- الإعلانات -

سی پیک میں روسی شمولیت اور مودی کی بوکھلاہٹ

پاکستان چین دوستی کو مضبوط بنانے اور تجارت کے فروغ کیلئے اقتصادی راہداری کا منصوبہ شروع کیا گیا جو نہ صرف رابطے مضبوط بنا رہا ہے بلکہ خطے میں پاکستان کے ایک اور دوست کو منظرعام پر لایا جو کھل کر سی پیک کی حمایت کر رہا ہے۔روس نے سی پیک کی کھلم کھلا حمایت کرتے ہوئے اب اعلان کیا کہ وہ چاہتا ہے سی پیک میں یوریشین اکنامک یونین بھی شامل ہو جائے۔ 2015 میں بنائے گئے اس تجارتی فورم میں روس، بیلاروس، قازقستان اور آرمینیا سمیت کرغزستان شامل ہیں۔ روس نے پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے کو یوریشین اکنامک یونین سے جوڑنے کا عندیہ دیا ہے جس نے مودی سرکار کی نیندیں اڑا کر رکھ دی ہیں۔ روس کی پاکستان چین اقتصادی راہداری میں بڑھتی دلچسپی اور پاکستان کے ساتھ گہرے ہوتے تعلقات نے بھارتی حکام کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ بھارت خطے میں اپنے استحکام اور مفادات کے حصول کیلئے پریشانی کا شکار ہوگیاہے ۔ چند ماہ قبل روس نے بھارتی خواہشات کے برعکس پاکستان کے ساتھ جنگی مشقوں میں حصہ لیا اور اب روس نے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں یورایشین اکنامک یونین کو بھی شامل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے جس نے مودی سرکار کی نیندیں اڑا کر رکھ دی ہیں۔روس کی سی پیک میں شامل ہونے کی خواہش نے مودی سرکار کی نیندیں اڑا دی ہیں اور بھارتی حکام روس کی پاکستان کے منصوبے میں گہری دلچسپی پر پریشان ہیں۔ انہیں یہ فکر ستانے لگی ہے کہ روس اب بھارت کو قابل اعتماد دوست نہیں سمجھتا اور بنیادی مفادات کو چیلنج کر رہا ہے اس صورتحال نے بھارت کی بوکھلاہٹ میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
کچھ عرصہ قبل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے پرتبادلہ خیال کیا ۔ بھا رتی وزیر اعظم نے چینی صدر سے کہا کہ نئی دہلی اور بیجنگ کو ایک دوسرے کے تزویراتی مفادات کے لئے حساس ہونا پڑے گا۔ چینی صدر شی جن پنگ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو بتایا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خدشات کا احترام کرتے ہوئے تعمیری انداز میں آپس کے اختلافات کو دورکرنا چاہئے۔ چند ماہ پہلے نریندر مودی امریکہ کے دورے پر گئے تو انہوں نے وہاں صدر اوباما کے سامنے پاکستان کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیے تھے۔ یہ تو چند روز پہلے کی بات ہے کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری بھارت کے دورے پر گئے تو بھارتی وزیر خارجہ سشما سوارج نے انہیں پاکستان کے خلاف ایسا بھڑکایا کہ قبل ازیں دہشت گردی کے خاتمہ کے سلسلے میں پاکستان کے اقدامات کی تعریف و توصیف کرنے والے کیری نے یہ بیان داغ دیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف مزید اقدامات کرے۔ ستمبر کے آخری ہفتے میں نیویارک میں ہونے والے سہ فریقی امریکہ، بھارت، افغانستان مذاکرات کے نتائج اور مقاصد کی بْو ابھی سے محسوس کی جا سکتی ہے۔ اس گٹھ جوڑ کا ایک مقصد سی پیک کو ناکام بنانا بھی ہو سکتا ہے۔ نائب وزیر کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ سنٹر ل کمیٹی انٹرنیشنل ڈیپارٹمنٹ زینگ شی سانگ نے وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کے کام کرنے کی رفتار اور غیرمعمولی صلاحیتوں کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں سی پیک کے منصوبوں کا اعلیٰ معیار اور رفتار دیکھ کر بے پناہ مسرت ہوئی ہے اور صوبے میں منصوبوں کو مثالی رفتار سے آگے بڑھانے کا کریڈٹ بلاشبہ شہباز شریف کو جاتا ہے۔ سی پیک کے منصوبوں پر عملدرآمد سے پاکستان میں تیز رفتار ترقی کی بنیاد رکھ دی ہے۔ قومی معیشت بہترہوئی ہے اور تجارتی، معاشی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ ساڑھے تین برس میں معاشی محاذ پر شاندار کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور پاکستان روشنی، امید اور امن کے سفر کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔ قومی معیشت کے استحکام اور ترقی سے عام آدمی کی زندگی میں خوشحالی لانے کے منصوبے تیز رفتاری سے مکمل کئے جا رہے ہیں۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ملکی معیشت کے لیے سی پیک منصوبہ بے حد افادیت کا منصوبہ حامل ہے اور اس کی تکمیل ملکی اقتصادیات کو وہ استحکام دے گی، جس کا خواب آج تک ہر ایک پاکستانی نے دیکھا۔
*****