- الإعلانات -

پی آئی اے اور کالا بکرا

آج ایک تصویر سوشل میڈیا سے شیئر ہوئی ۔تصویر کیا تھی ۔پی آئی اے کی فلائٹ تیار کھڑی ہے اور چند حضرات نے ایک کالا بکرہ لٹایا ہوا ہے اور اس کی گردن کاٹی جا چکی ہے ۔یہ گویا پی آئی اے کی جانب سے دنیا بھر کے لیے ایک اعلان ہے کہ عزیز مسافرو دیکھ لو ہم نے بکرا ذبح کر دیا ہے اب ہمارا سفر محفوظ ہو گیا ہے۔یا یوں سمجھیے پی آئی اے نے کہا ہے کہ عزیز مسافرو ہمارے پر آپ کو یقین نہیں تو نہ سہی اس بے زبان بکرے پر تو کر لو۔یا شاید اس کا پیغام یہ ہو کہ یہ پی آئی اے ہے ذرا اس پر سفر کر کے تو دیکھو ۔قصائی بھائی تمہیں بتا دیں گے سفر کیسے ہوتا ہے۔
ابھی ابھی ایک صاحب کا میسج. ملا. فرماتے ہیں: بکرے کی قربانی میں خرابی ہی کیا ہے؟ کیا ہم مسلمانوں کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ صدقہ بلا کو دور کر دیتا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ صدقے کے اس عمل کی توہین کر کے شعائر اسلامی کی توہین کر رہے ہیں۔؟
تو جناب گزارش یہ ہے کہ صدقہ کے عمل کی کوئی توہین نہیں کر رہا. مسافر اور ان کے عزیز و اقرباء بالعموم صدقہ دے کر سفر کرتے ہیں. اور بلاشبہ ہم. مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ صدقہ بلا کو دور کرتا ہے۔
تنقید کام چوری اور حرام خوری پر ہو رہی ہے. تنقید اس بات پر ہو رہی ہے کہ پی آئی اے کا کام سفر کو پیشہ ورانہ طریقے سے محفوظ بنانا ہے. ان کا یہ فرض ہے کہ حادثے کی تحقیقات سامنے لائیں اور مسافروں کا یقین اور اعتماد بحال کریں کہ پی آئی اے ایک محفوظ سفر کی. سہولت کا نام ہے. اس ضمن. میں پی آئی اے نے. کچھ نہیں کیا. بس صرف ایک بکرے کے گلے پر چھری چلا دی . اب دنیا کو کیا آپ یہ پیغام دے رہے ہیں کہ چونکہ ہم نے بکرہ ذبح کر دیا ہے اس لیے اب ہمارا سفر محفوظ ہو گیا ہے. پی آئی اے کا یہ فعل دنیا میں اس کی ساکھ بحال کرے گا یا اسے ایک مذاق بنا دے گا؟ آپ کے ذمے ریاست نے کچھ ذمہ داریاں عائد کی ہیں۔ آپ سمجھگتے ہیں کہ کام چوری کر کے اور حادثے کی تحقیق سامنے نہ لا کر آپ محض ایک عدد بکرے کی قربانی دے کر سرخرو ہو جائیں گے تو ایسا نہیں ہو گا۔آپ کی اصل ذمہ داری کچھ اور ہے ۔وہ آپ بکی پیشہ ورانہ مہارت اور دیانت ہے ۔اگر آپ اس سے کام لیتے ہیں اور دیانت و صداقت سے کام کرتے ہیں کام چوری نہین کرتے غفلت اور جرم کے مرتکب افراد کی پشت پناہی نہیں کرتے تو پھر دعا کے لیے صدقہ کرتے ہیں تو درست کام ہے لیکن اگر آپ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو ادا نہیں کرتے اور صرف بکرے کی گلی پر چھری پھیرتے ہیں تو یہ ایک مذاق ہی کہلائے گا۔تا ہم اگر پی آئی اے کا ستیاناس کر کے اگر اس کی. نجکاری کرنے کا آخری فیصلہ کر لیا گیا ہے تو دیدہ دلیری سے کیجیے. کم از کم اس میں مزہب کے سوئے استعمال سے تو پرہیز فرمائیے.ابھی کل ہی روزنامہ ڈان میں پچاس سال قبل کے اخبار کا عکس شائع ہوا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب کی ایک ٹیم پاکستان پہنچی تاکہ پی آئی اے کی ترقی کے عمل کا جائزہ لے سکے اور اس سے سیکھ کر انہیں خطوط پر وہ اپنی ایر لائن کو بھی کھڑا کر سکے۔ آ ج ہم کہاں کھڑے ہیں اور وہ کہاں ہیں۔پی آئی اے کے بارے میں طرح طرح کی کہانیاں گردش میں ہیں روز ویلٹ ہوٹل جو نیو یارک میں ہے سننے میں آ رہا ہے کہ نجکاری کے عمل کی خوااہاں قوتوں کی نظر اس پرہے ۔قومی ایر لائن تباہ ہو رہی ہے دوسری جان حال یہ ہے کہ مبینی طور پر خورشید شاہ کو اتارنے کے لیے پی آئی اے کا جہاز جو کراچی سے اسلام آباد آ رہا تھا اس کو سکھر موڑ دیا گیا تاکہ صاحب وہاں اتر سکیں۔ اپنے ملک میں ان کا رویہ یہ ہے ادھر بلاول ساحب برطانیہ گئے تو اگلوں نے جوتے وغیرہ اتروا کر تلاشی لی۔وہاں جائیں تو یہ لوف مہذب بن جاتے ہیں پاکستان کو انہوں نے خاندانی جاگیر سمجھا ہو اہے۔
قربانی ضروری ہو چکی لیکن بکرے کی نہیں پی آئی اے کے سا نڈوں کی جو کام نہیں کرتے اور جن کی وجہ سے ایک مثالی ایر لائن آج زبوں حالی کا شکار ہے ۔کیا آپ یہ قربانی دے سکیں گے ۔