- الإعلانات -

ہری جھنڈی

پہلے دھرنا،پھر سپریم کورٹ ،اور اب پارلیمنٹ سب جگہ ما سوائے پارلیمنٹ کے کیونکہ وہاں ابھی کیس زیر سماعت ہے ،باقی سب جگہوں سے پانامہ لیکس اور ملک میں جاری برسوں سے لوٹ کھسوٹ کے اس نظام کے خلاف آواز اٹھانے والوں کا جو حشر ہوا وہ ہم سب کے سامنے ہے ۔عمران خان نے دوبارہ اس بات کو جانچنے کیلئے ملک کے سب سے سپریم منتخب ادارے میں جاکر وزیر اعظم کی تقریر ،اور پھر اس تقریر کو سیاسی بیان سے مشابہت کے سانچے میں ڈھالنے والوں کو جانچا جائے کہ یہ واقعی اس ملک کے اٹھارہ کروڑ لوگوں کا نمائندہ ایوان ہے یا پھر اکثریتی جماعت کی مجلس شوریٰ ،پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی ،تحریق استحقاق، اور تحریک التوا کے ساتھ پارلیمنٹ میں گئیں تو جو ڈرامہ پارلیمنٹ میں خود حکومتی جماعت کی طرف سے رچایا گیا وہ سب کے سامنے ہے،سپیکر صاحب نے پردے کے پیچھے سے ہی دونوں جماعتوں کو ہری جھنڈی دکھادی۔یہ سب کچھ متوقع تھا کیونکہ جب تک ہم پارلیمنٹ کو بطور ایک سپریم قانون ساز ادارے کی طرح اہمیت و افادیت نہیں دیں گے،جمہوری حکومتیں چاہے جتنا بڑا بھی مینڈیٹ لیکر آجائیں اہم ترین حل طلب ملکی مسائل پر قانون سازی یا اس کیلئے بہتر طریقہ کار کو متعین کر نے میں ہمیں ماضی کی طرح مسائل درپیش آتے رہیں گے۔ہمارے ہاں کی جمہوری حکومتوں میں عام طور پر دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ کسی سیاسی جماعت کا منتخب وزیر اعظم ہو ،وزیر اعلیٰ ہو،سپیکر قومی اسمبلی ہو یا پھر چیئر مین سینٹ کوئی بھی خود جماعتی یا پارٹی کے مفادات و تحفظات کے تمغے سینے پر سجا کر ہی بیٹھتا ہے۔ان میں سے اکثر کوئی بھی عہدہ غیر جانبدار رہ کر محض ملکی مفادات و تحفظات کے تناظر میں پالیسیاں ترتیب دے ہی نہیں پاتے۔عہدہ سنبھال لینے کے بعد چاہے تو وہ ملک کا سپریم کمانڈر وزیر اعظم ہو یا پھر کسی صوبے کا وزیر اعلیٰ ،سپیکر قومی اسمبلی ہو یا پھر چئیرمین سینٹ وہ کسی ایک واحدسیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں رہتا ،بلکہ اس کے پاس وہ عہدہ پوری قوم کی امانت ہوتا ہے۔وہ غیر جانبدار ہوتا ہے اور اپنی جمات یا پارٹی سے بالا تر ہو کر غیر جانبدارانہ طریقے سے فیصلے کرنا یا پالیسیاں مرتب کرنا اسکی آئینی و قانونی مجبوری بن جاتا ہے۔مگر یہاں تو الٹی ہی گنگا بہہ رہی ہے ۔وزیر اعظم سے بڑا عہدہ ہمارے ملک کی جمہوری اساس و تاریخ میں نہیں ہے۔مگر خود وزیر اعظم صاحب جو اس ملک کے ہر ہر شہری اور فرد کا وزیر اعظم ہے خود پوری قوم اور پالیمنٹ کے سامنے بر ملا اس بات کا اظہار کر دے کہ ہمارے پاس اپنی تمام تر آف شور کمپنیوں اور جائیداد و کاروبار کی تمام تر تفصیلات موجود ہیں ،مگر پانامہ لیکس کیس سماعت کے دوران جب وزیر اعظم صاحب کی اس تقریر کو بطور ثبوت پیش کر نے کی کوشش کی جاتی ہے،تو پھر کہا جاتا ہے کہ یہ تو وزیر اعظم کی محض سیاسی تقریر تھی۔پالیمنٹ جیسے مقدس ادارے میں کھڑے ہوکر اتنے بڑے ایوان میں آج تک جو کہا جا تا رہا ہے کیا اسے بھی محض سیاسی کھیل ہی سمجھا جائے یا اس بات کی تصدیق و نفی کون کرے گا ،کہ فلاں بیان یا تقریر تو سیاسی تھی اور فلاں غیر سیاسی ،کتنا بڑا یو ٹرن ہے ایک ایسے عہدے کیلئے جو صرف مسلم لیگ ن کا نہیں اس ملک کے ہر فرد کا ہے۔۔یہ تو حالت رہ گئی ہے اس ملک کے ایک سب سے بڑے سپریم قانون ساز ادارے کی ساکھ کی کہ اس میں کہے گئے الفاظ و تقاریر کو ذرہ برابر بھی اہمیت نہ دی جائے ،تو پھر ان سیشنز میں دن رات ملکی معاملات پر بات چیت اور کی جا نے والی قانون سازی کو کیا سمجھا جائے۔کہ یہاں بولے گئے الفاظ محض فرضی ہیں اور اپنے بولے گئے الفاظ کو ownکرنے والا بھی کوئی نہ ہو۔پی ٹی آئی تو قطعہ نظر اس بات سے کہ آنے والے الیکشنز میں جمع خرچ کیا ہوگی،ابھی تو وہ ایک ایسے مسئلے کو منطقی انجام تک پہنچا نے میں لگے ہیں جو سب سے اہم ملکی مسئلہ ہے۔البتہ پیپلز پارٹی جس نے ایک طرف تو ستائیس دسمبر سے دما دم مست کرنے اور دوسری طرف پارلیمنٹ میں تحریک استحقا ق جمع کراکر آئندہ آنے والے انتخابات کیلئے کمپین کا آغاز کر دیا ہے۔سب کو پتہ اور سب اس بات کی توقع بھی کر رہے تھے کہ تمام تر شواہدات سامنے آجانے کے بعد اس کیس کو اپنے منطقی انجام تک پہنچ جا نا چاہئے تھا ،مگر ایسا نہ ہوسکا۔کیس ابھی سپریم کورٹ میں ہےlets wait and seeوالی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے انتظار ہماری مجبوری ہے۔احتساب و انصاف کے باقی ادارے تو اس ملک میں سپریم کورٹ کی اپنی ورڈکٹ کے مطابق با لکل نا کام ہو چکے ہیں لہذا ان سے توقع رکھنا ہی فضول ہے۔پی ٹی کی تحریک التوا ہو یا پھر پیپلز پارٹی کی تحریق استحقاق ہوگا وہی جو اس ملک کے بر سر اقتدار حکمران چاہیں گے۔یہاں سب کے سب اپنی ذات،جماعت اور پارٹیوں کے حصار میں قید ہیں ہمیں اپنی جانبداری کی بہت بڑی قیمت چکانا پڑتی ہے اور جو یقیناًہمارے ان بڑے عہدوں پر براجمان اشرافیہ کیلئے ممکن نہیں۔ہم ضمیر کے قیدی نہیں بلکہ خواہشات اور مفادات کے ہتھ بستہ غلام ہیں ۔
****