- الإعلانات -

قائداعظم اور پاکستان

دسمبر1876ء ہمارے قائد محمد علی جناح کا یوم پیدائش ہے وہ ہر اعتبار سے ایک جامع اور مکمل معمار تھے جنہوں نے ایک منتشر اور پسماندہ اقلیت کی شیرازہ بندی کرکے اسے نہ صرف اپنی علیحدہ جغرافیائی وجود حاصل کرنے کے جذبے سے سرشار کرکے مطالبہ پاکستان کو مسلم ہندوستان کا اعلیٰ و ارفع مقصد حیات بنا کر اس قوم کی آزادی کی سمت رہنمائی کی اور بالآخر برصغیر میں مسلم قوم کی نشاۃ ثانیہ سے متعلق سرسید کے مشن کو اس کی کلیت کے ساتھ تکمیل تک پہنچانے کا ذریعہ اور وسیلہ بنے پھر نہایت نامساعد ، خطرناک اورکٹھن حالات میں اس نوزائیدہ قوم کی بقاء اور حیات کو محفوظ و مامون بنا دیا۔
زمین کی روح تیری عظمتوں سے گونج اٹھی
فلک کے دل میں تیرے عزم کا ٹھکانہ بنا
اُفق سے تابہ اُفق زندگی ابھر آئی
تیرے خلوص کے ہاتھوں نیا زمانہ بنا
عصر حاضر میں شاید ہی کسی اور راہنما کو اتنے شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا گیا جن الفاظ میں جناح کو پیش کیا گیا ہے۔ ان کی تعریف ایسے لوگوں نے بھی کی ہے جو ان کے نظریات کے مخالف تھے ۔ آغا خان کا کہنا ہے کہ میں جتنے لوگوں سے ملا ہوں وہ ان سب سے عظیم تھے ۔‘‘ورڈکٹ آف انڈیا کے بیرونی نکلس نے انہیں ایشیاء کا انتہائی اہم شخص قرار دیا ۔ ڈاکٹر کیلاش ناتھ کانٹو جو 1948ء میں مغربی بنگال کے گورنر تھے ان کے بارے میں کا ہے کہ وہ اس کے ممتاز فرد تھے ‘‘۔ عرب لیگ کے سیکرٹری عبدالرحمن عظام پاشا نے انہیں عالم اسلام کے عظیم رہنماؤں میں سے ایک قرار دیا ۔ مفتی اعظم فلسطین نے ان کی موت کو تمام عالم اسلام کیلئے ایک عظیم نقصان قرار دیا ۔ قائداعظم کی ذاتی اور سیاسی کامیابیوں کو انڈین نیشنل کانگریس کے فارورڈ بلاک ونگ کے سربراہ مسرت چندر بوس نے نہایت جامع الفاظ میں سمو دیا ۔ ’’1948ء میں قائداعظم کے انتقال پر انہوں نے کہاکہ مسٹر جناح ایک وکیل کی حیثیت سے عظیم تھے ۔ ایک کانگریسی کی حیثیت سے بھی ان کی عظمت مسلمہ ہے۔ وہ مسلمانوں کے رہنما کی حیثیت سے عظیم ترین تھے ۔ مسٹر جناح کے انتقال سے دنیا ایک عظیم ترین ، مدبر اور پاکستان اپنے خالق،فلسفی رہنما سے محروم ہوگیا ۔ قائداعظم کے دن کی آمد ماضی کی تاریخ تعبیر پاکستان کے حوالہ سے اطمینان و سکون کا باعث بنتی ہے لیکن قائد کے بعد حکمرانوں کی بے حسی ، عوام کی بے بسی ، غریب و امیر کا فرق ، مذہبی فرقہ واریت ، گروہ بندی ، نسلی اور علاقائی اختلافات ، لسانی عصیبت ، مذہبی دہشت گردی جیسے رونما وہنے والے عوامل کو دیکھ کر شرمندگی کا ہی احساس ہوتا ہے ۔ ہم نے بابائے قوم کی دلی خواہشات ، ان کی تمناؤں اور عظیم مقاصد کو پورا کرنے کیلئے سنجیدہ عملی اقدامات اٹھانے کی بجائے اپنے آپ کو صرف نعرہ بازی تک محدود رکھا ، حکمران طبقہ سیاستدان اور مذہبی قائدین نے بھی اپنے سیاسی ، گروہی اور نجی مفادات کے حصول کیلئے بابائے قوم کی تعلیمات کو محض تشہیر کا ذریعہ بنایا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ابھی تک ملک کے عوام کی اکثریت اپنی محرومیوں اور مایوسیوں پرماتم کناں نظرنہ آتی ۔ سیاسی مفادات کے حصول کیلئے ہر نوع کا انتشار، افراتفری ، رواداری کا فقدان ہمارا منہ چرا رہا ہے۔ ہم نے کرنسی نوٹوں پر قائدکی تصویر کو تو ضرور آراستہ کیا ان کے خوبصورت پورٹریٹ ایوانوں، سرکاری اور تعلیم اداروں میں بھی سجائے لیکن ان کے ارشادات اور ہدایات کوعملی جامہ پہنانے میں ہمیشہ لاتعلقی کا مظاہرہ کیا ۔ ہم نے ان دریچوں کووا کرانے کی کوشش بھی نہیں کی ۔ ہم نے قائداعظم کے فرمودات سنہری ، اصولوں، تعلیمات ، مخلصانہ ،خدمات اور پاکستان کے اغراض و مقاص دکو تقریبات میں اپنی آتش بیانی تک محدود رکھا ۔ قائداعظم کا سماجی فلسفہ ، اخوت ، عدل عمرانی کے انسان دوست اصولوں پر یقین محکم سے عبارت تھے ۔ انہوں نے دولت مندوں کو اپنا انداز فکر تبدیل کرنے کا مشورہ دیا ۔ سرکاری افسروں پرزور دیا کہ وہ ایسی فضا کو جنم دیں ایسے جذبے اور لگن سے کام کریں کہ ہر شخص کے ساتھ انصاف ہوسکے اور اس کو اپنا حق مل سکے ۔ انہوں نے پر زور انداز میں تلقین کی کہ پاکستان کی سرزمین سے ہرقسم کے استحصال کا خاتمہ کردیا جائے مگرہمارے یہاں جاگیرداروں، سرمایہ داروں، بیوروکریسی اورکرپٹ سیاستدانوں نے ملی بھگت میں بابائے قوم کے اس حسین خواب کا شیرازہ منتشر کرکے رکھ دیا ۔ قائداعظم کا آزاد ریاست کا تصور یہی تھا کہ اس میں ہر شہری کو مکمل آزادی حاصل ہوگی جو واضح اشارہ تھا کہ اس آزادریاست میں ملائیت ، مذہبی تنگ نظری اور جبر کی ہرگز اجازت نہ ہوگی نہ گنجائش لیکن ہم نے ان کیر حلت کے بعد بالغ نظری ، وسیع القلبی ، سیاسی و مذہبی رواداری کو کیسر فراموش کردیا ۔ آج ان کے نظریات کو دانستہ مسخ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اورنوجوان نسل کو گمراہ کیا جارہا ہے۔ شاید قائداعظم کے نظریات کو فروغ دینے کیلئے پاکستان میں کوئی جگہ نہیں وہ اورزمانہ تھا وہ اور نسل تھی جس نے پاکستان بنتے دیکھا ۔ تحریک پاکستان میں شریک ہوئے ،قربانیاں دیں ، ہجرت کی ، صعوبتیں برداشت کیں ۔موجودہ نسل کیلئے انحالات کا ادراک ناممکن بنا دیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جس روشن خیال عصیبتوں سے پاک عوامی حقوق ومفادات کے نگہبانی کا خواب قائد نے دیکھا تھا وہ ابھی تک ادھورا ہے۔ قائد کی آواز، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے سب سے طاقتور آواز تھی یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان کے اعلان کے ساتھی ان کے بیانات اور پریس انٹرویوز میں پاکستان میں اقلیتوں کے تحفظ کی کلیدی حیثیت نظر آتی ہے ہم کرسمس کے تہوار پر اپنے ہم وطن مسیحی بھائیوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور ان کی صحت و خوشحالی و سلامتی کیلئے دعاگو ہیں۔ہر سال25دسمبر کوقائداعظم کا یوم پیدائش حسب روایت جوش وخروش سے تو ضرور منایا جاتا ہے مگر یہ بات گلدستہ طاق نسیاں رہی کہ بابائے قوم پاکستان کو کیسابنانا چاہتے تھے ۔ کیونکہ حکمران اسے بھلانے میں ہی عافیت سمجھتے رہے آج کا دن ہم سے یہ تقاضاکررہاہے کہ ہم قائد کے نظریات کی طرف لٹ آئیں۔ من حیث القوم وطن عزیز میں سماجی انصاف کے حصول ، رواداری کے فروغ ، مذہبی عقائدو نظریات کے جبر سے مسلط کرنے کی غلط روش سے اجتناب کریں، ہرشخص کے حقوق کا احترام اور امن و سلامتی کیلئے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں اسی صورت میں ہم کامیابی و کامرانی اور عزت و وقار کو ممکن بناسکتے ہیں اور اپنے ذمے بابائے قوم کا قرض ادا کرنے کے ساتھ اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوسکتے ہیں۔