانتظامیہ کی اختیارات کے استعمال میں کوتا ہی کرپشن ہے۔ چیف جسٹس نے بجا فرمایا ہے اس وقت ہر طرف افراتفری اور معاشی نا انصافی کا دور دورہ ہے اور بدعنوانی کا بازار گرم ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بدعنوان کی روک تھام کیلئے کون اقدام کرے گا ۔ حکومتی سطح پر کرپشن کے سدباب کیلئے کوئی خاص حکمت عملی دیکھنے میں نہیں آرہی ہے ۔ عوام کی نظریں عدلیہ پر لگی ہوئی ہیں اور عوام انصاف کی فراہمی کیلئے عدالت کی طرف دیکھتے ہیں فوری انصاف ہی عدل کے تقاضے پورے کرنے کا باعث قرار پاسکتا ہے اس وقت ملک میں انصاف کی فراہمی ایک مسئلہ ہے ۔ اگر یہ فوری مل جائے تو عدل و انصاف کے جملہ تقاضے پورے ہوسکتے ہیں ۔ چیف جسٹس نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ نہ صرف درست ہیں بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جس سے اقربا پروری اور بدعنوانی کاخاتمہ ممکن ہو اور معاشرے میں اچھے رجحان و میلان فروغ پائیں وہی ملک اور قومیں ترقی کرتی جو اپنی ذمہ داریوں کو بطریق احسن نبھاتی ہیں سماجی انصاف تمام مسائل کے حل میں ممدومعاون ثابت ہوسکتا ہے۔