- الإعلانات -

مسیحا کی تلاش

پاکستانی قوم کو 69سالوں سے ایک ایسے مسیحا کی تلاش ہے جو قوم کے دُکھ درد کا مداواکرے، جس پر قوم آنکھ بند کرکے اعتبار کرے کہ یہ قوم کی ڈوبتی ناؤپارلگا دے گا، مگر بدقسمتی سے میری پاکستانی قوم کو ابھی تک کوئی بھی ایسا حکمران نہیں مل سکا ہے جو قوم کے خوابوں کی تعبیر ہو، اور جو مُلک و قوم کے ساتھ مخلص ہو،قوم کو مسائل ، بحرانوں ، مہنگائی اور دہشت گردی جیسی غلیظ دلدل سے نکالنے کا سبب بنے اور مُلک و قوم کو اُس مقام پر پہنچادے جس کی میری پاکستانی غیور و محنت کش قوم حقدار ہے ۔یہاں یہ امرقابلِ ستائش اور لائقِ احترم ہے کہ قوم تو مُلک کی تعمیرو ترقی کیلئے مخلص ہے مگربڑے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑرہاہے کہ پچھلے 69سالوں سے جمہوراور جمہوریت کے نام پر یہی غیوراور محنت کش محبِ وطن قوم انتخابات میں جنہیں ووٹ دے کر ایوانوں تک پہنچاتی رہی ہے وہ ہی اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کے حصول کے خاطر قوم کی پیٹھ میں زہریلا خنجر/چھرا گھونپتے رہے ہیں ،قوم کے ووٹوں سے صدر اور وزیراعظم ہاوسز اور ایوانِ نمائندگان میں قدم رنجا فرمانے والوں نے ہی اپنے احکامات ، اقدامات اور انتظامات اور پالیسیوں اور منصوبوں سے قوم کے مسائل حل کرنے اور اِسے اِس کے بنیادی حقوق دلانے کے بجائے اُلٹا قوم کو طرح طرح کے قرضوں اور بحرانوں میں جکڑ کررکھ دیاہے بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ اِنہوں نے اپنی ذاتی اور سیاسی لڑائیوں سے مُلک میں بے روزگاری ، مہنگائی اور دہشت گردی کے ناسورکو پروان چڑھایا ہے پھر اِس پر خود ہی لہک لہک کر یہ نعرہ بلند کیا اور قوم سے بھی یہی نعرے بلند کراتے نہیں تھکے ہیں کہ اِنہوں نے مُلک و قوم کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کردیاہے حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے آج جس کے حکمران ، سیاستدان اور ادارے دعوے کررہے ہیں آج بھی میری پاکستانی پریشان اور مفلوک الحال قوم وہیں بے یارومددگار کھڑی ہے جہاں 69سال پہلے پڑی ہوئی تھی، ہاں حکمرانی کا نٹوں کا سیج ہے،مگر اُن حکمرانوں کیلئے جو اپنی قوم اور عوامی دُکھ درد کو محسوس کریں، اِ ن حکمرانوں کیلئے حکمرانی ہرگز کا نٹوں کا سیج نہیں ہوسکتی ہے، جوقوم کی تکالیف اور مسائل سے عاری ہوں اور جنہوں نے جنرل انتخابات میں حصولِ حکمرانی کے لئے انویسمنٹ کیں ہوں۔آج اگر میرے مُلک میرے معاشرے اور میری تہذیب کے حکمران یہ کہیں کہ حکمرانی کانٹوں کا سیج ہے تو جان لیجئے کہ یہ سفید جھوٹ بول رہے ہیں، کیونکہ یہ کیا جانے کہ حکمرانی کیا ہوتی ہے؟یہ توحکمرانی کا منصب سنبھال کر بس اپنی دُکانیں چلارہے ہیں ، اور دودونی چارکرکے چاردو نی آٹھ اور اِس طرح بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں آج اِس معاملے میں جا ئز و نا جائز سب چل رہاہے ، منصبِ اقتدار پر قدم رنجا فرمانے والوں کا سب کیا دھرا سیاہ سفید سب کے سامنے ہے ، سب کے بارے میں سب ، سب کچھ جانتے ہیں،کہ آج جو اشخاص حکمرانی کی شکل میں قوم پر مسلط ہیں ، اِن کی ظاہر وباطن حقیقت کیا ہے؟ یہ کیا تھے؟ اور آج کیا ہوگئے ہیں؟اِنہوں نے قوم کو کس طرح بیوقوف بنایا اور کس طرح قوم کی آنکھ میں دھول جھونک کر اِنہوں نے منصبِ حکمرانی خریدی ہے ،اور کس طرح اِدھر اور اُدھر دونوں طرف اپنے ذاتی اور فیملی ممبران کے بینک کھاتوں کی لمبی لمبی قطاریں بنائیں اور پھر بناتے ہی چلے گئے ہیں، مگراِنہیں قوم کی فلاح و بہبود کا ایک رتی برابر بھی خیال نہیں ہے ۔ بڑے افسوس کی بات یہ ہے کہ پچھلے کئی سالوں سے یہ پریکٹس جاری ہے آج تک اِس جانب نہ تو کسی میڈیانے آواز اُٹھائی ہے اور نہ کسی سماجی دردرکھنے والی کسی تنظیم نے یہ مناسب جا نا ہے کہ کوئی اِس جانب توجہ دلائے کہ خدارا خشکی تو خشکی اَب سمندر پر بھی پروٹوکو ل کلچرکو ہوادے کرقوم کوپروٹوکول کلچر کی پھینٹ چڑھنے سے بچایا جائے ۔کیا اَبھی قوم کو اپنے لئے ایسے مسیحا حکمران کی تلاش نہ ہو، جو اِس کے لئے توانائی بحرانوں، مسائل، بے روزگاری اور دہشت گردی کے ناسوروں سمیت خشکی اور تری کے پروٹوکول سے نجات دلائے۔
****