- الإعلانات -

دہشت گردی کے خاتمے کو یقینی بنانے کا حکومتی عزم

وزیر اعظم نواز شریف نے جرمنی کے شہر برلن کی کرسمس مارکیٹ میں ٹرک سے شہریوں کو کچلنے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی ، پاکستانی قوم دکھ کی اس گھڑی میں جرمن حکومت کے ساتھ ہے ، دہشتگردی کے مکمل خاتمے کو یقینی بنایا جائے گا۔ واقعے میں12 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔ وزیراعظم نے کہاہے کہ پاکستانی عوام حکومت دکھ کی اس گھڑی میں جرمن حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ دہشتگردی مشترکہ دشمن ہے۔دنیا کو اس لعنت کے خاتمے کیلئے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔پاکستان کو بھی دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بہت زیادہ جانی و مالی نقصان ہوا ، لیکن دہشتگردی کے مکمل خاتمے کو یقینی بنایا جائے گا۔ وزیراعظم نے بجا فرمایا دہشت گردی کے خاتمے کو یقینی بنائے بغیر امن قائم نہیں ہوسکتا ۔ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔ پاکستان واحد ملک ہے جو اس وقت دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہا ہے اس میں اس کو ناقابل تلافی نقصان بھی اٹھانا پڑ رہا ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کی قربانیاں لازوال ہیں جن کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ آپریشن ضرب عضب کے ذریعے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے کئی علاقے دہشت گردوں کے تسلط سے واگزار کروائے جاچکے ہیں اور دہشت گردوں کا نیٹ ورک تباہ کردیا گیا ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے عسکری و سیاسی قیادت کو مزید سخت اقدامات کرنے ہونگے ۔ سابق آرمی چیف کی پالیسیوں کے تسلسل کو جاری رکھ کر ہی وطن عزیز سے دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جاسکتا ہے ۔ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کو یقینی بناکر ہی دہشت گردی کا خاتمہ ہوسکتا ہے لیکن صد افسوس کہ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد نہیں کیا گیا جس سے دہشت گردی کے خلاف مطلوبہ اہداف پوے نہ ہوسکے ۔ دہشت گردی کی اجازت دنیا کا کوئی مذہب نہیں دیتا اسلام تو ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے یہ کیسے لوگ ہیں جو اسلام کی آڑ میں خودکش دھماکوں اور حملوں کے ذریعے انسانیت کو اڑا رہے ہیں ۔ یہ درست ہے کہ دہشت گرد مشترکہ دشمن ہے اور اس دشمن کے خلاف دنیا کو مشترکہ اقدامات کرنے ہونگے ورنہ دہشت گردی کا یہ ناسور بڑھتے بڑھتے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ پاکستان کا دہشت گردی کے خلاف کردار عالمی برادری کیلئے قابل تقلید ہے اور عالمی سطح پر اس کو سراہا جارہا ہے دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے دنیا کو بھی کسی مصلحت پسندی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے یہ وہ دشمن ہے جو دنیا کا امن تباہ کرنے کے درپہ ہے ۔ وزیراعظم نے جوکچھ کہا وہ بے کم و کاست ہے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کو یقینی بنانے کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کرنا ہوگا اور یہ سیاسی قیادت کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اس پلان پر کماحقہ عمل درآمد کو یقینی بنائے پاکستان کو اس وقت جو سب سے بڑا چیلنج ہے وہ دہشت گردی ہے مکار دشمن پاکستان کوعدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے دہشت گردانہ کارروائیاں کروا رہا ہے۔ دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں ان کو عبرت کا نشان بنانا ضروری ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف پاک افواج کے کردار کو دنیا قدر کی نظر سے دیکھ رہی ہے ۔ دہشت گردی کا خاتمہ ہی ملک میں امن کی بحالی کا ذریعہ بنے گا اور ملک امن کا گہوارہ بن پائے گا۔
ریگولیٹری اتھارٹیز کی خودمختاری
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین سید خورشید شاہ نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ریگولیٹری اتھارٹیز کو وزارتوں کے ماتحت کرنے کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریگولیٹری ادارے وزارتوں کے ماتحت کرنے سے کرپشن بڑھے گی، حکومت نے سی سی آئی کے فیصلے کی دھجیاں اڑا دیں، کوئی شک نہیں رہا کی حکومت کرپشن کو سپورٹ کر رہی ہے،فیصلے سے وفاق کمزور ہوگا کرپشن بڑھے گی،ہم کرپٹ تھے تو پھر گلے کیوں لگایا گیا، گیارہ سال ہمیں جیلوں میں قید کر کے حکومت نے کیا ثابت کر دیا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی رپورٹ نے وزارت داخلہ کی کارکردگی کے تمام راز فاش کر دیے۔سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے پر تنقید کے بعد سیاسی منظر نامے کے نقشہ تبدیل ہوتا نظر آ رہا ہے، ریگولیٹری اداروں کو وزارتوں کے ماتحت اس وقت کیا گیا جب کرپشن کی دھمال پڑی ہوئی ہے۔ اداروں کو فیڈرل لیجیسلیٹو2 سے نکال کر سی سی آئی کی منظوری کے بغیر کیسے وزارتوں کے ماتحت کیا،ریگولیٹرز کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ،ہم نے بھی اپنے دور میں ریگولیٹرز کو مضبوط کیا، فیصلے کے خلاف پارلیمنٹ اور سڑکوں سمیت تمام فورمز استعمال کریں گے۔ خورشید شاہ نے کہا وزیر داخلہ کی کارکردگی بہتر ہوتی تو کمیشن سانحہ کوئٹہ پر ایسی رپورٹ کیوں دیتا، نیشنل ایکشن پلان پر کیا عملدرامد ہوا ہے،قاضی عیسیٰ کی رپورٹ نے تمام راز فاش کر دیئے ،وزارت داخلہ کا اہم کام سکیورٹی کی فراہمی ہے اسی میں ہی ناکام ہیں۔ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آنی چاہیے،ہمارے دور حکومت میں سیکورٹی صورتحال اور امن و امان کے پیش نظر رپورٹ سامنے نہیں لائی گئی۔ ریگولیٹری اتھارٹیز کو وزارتوں کے ماتحت کرنے کے حکومتی فیصلے کو تحریک انصاف نے بھی مسترد کردیا ہے۔ حکومت اس فیصلے پر نظرثانی کرے اور اس طرح کے اقدامات سے گریز کرے جو اداروں کی خودمختاری پر کاری ضرب کا باعث بنیں ۔ اس طرح کے فیصلے حکومتی ساکھ پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں اور ان کو غیر جمہوری گردانا جاتا ہے اس فیصلے سے ریگولیٹری اتھارٹیز کی آزادی اور خودمختاری ختم ہو جائے گی۔
وزیر داخلہ کا پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ حکومت کے نہیں پاکستان کے ملازم ہیں اور حرام میں برکت اور سکون نہیں۔ بس نیک نیتی اور انصاف میں سکون ہے۔ رینجرزکے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ رینجرزنے پولیس کے ساتھ مل کر اسلام آباد کو پر سکون بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اسلام آباد پولیس کو رینجرز کے نوجوانوں کو دیکھ کر اپنا معیار مزید تبدیل کرنا چاہیئے کیونکہ وہ بہترین طریقے سے اپنی ذمہ داری سنبھالتے ہیں۔ چوہدری نثارنے کہا کہ مجھے کرائم ریٹ زیرو کے قریب چاہیئے،آپ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے تربیت لے چکے ہیں، دہشتگردی کے خلاف جنگ کا پہلا دستہ اسلام آباد پولیس کا ہے۔ پولیس اہلکار ملک کے ساتھ وفاداری نبھائیں، آپ کی مراعات جتنی بھی ہوں کم ہیں، آپ سینہ سپرہوکر کام کرتے ہیں، آپ نے بہادری اور طاقت سے دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے اور میں شہیدوں کے خاندانوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے دہشتگردی کا خاتمہ کیا۔ پولیس کا کام لوگوں کے جان و مال کی حفاظت اور امن و امان قائم رکھنا ہے فرض شناسی ہی پولیس کے کردار کو لائق تحسین بنا سکتی ہے۔