- الإعلانات -

قائد اعظم محمد علی جناح کا دستور العمل !

اللہ تبارک و تعالیٰ نے قائد اعظم محمد علی جناح کو ایسی خوبیاں عطا کر رکھی تھیں جن کے بل بوتے پر وہ نا صرف انتہائی غور وخوض کے بعد کوئی فیصلہ کرتے تھے بلکہ وہ اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے مشکل ترین حالات کا مردانہ وار مقابلہ بھی کرتے تھے۔ وہ ایک بلند کردار میرِ کارواں کی حیثیت سے اپنی قوم کی درست سمت میں راہنمائی کا ہنر بھی بخوبی جانتے تھے ۔ قائد اعظم کے خیالات اور تصورات نا صرف حقائق پر مبنی ہوتے تھے بلکہ دوسروں کے دل و دماغ پر دُور رس اور گہرے نقوش مرتب کرتے تھے۔ جب برِ صغیر کے لوگ اور خصوصاً مسلمان، نو آبادیاتی نظام کی بے رحم زنجیروں میں اس طرح مقید تھے کہ ان کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں دب چکی تھیں، یاس و قنوطیت کے گھپ اندھیروں نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ ان ناگفتہ بہ حالات میں ایک نبض شناس اور ماہر طبیب کی طر ح بیماری کی تشخیص کر کے اس کا علاج تجویز کیا ۔قائد اعظم محمد علی جناح نے غلامی کی زنجیروں کو پاش پاش کرنے کے لئے انتہائی دانش مندی سے برصغیر کے صنم کدہ میں ملتِ اسلامیہ اور خصوصاً اس کی نوجوان نسل کواپنا "Motto”(دستور العمل) تین سنہری اصولوں”Faith” (ایمان ) "Discipline”(نظم )اور ” Unity "(اتحاد) (26دسمبر 1941ء ، ناگ پور میں آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے پانچویں سالانہ اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب ، بحوالہ ڈاکٹر صفدر محمود ) کی صورت میں عطا کر کے جہاں ان اصولوں کی حرارت سے ان کے جذبات و احساسات کو مہمیز کیا وہاں اسلامی مملکت کے قیام کی راہ میں روڑے اٹکانے والی تمام سیکولر، مذہبی، سیاسی اور لا دینی قوتوں کو شکست سے دوچار بھی کیا۔ اس میں شک نہیں کہ جب علامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے برصغیر میں دین اسلام کی اساس پر دو قومی نظریہ پیش کیا تو شروع شروع میں نا صرف ہندوؤں اور انگریزوں نے بلکہ کچھ مسلمانوں نے بھی ، برصغیر میں ،اس نظریہ کو ناقابلِ عمل قرار دیا اور وہ پوری شدّو مد کے ساتھ اس نظریہ کی مخالفت کرنے لگے لیکن ’’مسلم لیگ ‘‘کی جدوجہدکے نتیجہ میں کچھ عرصہ بعد یہ نظریہ برصغیر کے مسلمانوں اور نوجوان نسل کی رگ و ریشے میں اس طرح سما گیا کہ سیکولر ازم کا کوئی حربہ اور مخالفت کی کوئی آندھی،مسلمانوں کے راستہ میں حائل ہو کر انہیں آزادی کی سمت بڑھنے سے نہ روک سکی۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کے’’ دو قومی نظریہ ‘‘کے تصور سے متاثر ہو کر ہی نہ صرف آل انڈیا کانگرس سے اپنا ناطہ توڑ کر ، برصغیر کے دیگر نامور مسلم زعماء کی امنگوں کے مطابق ’’آل انڈیا مسلم لیگ‘‘، کی قیادت کی باگ ڈور سنبھالی بلکہ برصغیر کے مسلمانوں کو حصول آزادی کے لئے اپنے سنہری اصولوں ’’ایمان، اتحاد اور نظم‘‘ کی روشنی میں اپنی تمام سرگرمیوں اور جدوجہد کو یکجا کر کے آگے بڑھنے اور حصول آزادی کے لئے دامے، درمے ، سخنے اور قدمے ہر طرح کی قربانی دینے کا شعور بھی عطا کیا۔ بعض مغرب گزیدہ دانشور وں نے قائد اعظم کو سیکولر ثابت کر کے ایک طرف دین اور سیاست کو جدا کر کے ، اپنے تئیں ،اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ دین ، ’’دینِ اسلام‘‘ کے دامن کی وُسعت اور ہمہ گیر یت کو محدود کرنے کی ناکام جسارت کی اور دوسری طرف ’’دو قومی نظریہ‘‘ کے تصور کے ضمن میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لئے یہ منطق بھی پیش کی کہ قائد اعظم کا مُدعا ’’پاکستان کو ایک سیکولر ریاست بنانے کا تھا‘‘ اگر ان کے اس بے سروپا استدلال کو درست تسلیم کر لیا جائے تو پھر برصغیر میں تصور پاکستان پیش کرنے اور نئی مملکت بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ علامہ ڈاکٹر محمد اقبال ، قائد اعظم محمد علی جناح اور ’’مسلم لیگ ‘‘کے پرچم تلے متحد ہونے والے کروڑوں مسلمانوں نے جو جدوجہد کی تھی اس کا ہر گزسیکولر، پاکستان بنانے کا تصور نہ تھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح سے جب ’’قیام پاکستان‘‘ کے بارہ میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایاکہ ’’ پاکستان تو اسی دن وجود میں آگیا تھا جب برصغیر کے پہلے فرد نے کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمدؐ الرسول اللہ ‘‘ پڑھا تھا۔ (8مارچ1944ء مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے طلبہ سے خطاب) کیا قائد اعظم کا یہ فرما ن ، ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان ‘‘کا غماز نہ تھا؟ علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کی پوری شاعری اور قائد اعظم محمد علی جناح کی سینکڑوں تقاریر ’’ دو قومی نظریہ ‘‘ کے مطابق ’’تصورپاکستان ‘‘ کی حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کرتی ہیں ۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے پیش کردہ اصولوں پر غور کرنے سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ قائدا عظم کے پیش نظر ’’دو قومی نظریہ ‘‘کے مطابق ایک الگ ’’اسلامی ریاست‘‘ بنانے کے علاوہ اور کوئی مقصد نہ تھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح کا عطا کردہ اصول ’’ایمان‘‘ فی الحقیقت دینِ اسلام کی وسیع المعنٰی اصطلاح ہے ۔ ایمان کے معنٰی ہیں یقین رکھنا، دل سے ماننا ، عقیدہ ۔ایمان سے مراد توحید و رسالت ، اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاؑ ء و مرسلین ؑ ، ان پر نازل کردہ کتب ، فرشتوں ، جنت و دوزخ ، آخرت (سزا و جزا کے دن) ، خیرو شر ، تقدیر اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر یقین کامل رکھنا ہے۔ ایمان کا لفظ اور اصطلاح صرف دین اسلام کے لئے مستعمل ہے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:’’اے ایمان والو! ڈرو اللہ (تعالیٰ) سے جیسے حق ہے اس سے ڈرنے کا اور (خبردار ) نہ مرنا مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو‘‘ (ترجمہ ! آلِ عمران:103) ایمان کی قوت کے بغیر مسلمان نا صرف دینی و دنیاوی ترقی کرسکتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی معرفت بھی حاصل نہیں کر سکتے۔ بقول اقبال ؂
آج بھی ہو جو براہیم ؑ کا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا
قائد اعظم محمد علی جناح کا دوسرا اصول "Unity” (اتحاد) ہے۔ اتحاد کے معنٰی ایک ہو جانا، دوستی اور محبت کے ہیں ۔یہ اصول بھی اسلامی بھائی چارہ ، باہمی یگانگت اور اخوت و محبت کا غماز ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن حمید میں مسلمانوں کو باہمی اتحاد کا درس دیتے ہوئے ارشاد فرمایا’’ اور مضبوطی سے پکڑ لو اللہ (تعالیٰ) کی رسی سب مل کر اور جُدا جُدا نہ ہونا اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ کی وہ نعمت (جو اس نے) تم پر فرمائی جب کہ تم تھے آپس میں دشمن تھے پس اُس نے اُلفت پیدا کردی تمہارے دلوں میں تو بن گے تم اس کے احسان سے بھائی بھائی اور تم تھے دوزخ کے گھڑے کے کنارے پر تو اس نے (گرنے سے) بچا لیا تمہیں اس سے ‘‘ (ترجمہ ! آل عمران: 103) صحابہ کرام نے حضور ﷺ سے عرض کی کہ حضور ﷺ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی رسی سے کیا مراد ہے ؟ حضور ﷺنے ارشاد فرمایا ’’قرآن مجید‘‘ گویا کہ قرآن حکیم کی تعلیمات ہی حقیقت میں ملّی اخوت اور باہمی اتحاد کا ذریعہ ہیں۔ مسلمانوں کے اتحاد کے سلسلہ میں حضوررسالت مآب ﷺکا ارشاد گرامی ہے ۔ ’’ تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں اگر اس کی آنکھ دکھے گی تو سارا جسم دُکھے گا اور اگر اس کا سردکھے گا تو سارا جسم درد محسوس کرے گا۔ (مسلم شریف) اتحاد کے بغیر مسلمان دنیا میں حقیقی عزت و سرخروئی حاصل نہیں کر سکتے۔ بقول علامہ اقبال ؂
ہیں جذبِ باہمی سے قائم نظام سارے
پوشیدہ ہے یہ نکتہ تاروں کی زندگی میں
قائد اعظم محمد علی جناح کا تیسرا اصول "Discipline” (نظم )ہے۔ جس کے معنٰی ہیں انتظام ، بندوبست،تنظیم، نظم و نسق، نظم و ضبط ،قواعد و ضوابط کی پابندی۔ اگر ہم ارکانِ اسلام پر غور کریں تو ہمیں بہترین نظم وضبط اور ترتیب ملے گی ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ’’بے شک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اوررات دن کے بدلتے رہنے میں بڑی نشانیاں ہیں اہلِ عقل کے لئے (ترجمہ!آلِ عمران: 190) اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا ’’ یہ آفتاب ہے جو چلتا رہتا ہے اپنے ٹھکانے کی طرف ۔ یہ اندازہ مقرر کیا ہوا ہے۔ (اس ) عزیز (اور) علیم (خداتعالیٰ) کا اور (ذرا) چاند کو دیکھو ہم نے مقرر کر دی ہیں اس کے لئے منزلیں ، آخر کار ہو جاتا ہے کھجور کی بوسیدہ شاخ کی مانند ۔ نہ سورج کی یہ مجال کہ چاند کو آپکڑے اورنہ رات کو یہ طاقت ہے کہ دن سے آگے نکل جائے اور سب (سیارے اپنے اپنے فلک ) دائرے میں تیر رہے ہیں۔ (ترجمہ! یٰسین: 38,39) نظم ،کی افادیت سمجھنے کے لئے اگر ہم زمین وآسمان کی تخلیق، دن اور رات کے قیام ، موسموں کے تغیر و تبدل، مختلف پھلوں، پھولوں ، اجناس،آگ ، پانی ، ہوا، سورج ، چاند ، ستاروں کی چمک دمک ، حیوانات و جمادات ،الغرض تمام مظاہر فطرت پرغور کریں تو ہمیں اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہر تخلیق بہترین نظم و ضبط کا نمونہ دکھائی دے گی۔ اگر دنیا کے نظام میں، صرف سورج ہی اپنے نمودار ہونے کے عمل میں نظم سے ہٹ جائے تو کائنات کا سارا نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے۔ بلا شبہ قائد اعظم محمد علی جناح نے برصغیر کے مسلمانوں کو جو دستور العمل”Motto”عطا کیاجسے مشعل راہ بنا کر، برصغیر کے د س کروڑ مسلمانوں نے جدوجہد کی اور 14؍اگست 1947ء کو’’ دو قومی نظریہ ‘‘کے مطابق ،اسلامی مملکت پاکستان کے حصول میں سرخرو ہوئے۔ قائد اعظم محمد علی جناح اگر پاکستان کو کوئی سیکولر سٹیٹ بنانا چاہتے تو وہ ’’ایمان ، اتحاد اور نظم ‘‘ جیسے رہنما اصول کبھی نہ پیش کرتے کیوں کہ ان اصولوں کی اساس دین اسلام کی تعلیمات ہیں۔ جو لوگ انسانی حقوق اور اقلیتوں کے حقوق کے تصور کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔ کیا انہیں یہ شعور نہیں کہ انسانی اورا قلیتوں کے حقوق کی پاسداری کا جو تصورِ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح کیا اور جس کی عملی تفسیر حضور رحمت عالم ﷺ نے اپنی زندگی میں پیش کی اس کی نظیر دنیا کے کسی مذہب ، فلسفہ حیات اور نظام زندگی میں نہیں ملتی؟ ۔بقول اقبال
ربط و ضبط ملّتِ بیضا ہے مشرق کی نجات
ایشیا والے ہیں اس نکتے سے اب تک بے خبر
*****