- الإعلانات -

مسلم معاشرے کب تک جلتے رہیں گے؟

واشنگٹن پوسٹ کے اس تجزیے نے دل ہی جلا ڈالا لیکن کیا کریں کہ بات تو اس نے ٹھیک ہی کہی۔
نیلف پیٹر اور روڈلفسن کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں جتنی سول وارز ہو رہی ہیں سب کی سب مسلمان ممالک میں ہو رہی ہیں ۔اور ساتھ ہی سوال کیا گیا ہے کہ کیا ممالک میں برداشت اور تحمل کی کمی ہے اور کیا وہ تشدد کی جانب مائل ہیں؟
اب جواب میں بھلے ہم کہتے رہیں کہ مسلم ممالک کو آگ لگانے میں سب سے بڑا کردار تو امریکہ کا ہے تو واشنگٹن پوسٹ مسلم معاشروں پر سوال اٹھانے کی بجائے امریکہ کے بارے میں سوال اٹھائے لیکن جناب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلمان معاشرے اگر خود کو خود آگ نہ لگائیں تو امریکہ کچھ نہیں کر سکتا۔ہم خود ایک دوسرے کو کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں تو امریکہ تو ظاہر ہے اس سے فائدہ اٹھائے گا ہی۔
افغانستان جل رہا ہے ۔یمن جل رہا ہے۔لیبیا میں آگ لگی ہے۔عراق میں خون بہہ رہا ہے۔پاکستان ایک مشکل لڑای سے دوچار ہے۔شام میں آگ اور خون ہے ۔سوال تو پیدا ہوتا ہے کہ جنگ کا میدان صرف مسلمان معاشرے ہی کیوں۔حلب میں ننھے وجود خزاں کے پتوں کی طرح بکھرے پڑے ہیں۔کچھ تو ایسے ہیں جیسے ٹہنی پہ تازہ گلاب رکھے ہوں،ان کے کٹے وجود بتا رہے ہیں کہ ماں کے دودھ کی مہک شاید ابھی ان کے ہونٹوں سے جدا نہ ہوئی ہو۔یہ مرنے کی عمر تو نہ تھی ، یہ تو کھیلنے کے دن تھے۔ان کی تصاویر دیکھتا ہوں اور اور آنکھوں میں روٹھے ساون بھی لوٹ آتے ہیں۔یہ کسی آنگن کے معصوم قہقہے تھے جو جل کر راکھ ہو گئے۔جستجو ہو تو کوئی اس راکھ کو کرید کے دیکھے ،ایک ہی صدا آ رہی ہے: اے برادر ان یوسف تم سب اتنے ہی پاٹے خان ہو تو براہ راست ایک جنگ کیوں نہیں کر لیتے؟تم کب تک اپنے گندے کپڑے غریب مسلمان ممالک کے صحنوں میں دھوتے رہو گے؟تمہارے اپنے معاشروں میں تو امن اور سکون ہے لیکن مسلم معاشروں کو تم نے میدان جنگ بنا دیا ہے ،ان کا سکون تم نے غارت کر دیا ہے۔تمہارے عارض و رخسار کی لالی قائم رکھنے کے لیے مسلمانوں کا اور کتنا لہو درکار ہے؟ ہنستے بستے سماج تم نے قبرستان بنا دیے ،کتنی آہیں چاہییں جو تمہارے کلیجے کو ٹھنڈا کر سکے؟
ہمارے ارد گرد آگ کے الاؤ دہک رہیں ہیں۔کوئی وقت جاتا ہے کہ اس سیلاب بلا کی دستک سے ہمارے کواڑ چٹخ کر رہ جائیں۔اس لیے ضروری ہے کہ ہم چند امور پر ٹھنڈے دل سے غور فرمائیں۔
ایران اور سعودی عرب کی باہمی کشمکش کیسے ختم کیا جائے۔اس کشمکش نے مسلم دنیا کو گھائل کر دیا ہے ۔کیا پاکستان یا ترکی آگے بڑھ کر اس کشمکش کو ختم کرانے میں کوی کردار ادا کر سکتے ہیں۔امت کا تصور جہاں جہاں ان کی فارن پالیسی کے خد و خال سنوارنے کے کام آیا انہوں نے اس کا فائدہ اٹھایا لیکن جہاں امت مسلمہ اور ان کے ریاستی مفادات ٹکرائے انہوں نے ہمیشہ سیکولر نیشن سٹیٹ کی طرح اپنے ریاستی مفاد کو ترجیح دی۔
مذہب کے نام پر انہوں نے مسلم معاشروں میں اپنی پراکسیز لڑیں اور اپنے وفادار پیدا کیے جو شہری تو دیگر مسلم ریاستوں کے ہوتے ہیں لیکن ان کی ڈوریں ان برادر اسلامی ممالک سے ہلتی ہیں۔اس کا جو نتیجہ ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔خون تو بہتا ہی ہے اور راکھ تو اڑتی ہی ہے فکر کی دنیا بھی آلودہ اور متعفن ہو چکی ہے۔اس رویے نے ایک بیمار نفسیات پیدا کر دی ہے۔ایک طبقہ یمن کو روتا ہے لیکن حلب پر خاموش ہو جاتا ہے اور ایک گروہ حلب پر خون روتا ہے اور یمن پر اسے چپ لگ جاتی ہے۔ہر گروہ اپنے ظالم کا دفاع کرتا ہے اور اپنے مظلوم پر آنسو بہاتا ہے۔وہی بات جس کا میں اکثر رونا روتا ہوں کہ اپنا اپنا ظالم اپنا مظلوم۔اپنوں پر ظلم ہو تو سب خون روتے ہیں اور اپنے ظلم کر رہے ہوں تو سب گونگے شیطان بن جاتے ہیں۔
اس وقت ترکی اور پاکستان ہی دو ایسے ممالک نظر آ رہے ہیں جو شاید کوئی کردار ادا کر سکیں اور ایران اور سعودی عرب کو قریب لا سکیں۔ایران اور سعودی عرب امت کے دو بڑے اہم ملک ہیں ۔جب تک یہ ایک دوسرے کے قریب نہیں آتے مسلم دنیا میں داخلی تصادم کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔
****