- الإعلانات -

یوم قائد ، بھارتی مسلمان اور ۔۔!

پچیس دسمبر کو جہاں ایک جانب دنیا بھر کی مسیحی برادری کرسمس کا تہوار پورے مذہبی جوش و خروش سے مناتی ہے وہیں وطنِ عزیز میں قائد اعظم کے یومِ پیدائش کے حوالے سے پوری قوم اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ پاکستان کی سا لمیت اور آزادی کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا ۔ یومِ قائد کے موقع پر انسان دوست حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ وطنِ عزیز کے قیام کے لئے قائد اعظم کی قیادت میں بر صغیر کے مسلمانوں نے جو قربانیاں دیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں اور اگرچہ قیام پاکستان کے بعد تا حال بوجوہ سر زمین پاک ایک مثالی شکل اختیار نہیں کر پائی مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ چند مٹھی بھر افراد اس کی جڑیں کھوکھلی کرنے لگ جائیں ۔ بعض مبصرین اس امر پر متفق ہیں کہ اس بابت توشاید بحث کی جا سکتی ہے کہ پاکستان کا قیام مذہب کی بنیاد پر عمل میں آیا تھا یا نہیں مگر گذشتہ کچھ عرصے سے چند مٹھی بھر سازشی عناصر مذہب کے نام پر وطنِ عزیز کو نقصان پہنچانے پر یقیناًآمادہ نظر آتے ہیں اور یہ بات کسی سے پوشیدہ بھی نہیں ہے ۔دوسری جانب با ضمیر حلقوں کی رائے ہے کہ ایک جانب بھارت کے جنونی ہندو گروہ نے مسلمانوں کی نسل کشی کے ساتھ ساتھ بھارتی عیسائیوں کے خلاف بھی ایک نیا محاذ کھول لیا ہے اور RSS کے سربراہ ’’ موہن بھگوت‘‘ نے کچھ عرصہ پہلے کہا کہ 2021 تک بھارت میں تمام غیر ہندوؤں کا خاتمہ کر دیا جائے گا اور بھارت کی سو فیصد آبادی ہندو ہو گی ۔ یاد رہے کہ 2021 کی اہمیت یہ ہے کہ اس برس بھارت میں اگلی مردم شماری ہو گی ۔ اسی لئے بجرنگ دل کے رہنما ’’ پروین تگوڑیا ‘‘ نے کچھ ماہ قبل 21 دسمبر کو بھوپال میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اس مکروہ عزم کا اعادہ کیا کہ ہندوستا ن سے مسلمانوں ، عیسائیوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کا نام و نشان تک مٹا دیا جائے گا ۔ موصوف نے یہ ہرزہ سرائی بھی کی کہ ڈھائی سال پہلے پوری دنیا میں صرف ہندو دھرم کے ماننے والے موجود تھے مگر اب دنیا کی کل آبادی کا محض 16فیصد ہندو ہے۔ لہٰذا دوبارہ ہندوؤں کو ان کا صحیح مقام دلایا جائے گا ۔اس ضمن میں یہ امر بھی توجہ کا حامل ہے کہ مودی کی قیادت میں ہندو جنونیوں نے پاکستان اور نظریہ پاکستان کے خلاف ایسی شر انگیز مہم چھیڑ رکھی ہے جس کا ہدف بھارتی اقلیتیں بالعموم اور بھارتی مسلمان بالخصوص ہیں ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بے جا نہ ہو گا کہ ایک ہفتہ قبل بھارتی صوبے اتر کھنڈ کے وزیر اعلیٰ ’’ ہریش راوت ‘‘ نے محض اپنی سیاسی مصلحتوں کے تحت ’’ اتر کھنڈ ‘‘ میں جمعے کی نماز کے لئے نوے منٹ کے وقفے کا اعلان کیا تو ہندوستان بھر کے ہندوؤں کی جانب سے اس کی اعلانیہ طور پر شدید مخالفت کی گئی اور اس وقفے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ہریش راوت نے اپنے اس فیصلے سے پسپائی اختیار کر لی جس سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بھارتی سیکولر ازم کے دعوؤں کی اصل حقیقت کیا ہے ۔ اس کے علاوہ مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کے خلاف ظلم و سفاکیت پر مبنی بھارتی روش میں گذشتہ چند ماہ سے جو شدت آئی ہے وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ ایسے میں غالباً پاکستان بھر کے لوگوں کو اچھی طرح سے واضح ہو جانا چاہیے کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے ۔ توقع کی جانی چاہیے کہ وطن عزیز کے سبھی حلقے اپنے اختلافات بھلا کر یومِ قائد پر اس عزم کا اعادہ کریں گے کہ پاکستان کو درپیش تمام اندرونی اور بیرونی خطرات کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کی مانند متحد ہو کر دہشتگردی کی عفریت کو اپنے اتحاد کی ضرب کاری سے کچل دیں گے ۔ انشاء اللہ
****

حساب۔۔۔ شوق موسوی
جو کاروبار حکومت کا کچھ حساب کیا
کھلا کہ خود کو بھی اوروں کو بھی خراب کیا
سبھی لٹیرے ہیں ان سب کا بھائی چارہ ہے
یہاں کسی نے کسی کا نہ احتساب کیا