- الإعلانات -

قائداعظم اور پاکستان کی خارجہ پالیسی

(گزشتہ سے پیوستہ)
لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی وائسرائے شپ کے آخری پانچ دن کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ بدنامی اُن کا مقدر ہوگی اور تاریخ اُن کیلئے سزائے موت لکھے گی” ۔ یہ درست ہے کہ ماؤنٹ بیٹن نے جواہر لال نہرو کی خواہش پر26 اکتوبر 1947 کو گورنر جنرل بھارت کی حیثیت سے مہاراجہ کشمیر کی متنازع الحاق کی دستاویز کو عارضی طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا جس پر دنیا بھر میں بھارت کی رسوائی ہوئی چنانچہ اِس منفی صورتحال سے بچنے کیلئے بھارتی وزیراعظم نہرو نے 31 اکتوبر 1947 کو ایک ٹیلی گرام کے ذریعے پاکستانی وزیراعظم لیاقت علی خان کو مطلع کیا کہ جونہی کشمیر میں امن قائم ہوگا بھارتی فوجیں کشمیر سے واپس بلا لی جائیں گی اور کشمیری عوام کو استصواب رائے کا موقع دیا جائیگا جس کا اظہار اُنہوں نے 2 نومبر 1947 کو آل انڈیا ریڈیو کی براڈکاسٹ میں دنیا کی ڈِس انفارمیشن کیلئے دھرایا ۔
لیکن قائداعظم نہرو کی چانکیہ صفت کو سمجھتے ہوئے اُن کے 31 اکتوبر کے ٹیلی گرام کے مندرجات کے پیش نظر یکم نومبر کو لاہور میں بھارتی گورنر جنرل ماؤنٹ بیٹن سے ملاقات میں پنڈت نہرو کے ٹیلی گرام کے جواب میں فکر و دانش پر مبنی ایک تین نکاتی تجویز پیش کی۔ (1) دونوں ملکوں کے گورنر جنرل ایک مشترکہ اعلامیہ میں دونوں متحارب قوتوں (بھاتی فوج اور قبائلیوں) کو 48 گھنٹوں میں جنگ بندی کا نوٹس دیں اور قبائلیوں کو وارننگ دی جائے کہ اگر وہ حکم عدولی کرتے ہیں تو پھر دونوں ملکوں کی فوجیں اُس سے جنگ کریں گی۔ (2)کشمیر سے بھارتی فوجیں اور قبائلی لشکر بیک وقت واپسی اختیار کریں گے ۔ (3) دونوں گورنر جنرلوں کو امن قائم کرنے ، ریاست کا انتظام چلانے اور استصواب رائے کا مکمل اختیار دیا جائیگا لیکن وزیراعظم نہرو نے اِن امن تجاویز کو ماننے سے انکار کر دیا جس کے نتیجے میں قائداعظم نے جموں و کشمیر میں مسلمانوں کا قتل عام روکنے کیلئے پاکستان فوج کو کشمیر میں داخل ہونے کا حکم دیا ۔
گو کہ قائداعظم محمد علی جناح کو پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے خارجہ پالیسی کو مضبوط بنیادوں پر قائم کرنے کیلئے محض ایک برس کا وقت ہی مل سکا تھا لیکن بیماری کے باوجود اِس چند روزہ زندگی میں بھی اُن کی کارکردگی بے مثال رہی ۔ قائداعظم بھارتی اکھنڈ بھارت کی ذہنیت کو پاکستان کیلئے بڑا خطرہ گردانتے تھے ۔ اُنہوں نے 14 اگست 1948 کو پاکستان کی پہلی سالگرہ پر قوم کے نام پیغام میں کہا کہ ” ہم نے سال بھر کے حوادث کا مقابلہ حوصلے اور عزم سے کیا ہے ۔ دشمن کے وار جن کا تذکرہ بار بار کیا جا چکا ہے، خصوصاً مسلمانوں کو بحیثیت قوم ختم کرنے کی منظم سازش کے خلاف ہم نے جو کامیابی حاصل کی وہ حیرت انگیز ہے ۔ اِس نوزائیدہ مملکت کو پیدا ہوتے ہی دیگر طریقوں سے گلا گھونٹے کی ناکام کوشش میں ہمارے دشمنوں کو اُمید تھی کہ اُن کی دلی منشا اقتصادی چالبازیوں سے پوری ہو جائیگی۔ اِن تمام دلائل سے کام لیکر جو بغض و عداوت سے تراشی جا سکتی تھیں ، پیش گوئیاں کی گئیں کہ پاکستان دیوالیہ ہو جائیگا ۔ دشمن کی شمشیر و آتش جو مقصد حاصل نہ کر سکی وہ مقصد اِس مملکت کی مالی تباہی سے حاصل ہو جائیگا مگر ہماری برائی چاہنے والے تمام پنڈتوں کی پیش گوئیاں جھوٹی ثابت ہوئیں اور ہمارے پہلے ہی بجٹ میں بچت ہوئی اور ہماری تجارت کا توازن ہمارے حق میں رہا ۔کسی بھی ملک کے مستقبل اور اقتصادی ترقی کے متعلق قطعی اور یقینی اندازہ لگانے کیلئے ایک سال کی مدت بہت ہی قلیل ہے لیکن جس طرح ہم نے زبردست مشکلات کے باوجود گزشتہ ایک برس میں ترقی کی ہے اُس کی بنا پر ہم مستقبل کیلئے خوش آئند تصورات قائم کر سکتے ہیں "۔اِس سے قبل ہمسایہ ملک بھارت کی جانب سے ایک تسلسل کیساتھ کئے جانے والے پاکستان مخالف پروپیگنڈے کے جواب میں رائٹر کے نمائندے ڈنکن ہوپر سے گفتگو کرتے ہوئے قائداعظم نے کہا کہ ” میں بار بار یہ کہہ چکا ہوں کہ ایک باضابطہ سمجھوتے کیمطابق ہندوستان تقسیم ہو چکا ہے ۔ میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کبھی اِس بات پر راضی نہیں ہوگا کہ دونوں آزاد مملکتیں ایک مشرکہ مرکز کے تحت آئینی طور پر ایک ہو جائیں۔ پاکستان قائم ہو چکا ہے اور قائم رہیگا لیکن ہم ہندوستان کیساتھ دو آزاد ، مساوی الحیثیت اور خودمختار مملکتوں کی طرح ہمیشہ سمجھوتے اور مفاہمت کیلئے تیار ہیں، بالکل اِسی طرح جیسے ہم کسی اور غیر قوم سے معاہدہ دوستی یا سمجھوتہ کر لیں” ۔ لہٰذا ہمیں خارجہ پالیسی کے حوالے سے قائداعظم کی ویژن کو سمجھنے سے گریز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ابتدائی دور میں ہی ہندوستان کے معاندانہ عزائم کو سمجھنے کیلئے قائد کی ویژن ہمارے لئے روشنی کے مینار کی حیثیت رکھتی ہے ۔ہم نے 1965 کی پاک بھارت جنگ کے بعد ہندوستان سے ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کے اصول کی بنیاد پر 1966 میں تاشقند سمجھوتہ کیا اور سمجھ لیا کہ بّرصغیر جنوبی ایشیا اب امن کا گہوارہ بن جائیگا لیکن چند برس کے اندر ہی بھارت نے مشرقی پاکستان میں منظم تخریب کاری اور طاقت کے استعمال سے 1971 میں پاکستان کو دولخت کر دیا۔ قائداعظم نے 21 مارچ 1948میں اپنے ڈھاکہ کے خطاب میں کہا تھا کہ ” میں صاف طریق پر آپ کو اُن خطرات سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں جو پاکستان کے قیام کو روکنے کی کوشش میں ناکام ہونے کے بعد اپنی شکست سے پریشان ہو کر پاکستان کے دشمن اب مسلمانوں میں پھوٹ ڈال کر اِس مملکت میں انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں اوراِن کوششوں نے اب صوبہ پرستی کو ہوا دینے کی صورت اختیار کر لی ہے جس کا تدارک کرنے کی ضرورت ہے”۔ چنانچہ آج ہمارے رہنماؤں کو فکر و نظر کے دھاروں کو کھولنا چاہیے کہ کیا ہم پھر ایسی ہی صورتحال سے نبردآزما تو نہیں ہیں؟ بہرحال قومی سلامتی کو لاحق اِن خطرات کے پیش نظر آج کا پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ٹیم کے جذب و کمال کی بدولت پہلی اسلامی ایٹمی طاقت بن چکا ہے جبکہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں پاکستان فوج قومی سلامتی کو لاحق ہر خطرے سے نمٹنے کیلئے چاق و چوبند ہے ۔ قائداعظم نے 21 فروری 1948 میں افواج پاکستان سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا : ” ہم نے پاکستان کی جنگ آزادی جیت لی ہے مگر اُسے برقرار رکھنے اور مضبوط و مستحکم بنیادوں پر قائم کرنے کی سنگین ترین جنگ ابھی جاری ہے اور اگر ہمیں ایک بڑی قوم کی حیثیت سے زندہ رہنا ہے تو اِس جنگ میں کامیابی حاصل کرنی ہو گی ۔آپ نے فاشسٹ نظام کے خطرات سے دنیا کو بچانے کیلئے کرّہ ارض کے دور دراز علاقوں میں جا کر داد شجاعت حاصل کی ہے اب آپ کو اپنے وطن کی سرزمین پر اسلامی جمہوریت ، اسلامی معاشرتی عدل و انصاف اور مساوات انسانی کے اصولوں کی پاسبانی کرنی ہے ۔ آپ کو اِس مقصد کے حصول کیلئے ہمہ وقت تیار رہنا ہوگا ۔ ابھی سستانے کا وقت نہیں آیا ہے ، یقین محکم ، ضبط و نظم اور ادائیگی فرض کے ایسے اصول موجود ہیں کہ اگر آپ ان پر کاربند رہیں تو کوئی شہ ایسی نہیں ہے جسے آپ حاصل نہ کر سکیں "۔ اللہ ہمارا حافظ و ناصر ہو ۔ ختم شد