- الإعلانات -

سیکولر ازم کا جنازہ ۔ ہندو صہیونیت کا دور دورہ

بنگلہ دیشی نژاد نامور اور ممتاز امریکی صحافی ودانشور محمد زین العابدین نے آن لائن امریکی نیوز ایجنسی’ اے بی‘ میں لکھے اپنے ایک مضمون میں بھارت کے چہرے پر پڑے دوغلے معیار کا سارا کچھا چھٹا کھول کر رکھ دیا اپنے مضمون میں بھارت نواز بنگلہ دیشی حکومت کی اُن مسلمان دشمن مذموم کارروائیوں پر بھی اُنہوں نے اپنے شدید غم وغصہ کا برملا اظہار کرتے ہوئے کھل کر احتجاج کیا اور اُن یکطرفہ حالات وواقعات پر بڑی سخت تنقید کی جو وزیر اعظم حسینہ واجد کی ذاتی مخاصمت کے نام پر اُن کی سازشانہ سرپرستی میں بنگلہ دیش میں تاحال جاری ہیں‘ یقیناًاِس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیئے کہ وہ یہ سب کچھ بھارت کو ہر حال میں خوش رکھنے کے لئے کررہی ہیں، بھارت جو کہ خود کو بڑا ’سیکولر‘ ملک کہلاتا ہے، جبکہ وہاں انسانیت کے ساتھ ’سیکولرازم‘ کے نام پر لسانی ‘ فرقہ واریت اور انتہا پسندی کی جنونیت کے سنگین اور تشویش ناک واقعات دیش میں جگہ جگہ کہاں نہیں ہورہے آرایس ایس کی ذیلی متشدد و جنونی تنظیموں، مثلاً بجرنگ دَل‘ سنگھ پریوار‘ بھاچپا‘ وشواہندو پریشد اور اِن ہی جیسی دیگر باطل پرستانہ مکروہات سے لیس مسلح جتھوں نے پورے دیش کو تقریباً یرغمال بنایا ہوا ہے 69 برس قبل تقسیمِ ہند کے دِنوں میں ہی آر ایس ایس بڑی فعال اور سرگرم تھی لیکن دنیا کو دکھانے اور دھوکہ دینے کے لئے بھارتی کانگریس نے نام نہاد ’سیکولر ازم ‘ کا لبادہ اُڑھ لیا اور یوں مغربی دنیا کٹر ہندوقائدین کے دھوکہ میں آگئی ،تقسیمِ ہند کے دوران جب آر ایس ایس کے کرتا دھرتا ولبھ بھائی پٹیل نے جوکہ اُس وقت بھارت کے وزیر داخلہ تھے اُنہوں نے سکھوں کو ورغلا کر اپنے ساتھ ملا یا اور ہندو غندوں کے مسلح دستوں کو کھلی چھوٹ د ی کہ وہ سکھوں کے ساتھ مل کر بھارتی پنجاب اور دیگر علاقوں میں مسلمانوں کے خلاف کھل کر جو چاہئیں کریں، زبردستی مسلمانوں کو بھارت سے نکا لنے کی جنونی مہم شروع ہوئی مسلمانوں کے قافلوں کو جگہ جگہ ہندو بلوائی گروہوں نے نہ صرف لوٹا بلکہ مسلمانوں کا بے دریغ قتلِ عام کرایا گیا ایسے سبھی شرمناک جرائم سردار ولبھ بھائی پٹیل کی ملی بھگت اور اُن کی مرضی ومنشا سے کیئے گئے ’آر ایس ایس ‘1953 میں قائم ہوئی جس میں اُس وقت کے سبھی نامور ہندو قائدین شامل تھے ‘ یہ نریندرا مود ی تو کل کی پیدا وار ہے ، بعض لوگ یہاں تک کہتے ہیں’ جواہر لال نہرو خود اندر سے کٹر ہندو تھے وہ کبھی نہ تو سیکولر تھے نہ اعتدال او رروشن خیال ‘ اگر وہ 10% بھی سیکولر ‘ روشن خیال یا اعتدال پسند ہوتے تو کبھی وہ تقسیمِ ہند کے ’لندن پلان ‘ کی کشمیر اور حیدرآباد دکن سمیت جونا گڑھ میں یوں دھجیاں نہ اُڑاتے‘ جواہر لال نہر و سے آج نریندرا مودی تک سبھی ایک رنگ میں رنگے نظر آتے ہیں، تاریخ نے کسی کو کبھی معاف نہیں کیا جنہوں نے بھی تاریخ کو دل سے تسلیم کرنے سے انکار کیا اپنی من مانی کی جواہر لال نہرو کا شمار بھی اُنہیں میں ہوتا ہے جیساکہ آج بنگلہ دیشی نژاد امریکی صحافی ودانشور مسٹر زین العابدین مانتے ہیں کہ بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کیسی بدنامِ زمانہ ہوشیاری وچالاکی سے 2013 میں بھارتی انتخابات میں ’ہندو کارڈ‘ کھیل کر دیش کا وزیر اعظم بن بیٹھا اور اِس سے قبل2001 میں جب مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تو اُسی وقت دیکھنے والوں نے بخوبی سمجھ لیا تھا کہ نریندرامودی نے بحیثیتِ وزیراعلیٰ ریاست گجرات کے گودھرا کیمپ میں بے قصور مسلمانوں کے خلاف کھلی اور سینہ ٹوک دیدہ دلیری سے مسلمانوں کا دن دھاڑے جس شرمناکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قتلِ عام کرا یا ‘ مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو جلا کر خاکستر کیا اور اپنے اِن شرمناک مظالم پر ندام ہونے کی بجائے اور کھل کر ایسے شرانگیز اور نفرت آمیز متعصبانہ بیانات دئیے اُسی وقت بھارت بھر میں یہ ایک رائے قائم ہوگی تھی جو رفتہ رفتہ ا ور زیادہ پختہ ہو تی چلی گئی کہ یہ نر یندرامودی اب گجرات کی ریاست سے نئی دہلی کی مرکزی حکومت کی طرف پرواز کرئے گا، یعنی بقول محمد زین العابدین کے ‘ یوں سمجھا جائے کہ نریندرا مودی کو ایک سوچی سمجھی سازش کے ذریعے سے نئی دہلی کی مرکزی حکومت تک پہنچانے میں بھارتی اسٹبلیشمنٹ نے ایک اہم خفیہ کردار ادا کیا ہے، دوبر س قبل نریندرا مودی نے جب پہلی بار بنگلہ دیش کا سرکاری دورہ کیا تو اِس موقع پر منعقدہ تقریب سے اپنے خطاب میں مودی نے یہ کہہ کر’ نام نہاد بنگلہ دیشی آزادی‘ کے’ نام نہاد ہیروؤں‘ کی مٹی پلید نہیں کردی؟ اُس نے سینہ ٹھوک کر یہ اعتراف کیا کہ ’بنگلہ دیش کی آزادی میں بھارت نے اہم کردار ادا کیا ہم بھی اُس وقت جوان تھے بنگلہ دیش کی آزادی میں ہماری بھی محنتیں اور کاوشیں ہیں اُن لمحوں میں حسینہ واجد کا کیا حال ہورہا ہوگا جو اپنے باپ شیخ مجیب الرحمان کو بنگلہ دیشی آزادی کا ’بنگلہ بدھو‘ سمجھتی ہے ؟اور ہاں! یا د آیا چند برسوں قبل پاکستان کے بھی کچھ ’بد حواسوں نے ’فررینڈز آف بنگلہ دیش ‘ کے ایوارڈز بڑے فخر سے وصول کیئے بڑا شرمناک موقع تھا یہ کہ نریندرا مودی کے اِس اعتراف کے بعد کہ بنگلہ دیش کی آزادی بھارت کی مرہون منت ہے کیا اُن چند ’بدحواس پاکستانی شخصیات ‘ کا فخروانبساط سے یہ ایوارڈز وصول کرنا اُنہیں زیب دیتا تھا مودی کے اِس اعترافی بیانِ جرم کے بعد وہ کچھ شرمسار و نادم بھی ہوئے یا نہیں ؟بحرحال یہ چند متکبر پاکستانی ’بدحواس ‘ شخصیات جانیں تاریخ جانیں کہ وہ اِن کے بار ے میں اور کیا کیا کچھ القابات و انکشافات اپنے صفحات میں درج کرتی ہے؟ کالم کے اختتام پر یہاں یہ تذکرہ کرنے کوہمارا دل چاہ رہا ہے ہم مانتے ہیں بھارت میں ایک طبقہ بہت زیادہ روشن خیال اور اعتدال پسندی کے مزاج رکھتا ہے وہ ہی اعلیٰ تعلیم یافتہ روشن خیال اور اعتدال پسند باشعور بھارتی نوجوان جو کہتے ہیں کہ ’ہم بھارت میں رہ کر اپنی فکری آزادی کی لڑائی خود لڑنے کی مکمل تیاری میں ہیں جو جنونی متشدد تنظیموں کے مسلح جتھوں کے سامنے کبھی کبھی اپنے سینے تان کر کھڑے بھی ہوئے ہیں گو اُن کی تعداد کسی حد تک ابھی بہت کم سہی ‘ لیکن یہ بات بھارتی اسٹبلیشمنٹ کے لئے ایک نہ ایک دن ضرور ایسا خطرہ بنے گی جو ثابت کرئے گی کہ بھارت کے اگلے وقتوں کے اور آج کے جنونی قائدین نے بڑا ملک ‘ بڑا جغرافیہ ‘ وسیع رقبہ کے حامل ملک کے لئے ملک کے مختلف حصوں میں آباد سماجی ومعاشرتی اور ثقافتی اکائیوں کے احترام کی پرواہ نہ کرکے کل بھی بہت بڑی غلطی کی تھی اور آج بھی وہ صحیح کو صحیح نہیں مان رہے لکیر کے فقیر بنے ’میں نہ مانوں کے اٹوٹ راگ ‘ الاپ رہے ہیں بھارت بھر میں آج کے تعلیم یافتہ روشن خیال اور اعتدال پسند طبقات کی نجی محفلوں میں یہ تذکرے عام سننے کو ملتے ہیں کہ اگر نئی دہلی کے جنونی اور متشدد حکمرانوں نے اپنی اِن متعصبانہ روش کو تبدیل نہیں کیا، تو اِس کا خمیازہ کئی نسلوں کو بھگتنا پڑ ے گا اور بدنصیبی کا یہ بدترین موقع بھارتی جغرافیہ کے وسیع وعریض رقبے کے لئے مستقبل قریب میں سوائے ’اسٹرٹیجک پشمانی ‘کے اور کوئی پیغام نہیں بن سکتا۔