- الإعلانات -

جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہوناچاہیے

پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اورسابق صدرآصف علی زرداری نے18ماہ بعد دبئی سے وطن واپسی پر کراچی ایئرپورٹ کے اولڈ ٹرمینل پراستقبالیہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ناکام ریاست نہیں ہوگا بھارت سے کشمیر لے کر رہیں گے فوج نے ملک کو محفوظ بنادیا ہے سیا سی اداکار دیکھ لیں میں لوٹ آیا ہوں یہیں دفن ہونا ہے جمہوریت کامتبادل بہت خطرناک ہوتا ہے ہم شام نہیں بنناچاہتے۔مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی جھنڈا جدوجہد کی علامت بن گیا ۔ انہوں نے کہاکہ سی پیک منصوبہ پاکستانی خطے میں ترقی کی نئی راہیں متعین کرے گا سرمایہ داروں کے آگے عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے عوام کی طاقت سے انہیں روکیں گے بھاگوں گانہیں حکومت بنائیں گے۔ کچھ نادان دوست اور سیاسی اداکار بے بنیاد الزامات دیتے ہیں کہ زرداری بھاگ گیاانہیں سمجھ ہی نہیں آتی ہماری لاشیں بھی یہاں دفن ہوں گی۔ ہم جمہوریت کو آگے بڑھائیں گے اور یہی ہمارا سب سے بڑا انتقام ہے ،کشمیر کی جدوجہد اب پاکستان کے جھنڈے پر ہے بہت جلد کشمیر پاکستان کا حصہ بن جائے گا،کرسی پر کون ہے اس سے فرق نہیں پڑتاجمہوریت کو چلتے رہنا چاہیے،ایک دن آئے گا عوام کی طاقت ابھرے گی ہم پھر ایوانوں میں بیٹھیں گے،سوشل میڈیا کازمانہ ہے بچہ بھی کلاس میں گوگل ذریعے استاد سے زیادہ بتاتا ہے،یورپ نے بہت ترقی کی اب مشرق کا وقت ہے۔انہوں نے کہاکہ کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کرسی پر آج کون ہے اور کل کون ہوگا،پیپلزپارٹی دوبارہ حکومت کرے گی،سی پیک منصوبوں پر آنے والی نسلوں کا سوچ کر کام کیا،جمہوریت ہی سب سے بڑا انتقام ہے،میاں صاحب کا مینڈینٹ ٹھیک تھا یا غلط مگر ہم نے اقتدار منتقل کرکے جمہوریت کو آگے بڑھایا،جن کے ذہنوں میں فتور ہے ان کو کیوں سمجھ نہیں آتی ہم نے تو دفن بھی گڑھی خدا بخش میں ہونا ہے۔ہمارا ملک عوام اور افواج کی طاقت سے محفوظ ہے۔وہ میں آپ کے خصوصی پیار کو دیکھ کر مجھے لاہور کی یاد آرہی ہے جب آپ نے میرا وہاں میرا استقبال کیا تھا مجھے وہ دن یا دہے،جب بی بی آئی تھی ،آپ نے ان کا استقبال کیا ،ہمارے دوستوں اور بچوں کو شہید کیا گیامگر جیالوں نے بی بی کو واپس آکے بچایا،لوگوں کو پاکستان میں بڑی مایوسی ہے،میں امید کا پروگرام دے رہا ہوں،ملک ہماری عوام اورآرمڈ فورسز کی طاقت سے محفوظ ہے،بارڈر پر مسئلے ہیں،ہم کشمیر لے کر رہیں گے،یہ وہاں کا بچہ کہہ رہا ہے،پاکستان کا جھنڈا وہاں جدوجہد کا نشان ہے،ہندوسامراج کے سامنے،کشمیری جدوجہد کر رہے ہیں،پاکستان کی قوم بھی ایسی ہے،میں جہاں بھی گیا ہوں میں نے کہا ہے کہ پاکستان شرپسندوں کا ملک نہیں ہے،کوئی فرق نہیں پڑتا کرسی پر آج کون ہے اور کل کون ہوگا،ایک دن آئے گا،عوام کی طاقت دوبارہ پاکستان میں ابھرے گی،ہم ایک مرتبہ دوبارہ ایوانوں میں بیٹھیں گے،پیپلزپارٹی اقتدارمیں بیٹھے گی۔سی پیک منصوبوں پر انے والی نسلوں کا سوچ کر کام کیا،کوئی قوم کسی اور کیلئے کچھ نہیں کرتا یہ ان کی بھی ضرورت ہے ہمارا بھی فائدہ ہے،ملک کی بہتری کیلئے سوچ سوچی گئی صرف رستے اور سڑک کیلئے نہیں سوچی گئی،سیاسی دوکانداروں کو کہنا چاہتے ہیں کہ جو فتور ان کے دماغ سینہیں جاتا،ہم نے دفن بھی خدابخش میں ہونا ہے ہم جمہوری جدوجہد کریں گے،ہم جمہوریت کو بڑھائیں گے،جمہوریت ہی ہمارا مقام ہے،محترمہ کی شہادت کے بعد ہم نے کہاکہ پاکستان ہمارا ملک ہے ہم نے یہاں رہنا ہے،ہم نے حکومت بنائی اور پانچ سال حکومت نے مدت پوری کی،میاں صاحب کو اقتدار منتقل کی تاکہ جمہوریت پھلے پھولے،ہم فیل اسٹیٹ نہیں بننا چاہتے،ان کے معیشت چلانے کے طریقے اور ہیں مگر ہم جمہوریت ڈی ریل کرنے نہیں آئے،اس میں ہمارے آنی والی نسلوں کی کامیابی ہے،جب بھی ہم نے پکارا عوام بھٹو کیلئے آگے آئے،محترمہ کی قربانی امر ہے،27کو دوبارہ آپ سے ملاقات اور آپ کو خوشخبریاں بھی دیں۔آصف زرداری کی وطن واپسی نے سیاسی ایوانوں میں ہلچل مچادی ہے ایک طرف پیپلزپارٹی بلاول کے چارمطالبات تسلیم نہ ہونے پر سڑکوں پر دمادم مست قلندر کانعرہ لگارہی ہے تو دوسری طرف نون لیگ بھی اپنی حکمت عملی طے کررہی ہے۔زرداری مفاہمت کے چمپئن اور جوڑ توڑ کے ماہر گردانے جاتے ہیں نوازشریف نے ان کی واپسی کاخیرمقدم کیاہے سیاست میں کوئی شے حرف آخر نہیں ہوا کرتی آج کے دوست کل کے حریف اور آج کے حریف کل کے دوست ہواکرتے ہیں ۔ سیاست میں محاذ آرائی جمہوریت کیلئے نقصان دہ ہے حکومت کو چاہیے کہ وہ سیاسی جماعت کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کرے اور سیاسی تدبر اوربصیرت سے الجھے معاملات کو سلجھائے ورنہ آنیوالے دن حکومت کیلئے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں سیاسی جماعتوں نے ایکا کرلیا تو حکومت کیلئے مسائل پیدا ہوجائیں گے حکومت کے پاس وقت ہے وہ سیاسی بصیرت اور برداشت کے جمہوری کلچر کو فروغ دے اور سیاسی استحکام کیلئے حکمت عملی اپنائے یہی راستہ اس کیلئے نیک شگون قرار پاسکتاہے۔
رینجرز کے چھاپے اورپیپلزپارٹی کے تحفظات
کراچی میں رینجرز چھاپے اور پیپلزپارٹی کے تحفظات نے سیاسی معاملات کوالجھادیاہے یہ چھاپے گزشتہ روز آصف علی زرداری کی وطن واپسی سے قبل ان کے قریبی ساتھیوں کے دفتر پرمارے گئے جن کی تفصیل ذیل کے تناظرمیں دیکھی جاسکتی ہے۔ آئی آئی چندریگر روڈ پر قائم انور مجید کے دفتر سے 2 افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ دفتر سے اہم ریکارڈ لیپ ٹاپ بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے۔حراست میں لئے جانے والے 2 افراد کی نشاندہی پر ہی ہاکی اسٹیڈیم کے قریب واقع انورمجید کے ایک اور دفتر پر چھاپہ مارا گیا اس دوران علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے کر تمام آنے اور جانے والے راستوں کو بند کردیا گیا تھا۔ ہاکی اسٹیڈیم کی قریب واقع دفتر کے ایڈمن منیجر کو حراست میں لے کر ریکارڈ بھی قبضے میں لے لیا گیا جبکہ رینجرز نے تیسرا چھاپہ میٹروپول میں واقع انورمجید کے ہی ایک اور دفتر میں مارا جہاں سے ریکارڈ قبضے میں لیا گیا۔مجموعی طور پر 5ملزمان شہزاد شاہد ، رجب علی راجپر ، اجمل خان ،کامران منیر انصاری اور کاشف حسین شاہ کو گرفتا ر کرلیا گیا ملزمان کی نشاندہی پر خفیہ خانوں سے بھاری تعداد میں اسلحہ اور گولیاں برآمد کر لی گیں ،ملزمان نے اسلحہ خفیہ خانوں میں چھپایا ہوا تھا، برآمد کئے گئے اسلحہ میں 17کلاشنکوف ،4عدد پستول ، 6عدد بال بم، اور 3225گولیاں برآمد کرلیں ،جبکہ چھاپے کے دوران اہم دستاویزات بھی قبضے میں لے لیں۔مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ رینجرز چھاپوں سے متعلق سندھ حکومت اور پولیس کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ‘ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کے تلخ بیانات کے بعد چھاپوں سے غلط تاثر دیا گیا ‘ چھاپے مار کر تاثر دیا گیا کہ کارروائیاں سیاسی معاملات سے وابستہ ہیں ‘ پیپلز پارٹی کے مخالفین سے کہیں گے’’پگڑی سنبھال جٹا۔کراچی رینجرز چھاپوں کے سیاسی عوامل نہیں ہونے چاہئیں اگرٹھوس شواہد ہیں تو پھر ضروری کارروائی کی جائے انتقامی کارروائیاں جمہوریت کیلئے نقصان دہ ہوا کرتی ہیں ۔پیپلزپارٹی ان چھاپوں کو سیاسی عوامل اورانتقامی کارروائی قرار دے رہی ہے۔سیاست میں عمدہ روایات اوررجحان ہی جمہوریت کیلئے سودمند قرار پاسکتے ہیں ۔ سیاسی انتقام سے بالاتر ہوکر مل جل کرکا م کرنا ہی جمہوریت کیلئے نیک شگون ہے۔ کراچی میں جرائم پیشہ عناصرکیخلاف بلاامتیاز کارروائی کرنے سے کسی سیاسی جماعت کے تحفظات نہیں ہونگے۔