- الإعلانات -

چوہدری نثارعلی کا استعفیٰ

وزیراعظم میاں نوازشریف نے وزیر داخلہ چوہدری نثار کے استعفیٰ کی پیشکش مسترد کردی ہے ۔ وزیرداخلہ کے خلاف پاکستان پیپلزپارٹی نے محاذ کھول رکھا ہے ۔ بلکہ اس نے وزیرداخلہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر ان کا استعفیٰ نہ آیا تو 27 دسمبر کو دما دم مست قلندر ہوگا۔ پیپلزپارٹی نے استعفیٰ کی وجہ نہ بتائی ہے کہ وہ چوہدری نثار سے کیوں استعفیٰ مانگتی ہے ۔ اگر ایان علی کی گرفتاری پر جیالے ناراض ہیں تو وزیراعظم نوازشریف کو اس بحران کو ٹالنے کے لئے ایان علی کے خلاف بنائے گئے کیسز واپس لے لیں اگر ایان علی کی وجہ سے جیالے ناراض ہیں تو نوازشریف لوورز یہ پوچھ سکتے ہیں کہ پی پی پی کے جیالے ایان علی کی خاطر وزیرداخلہ سے یا مسلم لیگ ن سے دشمنی لینے پر کیوں تل گئے ہیں۔ حالانکہ آصف علی زرداری تو مفاہمت کی سیاست کرنے کی وجہ سے اپنا پورا دورِ صدارت امن اور اطمینان سے گزار گئے تھے ۔ وزیراعظم پاکستان اور ان عزیز و اقارب کے خلاف عمران خان نے سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کے حوالے سے کیس چلا رکھا ہے ۔ جس کی وجہ سے وزیراعظم میاں نوازشریف اور ان کا تمام خاندان پریشان اور ان کی جماعت دباؤ کا شکار ہے ۔ وزیراعظم کی پریشانی کو مد نظر رکھتے ہوئے سابق صدر آصف علی زرداری کو چاہئے کہ وہ وزیرداخلہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والے جیالوں کو رام کرتے ہوئے وزیر داخلہ کو کام کرنے دیں کیونکہ سپریم کورٹ اور کوئٹہ کمیشن نے جوالزامات وزیر داخلہ پر لگائے ہیں وہ ان کی معزولی کیلئے کافی ہیں۔ اور ایان علی کو بھی کچھ عرصہ بعد باعزت بری کردیا جائے گا۔ کیونکہ معتبر حضرت عدالت کو نہ بھی خریدیں تو گواہان سے تو سودا ہوسکتا ہے ۔ اور پھر عدالت کیا کریگی ۔ یعنی میاں بیوی راضی تو کیا کرے گاقاضی ۔
ایان علی صاحبہ ! کیلئے پریشان جیالوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ ایان علی کی گرفتار ی اور ان کے خلاف بنائے گئے مقدمات کی وجہ سے ایان علی بہت زیادہ مشہور ہوئی ہیں ۔ جس کیلئے انہیں وزیرداخلہ چوہدری نثار کا شکر گزار ہونا چاہئے کیونکہ ایان علی ملک کے اب ہر اخبار بین کے مطالعہ میں آچکی ہیں ۔ اور پی پی پی قیادت نے جس دلیری اور جرات مندی سے ان کا مقدمہ لڑ اہے ۔ اس پر ایان علی کو انہیں ایوارڈ دینا چاہئے کیونکہ پی پی پی کے وکلاء نے ان کا کیس ایسے لڑا ہے جیسے بے نظیر بھٹوسابق وزیراعظم جیسی قد کاٹھ والی شخصیت تھیں ۔ لو گ پوچھتے ہیں کہ کروڑوں روپے لے کر مقدمات لڑنے والے وکلاء نے ان کے کیسز کیا مفت لڑے ہیں ۔ یا پھر کتنی فیس لے کر لڑے ہیں اور اگر مفت کیس لڑے ہیں تو کس کے حکم پر ۔بہر حال ایان علی کیلئے لڑنے والوں کو اب وزیرداخلہ کے استعفیٰ کا مطالبہ ختم کردینا چاہئے کیونکہ اب وہ خود استعفیٰ دینے پر راضی ہیں اور وزیراعظم نوازشریف نے قومی مفاد کی خاطر واپس کردیا ہے ۔ نوازشریف قومی لیڈ ر ہیں لہذا ان کا نقصان قومی نقصان ہے ۔
نوازشریف لوورز نے اس بات پر خاصے پریشان ہیں کہ وزیرداخلہ استعفیٰ دینے پر کیوں راضی ہیں ۔ کیا کوئٹہ کمیشن رپورٹ میں انکے خلاف انکوائری رپورٹ آچکی ہے ۔ یا کمیشن ان کو قصور وار ٹھہرا رہا ہے ۔ ادھر عمران خان نے پانامہ کیس کے حوالے سے میاں نوازشریف فیملی کو پریشان کررکھا ہے ۔ اور ادھر وزیرداخلہ استعفیٰ دینے کی پیشکش کرکے وزیراعظم کو پریشان کررہے ہیںَ ان حالات میں وزیراعظم نوازشریف نے وزیر داخلہ کے استعفیٰ کی پیشکش کو قومی یا ذاتی مفاد کے خلاف تصور کیا ہوگا۔ چوہدری نثار بڑے بااصول آدمی ہیںَ انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں بڑے زور دیکر کہا ہے کہ انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا انہوں نے نیشنل ایکشن پلان کے مخالفین پر الزام لگایا ہے کہ بعض لوگوں نے اسے پڑھا تک نہیں اور وہ اس کی مخالفت کررہے ہیں چوہدری صاحب اس پروگرام کی سخت مخالفت کرنے والے آپ کے اتحادی مولانا فضل الرحمن ہیں کیا انہوں نے اسے نہیں پڑھا اآپ مولانا فضل الرحمن کو راضی کریں تو وہ ضرور پڑبڑھیں گے ۔ پہلے آپ اس پروگرام کو اردو میں ترجمہ کرائیں مولانا صاحب اسے ضرور پڑھیں گے ۔ اور مخالف کرنا ہوئی تو ضرور کرینگے ۔ اس پروگرام کے مخالفین گویا ملک میں امن و سلامتی کے دشمن ہیں ۔ ان کے خلاف کاروائی کریں ورنہ یہی آستین کے سانپ کل آپ کو بھی کاٹیں گے ۔
*****