- الإعلانات -

پاکستان اور اسکے میر جعفر

کسی شہر میں ایک بدزبان خاتون رہا کرتی تھی ہر آتے جاتے شخص کو دشنام دیا کرتی تھی کسی کے پوچھنے پر لوگوں نے بتایا کہ یہ خاتون کچھ عرصہ پہلے تک بھکارن تھی اس کی لاٹری نکل آئی اوراچانک دولتمند ہونے وجہ سے جو زبان پہلے چار آٹھ آنے بھیک کے لئے کھلتی تھی اب گالیوں اور بدزبانی کے لئے کھلنے لگی ہے۔ یہی اس کا ظرف تھا اور اتنی ہی اوقات ،یہ زبان جس منہ کے اندر قینچی کی طرح چلتی ہے ایسے منہ فٹے منہ اور بعض در فٹے منہ ( تفصیل کیلئے کسی پنجابی سے رجوع کریں)کہلاتے ہیں،بعینہ بھکارن جیسے حالات اور منہ ایک نام نہاد لیڈر کا بھی ہے باپ بیٹے کی زندگی گزر گئی، کبھی بی ڈی ممبری یا کونسلری تک نہیں ملی، زندگی بھر باپ بیٹا غیروں کی نمک حلالی کرتے رہے۔جس ملک میں رہ رہے ہیں اسی کی جڑیں کھوکھلی کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔ اللہ کبھی کبھی ہمارے اعمال کی شامت اور دوسرے کے ظرف کی آزمائش کیلئے ایسے لوگوں کو بھی منصب عطا کردیتا ہے۔ جو کسی طرح اس کے اہل نہیں ہوتے اور یہ تھڑے ہوئے لوگ منصب پر بیٹھتے ہی فٹے منہ لوگوں کو بحیثیت مشیر ساتھ ملا لیتے ہیں ۔جن کو دانش چھو کر نہیں گزری ہوتی غیرت اور ضمیر نام کو نہیں ہوتا ،یوں ہم جنس باہم پرواز شروع کردیتے ہیں، اب مربی کے اوپر منحصر ہے کہ وہ اس ہوس کے مارے بے حیثیت سے کیا کام لیتا ہے۔ بر صغیر کی تاریخ ہے کہ جاگیردار جن کا اپنا پس منظر بھی سیاہ ہی ہوتا تھا، کرائے کے بندے رکھا کرتے تھے جن کے ذریعے جرائم کروائے جاتے تاکہ مخالفین کو زچ کیا جاسکے اب مربی یا چوہدری جو بات خود نہیں کہہ سکتے اس کام کے لئے انہوں نے ایسے بھونپو رکھے ہوتے ہیں جن کے منہ سے بلکہ فٹے منہ سے وہ سب کہلوا دیتے ہیں اور پھر یہ بھونپو خود فریبی میں خود کو کوئی لیڈر نما جنس سمجھنے لگ جاتے ہیں اور کبھی اپنے در فٹے منہ سے ایسی ہرزہ سرائی کر دیتے جو ان کی اوقات بہت اوپر کی چیز ہوتی ہے۔ سفید موچھوں پر مشتمل اس چادر پوش نے جو اصل میں نام نہاد گندم نما جو فروش ہے اس نے اپنا منہ کھولا ہے۔ کہتا ہے کہ جن افغان مہاجرین کو ان کے اپنے ملک واپس بھیجا جارہا ہے۔ ان کو ہم نہیں جانے دیں گے میانوالی اور اٹک کو ملا کر نیا صوبہ بنایا جائے جس کا نام افغانیہ رکھا جائے ۔پہلے تو اس سے پوچھا جائے کہ بھائی توُ ہے کون تیری اوقات کیا ہے۔ کیا یہ ملک کسی کے پتا شری کی جاگیر ہے، اسے کہتے ہیں ذات دی کوڑھ کلی تے شہتیراں نوں جپھے۔جناب عالی بلوچستان کا شہری ہے جہاں باپ بیٹا پیدا ہوئے وہاں بھی پختون ہی رہتے ہیں ۔ذرا یہ بات وہاں کر کے دکھا پھردیکھ کتنے بے بھاؤ کے پڑتے ہیں۔جہاں پورا ٹبر ملت فروشی کا انعام گورنری اور وزارات اور مشاورت کی صورت میں وصول کر رہا ہے۔اس کی اوقات کا ایک واقعہ ہم سے سن لیجئے کہ کسی بلوچ گروپ سے کسی پشتون کا اختلاف ہوگیا۔ بلوچ گروپ کی طرف سے مطالبات آئے اور پشتون خاندان کا فرد بھی اغواء کرلیا گیا۔ مطالبے کو مزید سنجیدہ بنانے کے لئے مغوی کی ایک عدد انگلی کاٹ کر مطالبے کے ساتھ بھیج دی گئی۔ چادر پوش اپنی لیڈری دکھانے پہنچ گیا۔ بلوچ گروپ سے مطالبے پر بات چیت میں دانستہ اسی نام نہاد لیڈر کے کہنے پرتاخیر کی گئی اور ایک دو دن میں مغوی کی لاش مل گئی یہ ہے جناب کی اوقات۔یہ شیخ چلی جس علاقے کو افغانیہ بنانے کا کہہ رہا ہے یہ کسی عبدالصمد کا ملکیتی علاقہ نہیں اور نہ اس کے مکین کوئی گوبھیاں ہیں۔یہ جیتے جاگتے لاکھوں لوگوں کا خطہ ہے جس پر غیرت مند لوگ رہتے ہیں۔ مہمانداری کا مطلب یہ نہیں کہ جن لوگوں نے اسلامی جذبے سے سرشار ہوکر انصار مدینہ کی سنت پر عمل کیا اور مصیبت زدہ مسلمانوں کو دل و دامن میں پناہ دی اور 35 سال تک خون جگر پلایا اپنے کاروبار تباہ کر لئے ان کے ڈاکے اور قتل برداشت کئے وہ اظہار تشکر کے بعد اپنے گھر واپس جانے کی بجائے قبضے کی تیاریاں کر رہے ہیں اور پورا صوبہ مانگ رہے ہیں ۔وہ اس لئے کہ جناب جعلی دستاویزات پر پاکستانی بننے والے یہ لوگ تمہارے ووٹربن سکیں۔ یہ دکانداروں کی حکومت کا فیضان ہے کہ پورا خاندان بمعہ گھر کی خواتین کے ملکی وسائل لوٹ رہے ہیں بلکہ جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے ان کے نام سے بھی وظیفے جاری ہو چکے ہیں۔جناب ریاست پاکستان سے غداری کے دستاویزی ثبوت ملکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس ہیں جو تمہارے مربیوں کے ہٹتے ہی فعال ہو سکتے ہیں،افغانوں سے پیسے بٹور کر ان کو ناجائز طور پر شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنواکر دے رہے ہو جن کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں یہ لوگ بیرون ملک منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں سزاپاتے ہیں اور بدنام ہوتا ہے پاکستان۔ یہی جرائم پیشہ لوگ تمہارے ووٹر بن رہے ہیں کیا لوگ بلوچستان میں تمہارے کھلائے ہوئے گلوں کو بھول گئے ہیں۔ پڑوسی ممالک کی خفیہ ایجنسیوں سے ڈالروں کی وصولی اور اس کے عوض ملک دشمنی کے تمام ثبوت موجود ہیں، نمک حرام کرنے کی بھی ایک حد ہوتی ہے ۔جناب کے مربی بھی کیلے کے چھلکے پر ہی براجمان ہیں۔ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی جو تمہارے لئے بھی بہت کم رہ گیا ہے ۔ افغانیوں کا پاکستان میں صوبہ بنوانے والے کیا افغانستان کو ٹھیکے پر دے چکے ہیں یا انڈیا کو بیچ چکے ہیں۔ بہتر ہے وہیں چلے جائیں۔جہاں ممکن ہے وہ ہو جائے جو جناب چاہتے ہیں۔ اس ملک میں وہ نہیں ہو سکتا جو جناب چاہتے ہیں، یہاں اندھے کے پیر کے نیچے بٹیر روز نہیں آنی ہمیں کیا پورے ملک کے بچے بچے کو پتہ ہے کہ جناب کی ڈوریاں کہاں سے ہل رہی ہیں اور مودی نیٹ ورک یہاں بہت فعال ہے لیکن دنیا کے قبرستان میر جعفروں اور میر صادقوں سے بھرے پڑے ہیں۔ سدا نام رہے گا رب کا اور پاکستان کا ۔اللہ ہرغدار کا منہ کالا کرنے پر قادر ہے اور ضرور کرے گا اللہ اس وطن کو اندرونی دشمنوں سے خصوصی طور پر محفوظ رکھے اور وطن اور اہل وطن کی حفاظت فرمائے۔