- الإعلانات -

راج ناتھ شیرانی اور اچکزئی یک زبان

راج ناتھ شیرانی اچکزئی اور فضل الرحمن ان چاروں میں کوئی فرق باقی نہیں رہا۔پچھلے ہفتے بھارتی وزیر داخلہ نے پاکستان کے دس ٹکڑے کرنے کی دھمکی دی تو ادھر نون لیگی حکومت کی اہم اتحادی جماعت جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیرمین اور اسلامی معاملات میں متنازعہ شخصیت مولانا محمد خان شیرانی نے اگلے روزبا ہوش وحواس فرمایا کہ ملک پانچ ٹکڑوں میں بٹتے دیکھ رہا ہوں۔مولانا شیرانی کے اس بیان پر جہاں جمعیت علما ئے ہند(موجودہ جمعیت کا ماضی)کے ان رہنماؤں کی روحوں کو تسکین پہنچی ہو گی جو پاکستان بننے کو گناہ تصور کرتے تھے وہاں انکے بھارتی ہمنواؤں نے ان کو ’’شکریہ شیرانی‘‘ کے پیغامات بھی بھیجے ہونگے۔اسی جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمن بھی بھارتی زبان بولنے سے نہیں چوکتے۔راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے فوری بعد من میں دبی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہہ دیا کہ اب نیشنل ایکشن پلان کا باب بند کردینا چاہیے جبکہ دوروز قبل فاٹا اصلاحات کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا کی عوام پر باہر سے کوئی فیصلہ مسلط نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ وہ افغان جو افغانستان ہجرت کر گئے ہیں انکو بھی واپس بلایا کر ریفرنڈم کرایا جائے۔مولانا موصوف کا یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب فاٹا کو اصلاحات کے ذریعے قومی دھارے میں لانے کا وقت قریب آرہا ہے۔چوتھے نسل در نسل متنازعہ کردار محمود خان اچکزئی ہیں جن کے منہ سے پاکستان اور افواج پاکستان کے بارے آج تک کبھی کلمہ خیر نہیں نکلا۔جب بھی بولے بھارتی زبان ہی بولے یا پھر ان کے حواس پر افغانستان ہی چھایا رہا۔ابھی رواں سال موصوف کے درجنوں ایسے بیانات سامنے آئے کہ جنکی ہر طبقہ فکر نے کھل کر مذمت کی۔رواں سال ہی ماہ جولائی میں انکا ایسا انٹریو سامنے کہ جس میں موصوف نے خیبر پختونخواہ کو افغانوں کا حصہ قرار دے کر خوب مذمت وصول کی۔افغان اخبار افغانستان ٹائمز کو دیئے گئے انٹرویو میں محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ افغان پناہ گزین بلاخوف و خطر خیبر پختونخوا میں قیام کرسکتے ہیں۔کسی کو افغان مہاجرین کو ان کی اپنی زمین میں ہراساں کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ موصوف ایسی زبان بول کر افغان حکام سے بھی بڑھ گئے بلکہ کرزئی اور عبداللہ عبداللہ سے بھی آگے نکل گئے۔ان افغانوں نے بھی خیبر پختونخوا کو افغانستان کا حصہ یا افغانوں کا علاقہ نہیں کہا، آخر اچکزئی ہربارسرخ لائنیں کیوں عبور کر جاتے ہیں۔محمود خان اچکزئی کا بنیادی طور پر تعلق تو بلوچستان سے ہے لیکن وہ دوسرے صوبوں کے معاملات میں دخل اندازی سے باز نہیں آتے۔اتوار 18دسمبر کو اپنے ابا جی عبدالصمداچکزئی کی برسی پر انہوں نے ایک اور بونگی ماری کہ افغان مہاجرین کیلئے بارڈر سے لیکراٹک اور میانوالی تک الگ صوبہ بنایا جائے جس کا نام افغانیہ ہو۔انہوں نے افغان مہاجرین کو پاکستان کی شہریت دینے کا بھی مطالبہ کیا ‘ ان کا کہنا ہے کہ یہ افغان مہاجرین کا حق ہے ۔ڈیورنڈ لائن کے دونوں اطراف پشتونوں ‘افغانوں کی حالت انتہائی خطرناک ہے ‘ آج کچھ لوگوں نے ہمارے متعلق یہ رجحان پیدا کیا ہے کہ پشتون دہشت گرد ہیں اور پشتون کا مطلب وحشی ہے لیکن دراصل ایسا نہیں ہے۔ہم جس زمین پر آباد ہیں یہ ہمیں اپنے آباؤ اجداد سے ورثے میں ملی ہے‘ ہماری مٹی کو جو بھی غلط نظروں اور ارادوں سے دیکھے گا اس کے خلاف لڑنا ہمارا فرض ہوگا‘‘۔
موصوف کی تجویز اگرچہ درخوراعتناع نہ سمجھی گئی ہے اور نہ سمجھی جائے گی لیکن چونکہ اس سے لسانیت اور صوبائیت کا تعصب جھلک رہا ہے لہٰذا اسے مسترد کرنا ضروری ہے، پاکستان دشمن خفیہ ایجنسیوں کا یہ پرانا ایجنڈہ رہا ہے کہ وہ اپنے آلہ کاروں کے ذریعے کبھی سندھو دیش تو کبھی مہاجر صوبہ تو کبھی افغانیہ کی آوازیں بلند کروا کر پاکستان کو کمزور کریں۔ان کے تازہ مطالبے میں میانوالی اور اٹک کو افغانیہ میں شامل کرنے کی جو تجویز سامنے آئی ہے وہ ان علاقوں کے عوام کے ساتھ کھلا مذاق ہے۔موصوف کس حیثیت سے ان علاقوں کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے رہے ہیں کیا ان اضلاع کی عوام نے انہیں کوئی ایسا مینڈیٹ دے رکھا ہے کہ جب وہ چاہیں بھیڑ بکری سمجھ کر کسی اور کھونٹے سے باندھ دیں۔بحیثیت میانوالیئن میراان سے سوال ہے کہ میری دھرتی کب انکے بزرگوں کی جاگیر رہی ہے کہ اسے شاملات سمجھ کر اپنی لسانیت کی بھینٹ چڑھانے کی تجویز دے ڈالی ہے۔ جس طرح اچکزئی صاحب کا دعویٰ ہے کہ ’’ہم جس زمین پر آباد ہیں یہ ہمیں اپنے آباؤ اجداد سے ورثے میں ملی ہے‘‘ تو گزارش ہے کہ میانوالی بھی ہمیں لاٹری میں نہیں ملا ہے،یہ دھرتی بھی ہمارے اباؤاجداد کی وراثت ہے ۔برسوں پرانی تہذیب و تمدن رکھنے والی دھرتی کی اپنی الگ پہچان ہے ،اسے کسی افغانیہ جیسے سابقے لاحقے کی ضرورت ہے نہ محتاجی۔اس دھرتی کے سپوتوں نے شائستگی، تہذیب، علم و ہنر اور حب الوطنی میں نام کمایا ہے۔موصوف کی طرح کبھی کسی نے ضمیر فروشی نہیں کی اور نہ ہی کسی کی آلہ کاری کی ہے۔جس مٹی سے جنم لیا ہے اسی سے وفا کا بھی دم بھرتے ہیں۔پاکستان کا کھاتے ہیں تو گیت بھی پاکستان کے گاتے ہیں، نہ کہ موصوف کی طرح کہ جس کا سارا خاندان اس وقت وفاقی حکومت کی عنایات پر پل رہا ہے لیکن گیت افغانستان کے گاتے ہیں۔محمود اچکزئی کو یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ سندھو دیش اور جناح پور کے خواب دیکھنے والے اپنی موت آپ مر گئے تو جناب بھی بلی کے خواب چھچڑے کے مصداق پاکستان کو لسانی اور قومیت پرستی کی بنیادوں پر تقسیم کرنے کے خواب دیکھنا چھوڑ دیں۔