- الإعلانات -

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بربریت

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم کا سلسلہ آج بھی جاری ہے جس کے باعث وادی میں کشیدہ صورتحال ہے اور علاقے میں کرفیو نافذ ہے۔مقبوضہ کشمیر میں 8 جولائی کو بھارتی فوج کے ہاتھوں تحریک آزادی کے نوجوان کمانڈر برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد سے کشمیر میں بھارتی بربریت کے خلاف احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
بھارتی فوج نے آزادی کے لیے جدو جہد کرنے والے نہتے کشمیریوں پر زندگی اجیرن کررکھی ہے جب کہ علاقے میں تقریبا 3 مہینے سے کرفیو نافذ ہے جس کے باعث نظام زندگی مکمل طور پر مفلوج ہے۔کرفیو کے باعث تمام تعلیمی ادارے، کاروباری مراکز اور ٹرانسپورٹ بند جب کہ ریاست کی کٹھ پتلی حکومت نے علاقے میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بھی بند کر رکھی ہے۔حال ہی میں ضلع کشتواڑ میں بھارتی فوج نے بھارت مخالف نعرے لگانے کے الزام میں 3 حریت رہنماؤں کو گرفتار کرلیا، جس کے بعد علاقے میں فوج اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
مقبوضہ وادی میں کام کرنے والے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ سری نگر کے اسپتال میں پیلٹ گن کے استعمال سے زخمی ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے جس میں سے 300 افراد کے پیلٹ گن کی وجہ سے بینائی سے محروم ہونے کا خدشہ ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے باعث اب تک 108 کشمیری شہید اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں۔ہندوستانی فوج کشمیر میں نہتے اور بے گناہ شہریوں پر طاقت کا بے دریغ استعمال کررہی ہے اور خواتین و بچے بھی ان سے محفوظ نہیں ہیں۔ تشدد کی تازہ لہر کے دوران بھارتی مظالم کے باعث ایک سو دس کے قریب کشمیری شہید ہوچکے ہیں جبکہ بھارتی فوج کی جانب سے پیلٹ گنز کے استعمال کے سبب سیکڑوں بینائی سے بھی محروم ہوچکے ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ بھارتی بربریت انتہا کو پہنچ رہی ہے لیکن اس کے باوجود کشمیریوں کا جذبہ آزادی متزلزل ہونے کے بجائے مزید بڑھتا جارہا ہے۔اسی دوران بھارتی فورسز نے اْڑی میں بریگیڈ کیمپ پر حملے کا ڈرامہ رچا کر دنیا کی توجہ کشمیر کی صورتحال سے ہٹانے کی کوشش کی جبکہ پاکستان میں سرجیکل اسٹرائیکس کا شوشہ بھی چھوڑ اگیا لیکن اس کا یہ ڈرامہ اس کے اپنے ہی گلے پڑ گیا۔ کرفیو کے سبب کشمیری عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، وادی میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بھی معطل ہے جبکہ سکول بند ہونے کی وجہ سے طلبا کا قیمتی سال ضائع ہونے کا بھی خدشہ ہے۔ مقبوضہ جموں کشمیر سے متعلق کشمیر کی ایک انسانی حقوق تنظیم کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشتگردی کی جاری کارروائیوں میں جنوری 1989ء سے اب تک 95136بے گناہ کشمیریوں کو شہید کیاہے جن میں 7245کو دوران حراست شہید کیاگیا۔ ان واقعات سے 22,788خواتین بیوہ، 107,800بچے یتیم، 10,229، خواتین کی بے حرمتی،8ہزار سے زائد افراد کو حراست کے دوران لاپتہ ،106,025عمارتوں کو تباہ، ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار جبکہ کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت سینکڑوں کشمیریوں کو مختلف جیلوں میں قید کر دیا گیا۔ مقبوضہ جموں کشمیر میں تعینات بھارتی قابض فوج راشٹریہ رائفلز نے معصوم کشمیریوں کے قتل عام کے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ گزشتہ 25 برسوں کے دوران 8522 کشمیریوں کو شہید کیاگیا۔ راشٹریہ رائفلز کے اکتوبر 1990ء میں مقبوضہ جموں کشمیر میں داخل ہونے کے 25سال مکمل کرنے کے بعد بھارتی قابض فوج کی شمالی کمان کے ترجمان کرنل ایس ڈی گھوسوامی نے میڈیا کو بتایاکہ راشٹریہ رائفلز نے جموں کشمیر میں 25 برسوں کے دوران 8522کشمیریوں کو شہید کیا۔ اس وقت کے بھارتی آرمی چیف جنرل وی این شرما نے کشمیریوں کی تحریک کو کچلنے کیلئے آر آر کو یکم اکتوبر 1990ء کو مقبوضہ جموں کشمیر میں بھیجااور اس کی تجویز اس وقت کے لیفٹیننٹ جنرل بی سی جوشی نے دی تھی۔ کشمیر میں مظاہروں کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ بھارت پاکستان پر مظاہرین کی حمایت کرنے اور علاقے کے عوام کو اشتعال دلانے کا الزام لگا رہا ہے جبکہ پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت کشمیریوں کے مطالبات کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے اور وہ کشمیری عوام کیساتھ یکجہتی کو جاری رکھے گا۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان خطے میں دہشت گرد "برآمد” کر رہا ہے اور وہ سفارتی طور پر اپنے اس پڑوسی ملک کو بین الاقوامی برادری میں تنہا کر دیں گے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریر کے جواب میں پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے کہا کہ ’یہ امر افسوس ناک ہے کہ ہندوستان ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اشتعال انگیز بیانات اور بے بنیاد الزامات لگاکر پاکستان کو بدنام کرنے کی مہم چلا رہا ہے۔ کشمیر میں 8 جولائی کو نوجوان حریت کمانڈر برہان مظفر وانی کے انڈین فورسز کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل کے بعد سے ہندوستانی فوج کے مظالم میں شدت آگئی ہے اور ابتک 108 سے زائد کشمیری ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں جبکہ سینکڑوں افراد بینائی سے محروم ہوچکے ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ عالمی برادری نے کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لیا ہے اور اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم کے علاوہ کئی ممالک نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
*****