- الإعلانات -

آئین ۔۔۔چند مزید گزارشات

آئین کی بات بیچ میں رہ گئی کہ کچھ اور موضوعات آ گے۔اسی بات کو مزید آگے بڑھاتے ہیں کہ یہاں آ ئین کی کون مانتا ہے۔
اہلِ سیاست کو دیکھ لیں۔بلاول بھٹو کسی غیر مسلم کو پاکستان کا وزیر اعظم دیکھنا چاہتے ہیں جب کہ آئین کہہ رہا ہے کہ وزیر اعظم کے لیے مسلمان ہونا ضروری ہے۔وزیر اعظم اس وقت تک منصب پر فائز نہیں ہو سکتا جب تک وہ یہ حلف نہ اٹھا لے کہ وہ مسلمان ہے، اللہ پر ، اس کی کتابوں پر، قرآن پر،یوم آخرت پر اور ختم نبوت پر یقین رکھتا ہے۔دستور پاکستان کا آرٹیکل 33 تمام علاقائی، نسلی، صوبائی اور فرقہ وارانہ تعصبات کی نفی کرتا ہے۔لیکن یہاں پیپلز پارٹی ابھی تک سندھ کارڈ استعمال کرتی ہے اور ایم کیو ایم مہاجر عصبیت سے بلند ہونے کو تیار نہیں۔اے این پی پختونوں سے باہر نہیں نکل پا رہی۔حتی کہ مذہبی جماعتیں بھی فرقوں اور قائدین کے نام پر تقسیم ہو چکی ہیں۔آرٹیکل 38نے سود کے خاتمے کی بات کی ہے لیکن جب شرعی عدالت کا فیصلہ آ گیا تو حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل کر دی۔اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ سے اس کھلی جنگ کی حکمرانوں کو کیسے ہمت ہوئی اور سپریم کورٹ نے کیسے حکومت کی اپیل مان لی۔ذرا غور تو کیجئے آئین کدھر گیا؟
آرٹیکل چھ بھی تو آئین ہے۔اس کی روح پر عمل کیوں نہیں ہو رہا۔آمروں نے مارشل لاء لگائے اور عدلیہ نے کہا ٹھیک کیا۔یہی نہیں عدلیہ نے مشرف کو تین سال آئین میں ترمیم کی اجازت بھی دے دی۔آرٹیکل چھ میں ترمیم کے بعد اب ہر وہ جج مجرم ہے جس نے 23مارچ 1956سے لے کر اب تک کبھی بھی کسی مارشل لاء کی توثیق کی ہو۔کیا افتخار چودھری کے جانثار آئین کے اس پہلو پر عمل ہونے دیں گے؟کیا مشرف اور اس کے سارے رفقاء آئین شکنی پر شرمندہ ہونے کو تیار ہیں؟طالبان کہتے ہیں آئین نہیں قرآن تو احباب برہم ہو جاتے ہیں لیکن کیا ہر فوجی آمر اور اس کے رفقاء یہی نہیں کہتے کہ آئین نہیں ریاست۔کتنی دفعہ مشرف اور ان کے وکیل یہ کہہ چکے ہیں کہ آئین پر وہ ریاست کو ترجیح دیتے ہیں۔’’مردِ مومن مردِ حق ضیاء الحق ضیاء الحق ‘‘نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا’’ آئین کیا ہے؟کاغذ کے چند ٹکڑے، جب چاہوں پھاڑ کر پھینک دوں‘‘۔
قادیانیوں کو کسی ایک آدھ مولوی نے نہیں، اس پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر غیر مسلم قرار دیا۔قانون کی رو سے وہ خود کو مسلمان نہیں کہہ سکتے،وہ نام اور علامات استعمال نہیں کر سکتے جومسلمانوں کے لیے خاص ہیں۔وہ اقلیت ہیں اور بطور اقلیت ان کے اپنے حقوق ہیں لیکن انہوں نے آئین کو سینگوں پر لے رکھا ہے اور خود کو مسلمان کہتے ہیں۔ہمارے سیکولر احباب بھی انہیں ’ قادیانی مسلمان‘کہتے ہیں۔سیکولر احباب کی انتہا پسندی کا عالم یہ ہے کہ ڈاکٹر اے کیو خان پر تبرا کرتے ہیں لیکن ڈاکٹر عبد السلام کے گن گاتے ہیں اور سوشل میڈیا پر مہم چل پڑتی ہے’’ واحد مسلمان سائنسدان جسے نوبل انعام دیا گیا‘‘۔ اب کہاں گیا آئین اور قانون ۔ جنہیں آپ کا قانون غیر مسلم کہہ رہا ہے آپ اس کو مسلمان بنانے پر تلے ہو۔کیا یہ آئین اور قانون پسندی ہے؟
آئین پرائیویٹ آرمی کی ممانعت کرتا ہے ہم اعلانیہ طور پر پرائیویٹ آرمیوں کی سر پرستی کرتے رہے۔قاضی حسین احمد ان پرائیویٹ آرمیوں سے اسلام آباد میں سلامیاں لیتے رہے اوران پرائیویٹ آرمیوں کے کمانڈروں کو دولہا بنا کر جماعت اسلامی پورے ملک میں انہیں سلامیاں دیتی رہی۔
آرٹیکل 251قرار دیتا ہے کہ ریاست میں امور ریاست اردو زبان میں طے کیے جائیں ،اور جب تک اردو زبان میں تمام کام نہیں ہو سکتے تب تک انگریزی سے کام چلا لیا جائے لیکن 15 سال کے اندر اندر اردو کو رائج کردیا جائے۔اس آرٹیکل کو بنے آج پینتالیس سال ہونے کو آئے ہیں لیکن آج بھی امور ریاست میں کلیدی کردار انگریزی زبان کا ہے۔کیا اس رویے کو آئین دوستی کہا جائے۔
اپنے گریبانوں میں جھانکیے، ہم میں سے کون ہے جو آئین پاکستان کی عملداری پر یقین رکھتا ہے؟ہم سب ایک صف میں تو نہیں کھڑے؟
****

صدقہ۔۔۔ شوق موسوی
میں ہرگز جہازوں پر سواری کر نہیں سکتا
سفر طے کرنے کا اب اور ہی سامان کرنا ہے
جہازوں کو فضاؤں میں اڑانے سے ذرا پہلے
اگر اک کالا بکرا آپ نے قربان کرنا ہے