- الإعلانات -

سی پیک اورنئی عسکری قیادت کاعزم

کوئٹہ میں بلوچ ریکروٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نہایت نکتے کی بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری دشمنی پاکستان کے دشمنوں سے ہے۔ دشمن بلوچستان کی ترقی میں رکاوٹ بننا چاہتے ہیں۔ نفرت اور دہشت گردی پھیلانے والے اپنے انجام کو پہنچیں گے۔آرمی چیف نے کہا کہ بلوچستان کے غیور عوام کی تقریب میں شرکت کرنے پر خوشی ہے، بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ میرا تعلق بلوچ رجمنٹ سے ہے اور مجھے بلوچی کہلوانے پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج اور سکیورٹی ادارے قومی یکجہتی کے ضامن اور علامت ہے بلوچستان کے نوجوان ملک کے دفاع میں کسی سے کم نہیں آج بلوچستان کے بہادر بیٹے وطن کی آواز پر لبیک کہہ رہے ہیں۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ بلوچستان پاکستان کا بڑا اور انتہائی اہم حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بلوچستان کو بے پناہ وسائل اور عوام کو بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ سی پیک کی بروقت تکمیل سے خطے میں ترقی کے دروازے کھلیں گے۔بلاشبہ بلوچستان کو اللہ تعالیٰ نے بے پنا ہ وسائل سے نواز رکھا ہے،بس صرف کمی ہے تو ایسی قیادت کی جو ان وسائل کو منصفانہ طریقے سے استعمال میں لائے۔گزشتہ کچھ عرصہ سے ان وسائل کو استعمال میں لاکر ملک کی ترقی کے ساتھ ساتھ صوبے کی خوشحالی کی منصوبہ بندی کی جاچکی ہے۔سی پیک اس سلسلے کی اہم کڑی ہے۔سی پیک چونکہ دشمن کی آنکھ میں بری طرح کھٹکتا ہے اور وہ اسے ناکام بنانے کی پلاننگ بنائے بیٹھا ہے ۔ہماری سیاسی اور عسکری قیادت اس سے آگاہ ہے اور وہ اس پر کڑی نگاہ رکھے ہوئے ہے۔سی پیک کی سیکورٹی کے حوالے انتہائی اہم اقدامات اٹھائے جاچکے ہیں جبکہ مزید اقدامات موثر بنائے جارہے ہیں۔سی پیک محض ایک سڑک ہی نہیں بلکہ 55 ارب ڈالر کی لاگت سے بننے والی پاک چین اقتصادی راہداری دونوں ممالک میں دوستی کی ایک نئی علامت بھی ہے۔تین سال قبل جب پاکستان مسلم لیگ ن نے کامیابی حاصل کی تھی تو چینی وزیر اعظم لی کیچیانگ سب سے پہلے غیر ملکی رہنما تھے جنھوں نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔دو مہینے بعد جولائی 2013 میں میاں نواز شریف نے چین کا جوابی دورہ کیا جس میں وہ تاریخی معاہدہ طے پایا جو سی پیک منصوبے کی بنیاد بنا۔کاشغر سے گوادر تک دو ہزار کِلومیٹر لمبی سڑک کے منصوبے سمیت دونوں وزرائے اعظم نے مفاہمت کی آٹھ یادداشتوں اور مختلف معاہدوں پر دستخط کیے۔ اپریل 2015 میں چینی صدر شی جن پِنگ کے دورہ پاکستان میں سی پیک سے منسلک منصوبوں کی تفصیلات سامنے آئیں۔ اس میں سے تقریباً 34 ارب ڈالر توانائی سے متعلق منصوبوں پر جبکہ تقریباً دس ارب ڈالر سڑکوں اور آمد و رفت کے ذرائع لیے مختص کیے گئے تھے۔ چینی صدر نے اس موقع پر ملک کی قومی اسمبلی سے بھی خطاب کیا اور سی پیک کو دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کا محور قرار دیا۔اس سال اکتوبر تک مزید آٹھ ارب ڈالر کے منصوبوں کی منظوری کے بعد سی پیک تقریباً 55 ارب ڈالر کی لاگت کا منصوبہ بن چکا ہے اور اس کو ‘گیم چینجر’ یعنی ملک کی تقدیر بدلنے والے منصوبے کی حیثیت سے دیکھا جا رہا ہے۔اس منصوبے کے تحت پاکستان میں جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں گہرے سمندری پانیوں والی گوادر کی بندرگاہ کو چین کے خود مختار مغربی علاقے سنکیانگ سے جوڑا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت گوادر اور سنکیانگ کے درمیان نئی شاہراہوں اور ریل رابطوں کی تعمیر کے علاوہ گیس اور تیل کی پائپ لائنیں بھی بچھائی جارہی ہیں۔یہ پروجیکٹ کئی مرحلوں میں 2030ء تک مکمل ہو گا۔ اس منصوبے کے لیے زیادہ تر رقوم چینی سرمایہ کاری کی صورت میں مہیا کی جائیں گی لیکن ان مالی وسائل میں وہ نرم قرضے بھی شامل ہوں گے، جو بیجنگ حکومت اسلام آباد کو فراہم کرے گی۔ اسی منصوبے کے تحت حکومت کا ارادہ ہے کہ اس کوریڈور کے ساتھ ساتھ کئی ایسے صنعتی پارک اور کاروباری ترقیاتی خطے بھی قائم کیے جائیں گے، جن سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ وہاں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھی مزید پرکشش بنایا جائے گاجبکہ دوسری جانب پاکستان کی عسکری قیادت اس حوالے سے ہمہ وقت چوکنا رہتی ہے۔یہی وجہ کہ نئے آرمی چیف عہدہ سنبھالنے کے بعد اب تک بلوچستان کے تین دورے کرچکے ہیں۔ اس سے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ بلوچستان پاکستان کے مستقبل کے لئے کتنا اہم ہے۔اپنے گزشتہ روز کے دورے میں واضح کیا کہ پاک فوج سکیورٹی اداروں کی استعداد کار میں اضافے کیلئے کوشاں ہیں۔انہوں نے یقین دلایا کہ بلوچستان کا مستقبل انشاء اللہ روشن ہے۔ اقتصادی راہداری روشن اور خوشحال مستقبل کی ضمانت ہے۔ سی پیک کی بروقت تکمیل خطے کو ترقی کی راہ پر ڈال دے گی۔ آرمی چیف نے کہا کہ آنے والے کل کا بلوچ نہ صرف پاکستان، بلکہ پورے خطّے کی قیادت میں شامل ہوگا۔ سی پیک نے خطے کی صورتحال کو تبدیل کر دیا ہے۔
شراب کی بلاروک ٹوک فروخت کا نوٹس لیا جائے
گزشتہ روزکرسمس کے تہوار کے موقعہ پر فیصل آباد کے علاقے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایک نہایت ہی افسوسناک واقعہ پیش آیا کہ جس میں زہریلی شراب پینے سے 20مسیحیوں سمیت 22 افراد ہلاک ہوگئے ۔ کرسمس کی یہ تقریب محلہ مبارک آباد میں ہورہی تھی،جس میں مسیحی برادری کے بیسیوں افراد نے شراب نوشی کی، مقامی طور پر تیار کی جانے والی شراب زہریلی تھی۔زہریلی شراب نوشی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں اور نہ ایسی شراب بنانے والوں کی کمی ہے لیکن پولیس کی جانب سے کبھی ایکشن نہیں لیاجاتا۔اس واقعہ میں بھی کسی بھی شراب فروش کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ واقعہ میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ملک میں شراب پر پابندی ہے لیکن چونکہ مسیحی برادری کو چھوٹ حاصل ہے اس لئے شراب نوشی کے ایسے واقعات عام ہیں لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ کڑی نگرانی نہ رکھی جائے۔شراب کی فروخت کے حوالے سے ملک قوانین پر مکمل عمل درآمد کروایا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ایسے واقعات کو روکا نہ جاسکے۔اس وقت پولیس کی ملی بھگت سے شراب کی تیاری اور فروخت بلاروک ٹوک جاری ہے ۔صوبائی حکومت کو اس سلسلے میں سخت نوٹس لینا ہوگا تاکہ آئندہ ایسے واقعات نہ ہونے پائیں۔
پاکستان میں ٹی بی کا پھیلتا ہوا مرض
ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا میں ٹی بی کے مریضوں کی تعداد 9 ملین ہے اور ہر سال دو ملین افراد ٹی بی کی مرض سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ 93 فیصد یہ اموات غریب ملکوں یا متوسط آمدنی والے ملکوں میں ہوتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے ٹی بی سے متاثرہ ملکوں میں پاکستان کو پانچواں متاثرہ ملک قرار دے رکھا ہے جہاں ہر سال تین لاکھ افراد ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ صرف خیبر پی کے صوبے میں ہر سال 55 ہزار ٹی بی کے مریضوں میں اضافہ ہورہا ہے اور یہ صوبہ ملک کے باقی تمام صوبوں سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے۔ ٹی بی بیکٹیریا متاثرہ شخص سے دوسرے تندرست افراد میں منتقل ہوسکتا ہے۔ٹی بی کے حوالے سے پاکستان کا شمارٹاپ کے پانچ ممالک میں ہونا انتہائی خطرناک امر ہے۔ اس مرض کے پھیلاؤ میں ناقص غذا اور آلودہ پانی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔لہٰذا حکومت کو چاہئے کہ وہ اس مرض کے تدارک کی ٹھوس حکمت عملی اپنائے کیونکہ یہ مرض لاعلاج نہیں ہے۔