- الإعلانات -

بلاول کا گلہ بجا لیکن کس سے

بلاول بھٹو نے شکوہ کیا ہے کہ ان کی والدہ کو انساف نہیں مل سکا تو اور کس کو ملے گا۔ایک بیٹے کا ماں کے لیے دکھ سمجھ میں آنے والی چیز ہے۔اس اعتبار سے دیکھا جائے تو بلاول کا دکھ بالکل بجا ہے ۔وہ جو بات کر رہے ہیں وہ بھی غلط نہیں۔یہ بھی غلط نہیں کہ ان کی والدہ کے ساتھ ظلم ہوا۔اس میں بھی کوی دو آراء نہیں کہ بی بی شہید کے قاتل آک تک ایک معمہ بنے ہوے ہیں۔سوال ایک اور ہے۔اور سوال یہ ہے کہ بلاول بھٹو صاحب کس سے شکوہ کر رہے ہیں۔کیا یہ گلہ وہ خود کے والد محترم جناب آصف زرداری سے کر رہے ہیں جو بی بی شہید کے خون کے صدقے اقتدار میںآئے لیکن قاتلوں کو کٹہرے میں نہ لا سکے۔
بلاول کو معلوم ہونا چاہیے زبان خلق کہہ رہی ہے ان کی جماعت خوں بہا میں اقتدار لے چکی ہے۔انہوں نے بی بی شہید کے ساتھ ظلم کیا۔ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں نے تو ظلم کیا ہی، کمی ان کی جماعت نے بھی نہیں چھوڑی۔یہ مجاور بھی بی بی کے اتنے ہی مجرم ہیں۔قاتلوں نے بی بی کے وجود کا خاتمہ کیا اور جماعت نے ان کے نام پر لوٹ سیل لگائے رکھی۔مظلوم اور مقتول بی بی کے لہو کے صدقے یہ اقتدار میں آ ئے اور انہوں نے ’ ات‘ مچا دی۔اقتدار کے ان سالوں میں کسی کو حیا نہ آئی کہ جس خون کی مجاوری کر کے یہ اقتدار میں آئے ہیں اس لہو کا کوئی قرض بھی ان پر واجب ہے۔ایک وزیر اعظم ایوان اقتدار میں داخل ہوا تو خلقِ خدا نے اسے’ ایم بی بی ایس ‘ کا خطاب عطا کیا۔جوں جوں وقت گزرتا رہا ،ایم بی بی ایس میں لفظ ’ بی‘ کا اضافہ ہوتا رہا۔دمِ آ خر کتنے ’بی‘ وجود میں آ چکے تھے یہ قمر زمان کائرہ کی خدمات لیے بغیر نہیں بتایا جا سکتا۔دوسرا وزیر اعظم جلوہ افروز ہوا تو زبانِ خلق نے اسے ’’ راجہ رینٹل‘‘ کا اعزاز عطا کیا۔ایک مرکزی رہنما کا حال یہ تھا کہ اکاؤنٹ میں کروڑوں کی منتقلی کا سوال اٹھا تو درویشانہ بے نیازی سے فرمایا: ’’مجھے نہیں معلوم ، یہ پانچ کروڑ میرے اکاوئنٹ میں کیسے چلے گئے‘‘۔ان مجاوروں نے صرف اپنی تجوریوں کا خیال رکھا۔کسی کو بی بی کے لہو کے تقدس کا خیال نہ آیا،چنانچہ آج حال یہ ہے کہ اتنی بڑی جماعت،جو بلاشبہ وفاق کی علامت ہے،عملا ایک صوبے تک محدود ہو چکی ہے۔جب جماعت کو جنرل ضیاء الحق کا جبر ایک عشرے تک بروئے کار آ کر ختم نہ کر سکا اس جماعت کو چند سالوں میں مجاوروں نے سندھ تک محدود کر چھوڑا۔
پانچ سال اقتدار ان کے پاس رہا۔جو جی میں آیا انہوں نے کیا۔لیکن بی بی کے قاتلوں کو انجام تک نہ پہنچا سکے۔مجھے یاد ہے بی بی کی برسی پر میں نے وزیر مملکت براے داخلہ تسنیم قریشی صاحب کا انٹرویو کیا۔دورانِ گفتگو انہوں نے کہا بہت جلد بی بی شہید کے قاتل پکڑے جائیں گے۔میں نے عرض کی :’’آپ اگر ابھی قاتلوں تک نہیں پہنچے توپھر اعتزاز کو کیوں گرفتار کیا گیا ہے؟( میرا اشارہ اعتزاز شاہ کی جانب تھا)۔فرمانے لگے: ’’ کس نے گرفتار کیا ہے اعتزاز صاحب کو وہ ہمارے اہم رہنما ہیں‘‘۔میں نے کہا :’’ آپ اعتزاز شاہ کو جانتے ہیں‘‘۔جواب آ یا ؛’’ نہیں میں نہیں جانتا کون صاحب ہیں وہ‘‘۔میں نے عرض کی: ’’ کیا آپ کو علم ہے بی بی کے قتل کی ایف آئی آرکس تھانے میں درج ہوئی؟‘‘۔جواب آیا:’’ مجھے معلوم نہیں‘‘۔میں نے پوچھا:’’ کیا آپ کو معلوم ہے بی بی قتل کیس کہاں تک پہنچا ہے‘‘۔شرمندہ سی مسکراہٹ کے ساتھ فرمانے لگے:’’ آصف صاحب مجھے نہیں پتا یہ آپ رحمن ملک سے پوچھیں‘‘۔میں نے عرض کی:’’ اچھا آپ بتائیں آپ سے کیا پوچھوں؟۔کہنے لگے:’’ کوئی سیاسی سوال پوچھیں‘‘۔میں نے عرض کی ؛’’ آپ کے وزیر اعظم کو ایم بی بی ایس کیوں کہا جاتا ہے یہ ڈگری انہوں نے کس یونیورسٹی سے لی‘‘۔۔۔اور یوں انٹر ویو تمام ہو گیا۔یہ دسمبر کا مہینہ تھا اور چوبیس تاریخ تھی۔تسنیم قریشی پسینے میں نہا چکے تھے۔وہ خفا تھے اور میں صدمے کی حالت میں۔جس کے لہو کے صدقے ان کی گاڑیوں پر جھنڈے لگے ،یہ اس لہو کو فراموش کیے بیٹھے تھے۔