- الإعلانات -

مولانا شیرانی کی شیریں زبان

موجودہ پاکستان جناح کا نہیں یحییٰ کا ہے اور ملک پانچ ٹکڑوں میں تقسیم ہوتا دیکھ رہا ہوں جمعیت علماء اسلام یعنی مولانا فضل الرحمن کی جماعت کے سینئر رہنما مولانا محمد خان شیرانی نے بلوچستان کے معروف گرم شہر سبی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے موجودہ پاکستان کو یحییٰ کا پاکستان اور ملک کو پانچ ٹکڑوں میں تقسیم ہونے کے خدشے کا اظہار کیا ہے ایسے بڑے معتبر حضرات کے منہ سے اسطرح کے بیانات بڑی مایوسی پھیلانے کے مترادف ہیں ۔ پیارا پاکستان صرف جناح کا پاکستان نہیں تھا بلکہ یہ مسلمانوں اور پاکستانیوں کا پاکستان ہے ۔ اس دیس کو حاصل کرنے میں جن لوگوں کا خون کا خون پسینہ لگا ہے ۔ یہ ان کا پاکستان ہے اور یہ پاکستان جس مقصد کیلئے حاصل کیا گیا تھا یہ اُس نظریہ مقصد پاکستان ہے ۔ شیرانی صاحب جو لوگ پاکستان بننے کے مخالف کار ہے ان کے پیروکاروں کو پاکستان کی نہیں بلکہ پاکستان کے دشمنوں کی مخالفت کرنی چاہئے بلکہ یہ کہا جائے کہ پاکستان کے مخالف ایک ملک کے نظریے کے مخالف تھے مگر ان کے پیرو کار تو ایسی باتیں کرنے لگے ہیں جو موجودہ ملک کے مخالف محسوس ہوتے ہیں شیرانی صاحب آپ کی جماعت پرویز مشرف ، آصف زرداری اور نوازشریف حکومت کا حصہ رہی ہے اور اگر ملک کے پانچ حصے بنتا آپ دیکھ رہے ہیں تو اس تقسیم میں آپ حصہ دار ہونگے ۔ اگر آپ محب وطن ہیں تو ملک کے پانچ حصوں میں تقسیم کرنے کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو بے نقاب کریں ۔ ایسی طاقتوں اور گروہوں کی نشاندہی کریں ۔ ان کے خلاف طاقت استعمال کرائیں ۔ نہ کہ آپ اسطرح کے بیانات دیں جس سے ملک میں افراتفری کی فضا پیدا ہو ۔ عوام میں مایوسی پیدا ہو۔ شیرانی صاحب آپ ایک لیڈر اور رہنما ہیں ۔ آپ قوم کے حوصلے بڑھائیں اور کمزوریوں کے خاتمہ کی رہنمائی کریں ملک میں استحکام پیدا کرنے کی کوشش کریں ۔ اور ملک کے اندر بدامنی پیدا کرنے والووں یا باہر سے ملک پر حملہ کرنے والوں کے خلاف ملک اور قوم کو متحد کریں آپ نے ایک طرف تو مسلم ممالک میں پھیلی افراتفری اور جنگ و جدل کا ذکر کرکے مسلمانوں کی بدحالی پر پریشانی و فکر مندی کا اظہا ر کیا ہے مسلم ممالک میں لگی آگ سے روزانہ ہزاروں مسلمان مارے جارہے ہیں ۔ اربوں روپے کا نقصان ہورہا ہے ۔ اور باہمی نفرت ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہی ہے دوسری طرف اپنی اتحادی حکومت کے سب سے بڑے منصوبہ چائنہ راہداری روڈ کو شعبدہ بازی قرار دے کر اپنی جماعت کو شعبدہ بازوں کا ساتھی قرار دیا ہے ۔ کیا آپ اس طرح کے بیانات جاری کرکے موجودہ اتحادی حکمرانوں سے کچھ مزید معاملات تو طے نہیں کرنا چاہتے کیونکہ مولانا فضل الرحمن بھی دبے دبے الفاظ میں حکمران ٹولہ کو وار نگزدے رہے ہیں جب بھی حکومت کسی مشکل مسئلے کا شکار ہوتی ہے ۔ تو مولانا فضل الرحمن اس وقت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مقصد حاصل کرنے کے بعد خوب حکومتی منشاء کی بیان کرتے ہیں بلکہ لیگی رہنما بھی مولانا فضل الرحمن جتنی حکومتی کاموں کی تعریف نہیں کرپاتے ۔ چونکہ عمران خان نے پانامہ لیکس اور نیوز لیکس کے حوالے سے حکمرانوں کوانڈرپریشرکر رکھا ہے ۔ اور آصف علی زرداری بھی جلد صحت یاب ہو کر میدان میں اترنا چاہتے ہیں ۔ دیکھتے ہیں کہ وہ بھی اپنے فرزند بلاول زرداری کی طرح وزیرداخلہ کا استعفیٰ طلب کرتے ہیں یا اپنے فرزند ارجمند کو اس پنگامیں پڑنے سے بچانے اور حکومت سے مفاہمت کرکے اپنے خلاف بنے مختلف مقدمات اور ایان علی کیس کے خاتمہ کے لئے کوئی ڈیل کرتے ہیں یوں لاٹھی بھی بچ جائے اور کام بھی ہوجائے گا۔ مولانا فضل الرحمن اور آصف زرداری بڑے زیرک لیڈر ہیں وہ اپنے مفادات کو حاصل کرنے کیلئے تھوڑی سی حکمت عملی بدلتے ہیں اور ان کا توکام ہوجاتا ہے اور سیاستدان کی انہی مفاہمتی حرکتوں نے ملک کو آج یحییٰ خان کے پاکستان کے برابر لا کھڑا کیا ہے ۔ ایٹمی پاکستان کو کبھی بھارت پانی بند کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے ۔ تو کبھی افغانستان جیسا امریکی فوجوں میں گھرے ملک کے بناوٹی حکمران دھمکیاں دے رہے ہیں ۔ تو کبھی اس دیس کے حکمران کبھی یورپ اور امریکہ اور کبھی سعودی عرب وغیرہ جا کر بھکاریوں کا کام کرتے ہیں ۔ جب قیادت ہی ایسی ہوگی تو ملک کے حالات ہی ایسے ہونگے ۔کیا ایسی قیادت یورپ امریکہ یا سعودی وعربیہ کے کسی ظالمانہ کردار کے خلاف ڈٹ جانے کی جرات کرسکے گی۔ عالم اسلام یہود کی سازشوں اور مظالم کا شکار ہے ۔ اور ہم مسلمانوں کی تباہی و بربادی امریکہ کے ہاتھوں دیکھتے خاموش ہیں بلکہ امریکہ کے ترانے گاتے نہیں تھکتے ان حالات میں ملک و ملت کی قیادت و رہنمائی کی ضرورت ہے امت مسلمہ کے اتحاد کی ضرورت ہے ۔ مگر جس کے منہ جو آتا ہے بول کر قوم و ملک میں پریشانیاں پیدا کررہا ہے ۔ عرب ممالک میں برپا فساد ہمارے دشمنوں کی چال ہے ۔ جو اس فساد کو بھڑکانے کیلئے دوست بن کر امن کے بہانے مزید فساد برپا کررہے ہیں ۔مسلم قیادت ان حالات پر غور کرنے کیلئے بھی تیار نہ ہے ۔