- الإعلانات -

چوہدری نثار کی پی پی پی سے متعلق سّچ گپیاں،

پچھلے دِنوں اسلام آباد میں وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے جن زریں لفظوں اور جملوں کے ساتھ اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اظہار کرتے ہوئے بہت سے مُلکی معاملات اور پی پی پی سے متعلق سّچ گپیاں کیں ہیں آج اِنہیں جمہوریت کی زلف کی اسیر پی پی پی کی قیادت مخمل کے کمبلوں لحافوں اور قالینوں اور ٹاٹوں کے نیچے بھی دبا کر چھپاناچاہئے توبھی یہ ایسا نہیں کرسکتی ہے کیونکہ سّچ کبھی دبا ہے اور نہ ہی اِسے کبھی دبایا جاسکتاہے یہ کبھی نہ کبھی کھل کر سامنے آہی جاتا ہے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ آج چوہدری نثارعلی خان کی زبانی پی پی پی سے متعلق تمام سّچ سامنے آرہے ہیں اور اگلے انتخابات تک مزید اِسی طرح دنیا کے سامنے عیاں ہوتے چلے جا ئیں گے۔ہمیں اِس سے بھی انکار نہیں ہے کہ آج تک پی پی پی کی قیادت اپنی دانستہ یا نادانستہ مفاہمتی اور مصالحتی پالیسیوں کی بنیاد پر ن لیگ کے ساتھ کئی مُلکی معاملات میں چمٹی رہی ہے اور اِسے ہتی لگا کرچلاتی بھی رہی ہے مگر اِس کے ساتھ ساتھ یہ وفاق اور سندھ میں بھی اپنا سیاسی اور ذاتی اُلو بھی سیدھا کرتی رہی ہے ہنوز یہ عمل ابھی تک جاری ہے آج اگر پی پی پی کے اِنہیں معاملات کو چوہدری نثارعلی خان عوام الناس کے سامنے لارہے ہیں تو یہ ایسا کیا بُراکررہے ہیں ؟ کہ جس پر پی پی کی قیادت چوہدری نثارعلی خان سے ناراض ہوگئی ہے اور اِن کے خلاف وفاق سے لے کر صوبوں تک صف آرا ہے۔آج نون لیگ کی حکومت میں اگر واقعی کوئی سچا اور کھرا سیاسی لیڈر اور وفاقی وزیرہے تو بس ایک چوہدری نثارعلی خان ہے جس نے ہمیشہ سّچ کو سّچ اور جھوٹ کو جھوٹ بولاہے کبھی کسی کاچہرہ دیکھ کر نہ تھپڑ مارا ہے اور نہ کبھی کسی کا خوبصورت چہرہ دیکھ کراُسے پیار کیا ہے اِس نے کم از کم اِس حکومت میں ہر کسی کے بارے میں سّچ اور سّچ کہاہے اور آج جب چوہدری نثار علی خان نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگوکی ہے تو اِس سّچ گپی میں بھی اللہ کے اِس سچے بندے نے یہ سّچ کہاہے کہ ’’مُلک میں حقیقی احتساب تب ہوگا جب نیب کا چیئرمین حکومت اور اپوزیشن نہیں عدلیہ مقررکرے گی‘‘۔ یہ وہ کھراسچ ہے اَب جس کو حکومت اور اپوزیشن کو خود بھی تسلیم کرلینا چاہئے کہ اَب تک جو دونوں نے کیا وہ سوفیصد ہی غلط تھااور اگر ابھی اِسے چوہدری نثار کے مطابق درست نہ کیا گیاتو پھر آئندہ بھی عمارت کی ساری بنیاد غلط ہی اُٹھائی جائے گی اُنہوں نے کہا کہ ’’ پلی بارگین چوروں کا راستہ دینے کے مترادف ہے‘‘ بیشک چوہدری نثارعلی ، بات یہی ہے اربوں کی کرپشن کرواور جب پکڑے جاؤتوکچھ کروڑاور چندارب نیب کی مٹھی میں رکھ کر پلی بارگین کرکے آزاد ہوجاو اور پھر معاشرے میں گردن تان کر سینہ پھولا کر دندناتے پھرو اور پھر جب بھی کوئی موقعہ ہاتھ لگے فوراََ کوئی بڑاہاتھ مارکر پھر کرپشن کرواور پھر نیب کو اس کی نیت کے مطابق پلی بارگین کرکے آزاد ہوجاؤ یعنی کہ آزادی سے چوری کرواور کھاؤ پییو جب پکڑے جاؤ تو پلی بارگین کرکے تمام گناہ بخشواکر کنگا نہالو اور پاک صاف ہوجائے آج تک یہی تو ہورہاہے اور نیب قومی کرپشن کرنے والے بڑے مجرموں سے یہی سب کچھ تو کروارہاہے ۔ جبکہ اِس کے برعکس مُلک کا کوئی غریب دس روپے کی بھی چوری کرے تو قانون تُرنت حرکت میں آجاتا ہے اور قانون کی موٹی موٹی کتابیں بھی فوراَ کھل جاتی ہیں اور قا نون کے ٹھیکیدار اپنا فوراََ یہ فیصلہ سُنا دیتے ہیں کہ اِس فرد پر دس روپے چوری کرنے کے شواہد مل گئے ہیں۔یہاں سوال یہ پیداہوتا ہے کہ جب وزراء اراکین پارلیمنٹ اور بیوروکریٹس کے لئے یہ آزادی ہے تو کیا میرے مُلک میں دس روپے چوری کرنے والے کے لئے کوئی پلی بارگین کا کوئی سوراخ نہیں ہے؟؟تا کہ یہ دس روپے چوری کرنے والا شخص بھی پلی بارگین سے مستفید ہوسکے یکد م ایسے ہی جیسے برسہابرس سے حکومتی وزراء اراکین پارلیمنٹ اور بیورکریٹس کروڑوں اربوں اور کھربوں کی قومی کرپشن کرکے پکڑے جانے پر نیب کو اِس کی نیت کے مطابق پلی بارگین کی اُوٹ سے کچھ دے دلاکر اپنے دانستہ کیئے گئے تمام گناہ بخشوالیتے ہیں۔ بہرحال ،چوہدری صاحب نے اپنی گفتگو میں مزید یہ بھی کہاکہ ’’میں وزارت عظمیٰ کا اُمید وار نہیں ہوں اِس کے بہت سے مواقع آئے، لیکن میں نے کسی کی پیٹھ میں چھرانہیں گھونپانہ کسی کے خلاف سازش کی‘‘ اِس میں شک نہیں کہ نثارعلی خان کو وزارتِ عظمیٰ کے منصب کے لئے بے شمار مواقع ملے مگر اِس اللہ کے نیک بندے نے ہمیشہ اِس پیشکش سے انکار کیا اور اپنی صلاحیتوں کو وہیں تک محد ود کیا جہاں تک یہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھاسکتے ہیں ورنہ تو ہم ماضی میں جھانکیں توگزشتہ کئی سالوں سے آج تک وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر ایسے ایسے چہرے آئے ہیں جن میں وزارتِ عظمیٰ چلانے کی اہلیت ذرابھی نہیں تھی مگرآج کم ازکم یہ لوگ چوہدری نثارعلی خان کے سیاسی تجربات سیاسی فہم وفراست اور تدبر کے مقابلے اور وزارتِ عظمیٰ جیسے اہم ترین منصب کے لحاظ سے بہت کم درجے کے لوگ رہے ہیں صحافیوں سے اپنی سّچ گپی جیسی گفتگو میں چوہدری نثارعلی خان نے مزید یہ بھی کہاکہ ’’پیپلز پارٹی مجھ سے اِس لئے نارض ہے کہ میں نے ایف آئی اے میں کرپشن کے اِن کیسوں پر کارروائی کو آگے بڑھایا جواُنہوں نے اپنے دورمیں روک رکھی تھی‘‘آج کیا چوہدری نثارعلی خان کا یہی وہ کارنامہ اور کھرا سّچ ہے کہ جس پر پی پی والے ناراض ہیں تو یہ پی پی کی بڑی غلطی ہے ۔آصف علی زرداری ڈیڑھ سال بعد اپنی خودساختہ جلاوطنی ختم کرنے کے بعد جیسے اپنی ذات اور سیاست پر ریگ مال رگڑ کر یا کسی طاقت سے رگڑواکر اپنے تمام پچھلے گناہوں کو صاف کروا وطن واپس لوٹ آئے ہیں ۔جبکہ یہاں ٹائمنگ کے حوالے سے یہ بات بڑی حد تک حیران کُن ضروررہی ہے کہ جمعہ 23دسمبر والے روزابھی زرداری کوپاکستان لانے والا طیارہ دبئی کے ایئر پورٹ کے رن وے پر رینگ ہی رہاتھا کہ اِدھرکراچی میں اِسی روز دوپہر ایک بجے پاکستان رینجرز نے کراچی کے مختلف علاقوں میں چھاپوں کے دوران آصف علی زرداری کے قریبی دوست نجی کمپنی کے ما لک انورمجید کے دفاتر سے غیر قانونی اسلحہ اور بال بم برآمد کئے۔مقدمات رینجرز کی مدعیت میں میٹھادراور صدر پولیس نے درج کئے گئے ہیں جس پر دبئی پلٹ آصف علی زرداری سمیت سندھ حکومت اور مُلک بھر میں پھیلے ہوئے پی پی کے اُوپر سے نیچے تک سارے جیالے اور جیالیاں آگ بگولہ ہیں اور اِسے ن لیگ حکومت اور بالخصوص وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان کی پی پی سے انتقامی کارروائی سے تعبیر کررہے ہیں اوربڑی ڈھٹائی سے سارے پی پی والے سرچھاڑ منہ پھاڑاور سینہ گوبی کرتے اور اِدھر اُدھر دردر چیختے چلاتے پھر رہے ہیں کہ نوازشریف اور چوہدری نثارعلی خان نے اِن کی مفاہمتی اور مصالحتی پالیسی کے عمل کو اِن کی کمزوری جان کر ایسا کیا ہے مگر اَب ہم خاموش بیٹھنے والے نہیں ہیں 27دسمبر کے بعد حکومت مخالف تحریک چلائیں گے پھر جو ہوگا دیکھا جائے گا ایسا بھی نہیں ہے جیساکہ پی پی پی والے سمجھ کر آسمان کو سر پر اُٹھارہے ہیں پاکستان رینجرز وہی کچھ بالاتفریق کررہی ہے جیساکہ کراچی میں دوسری جماعتوں اور سہولت کاروں کے ساتھ اَب تک کرتی آئی ہے پی پی والے چیخ چلا کر رینجرز کے کا موں اور کارکردگی پر سوالیہ نشان نہ لگائیں جبکہ اپنی عادت سے مجبور انتہادرجے کے مفاہمت اور مصالحت پسند پی پی پی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر مسٹرآصف علی زرداری نے کراچی میں پارٹی رہنماؤں کے اپنی نوعیت کے ایک اہم ترین مشاورتی اجلاس میں کہاہے کہ’’ ہم حکومت مخالف احتجاج ضرور کریں گے مگر ایسا احتجاج ہرگز نہیں کریں گے ۔ اِسی کے ساتھ ہی مسٹرزرداری نے یہ اعلان بھی داغ دیاکہ سندھ کے تنظیمی اموراِن کی ہمشیرہ فریال تالپور اور پیاری بیٹی آصفہ زرداری سنبھالیں گیں اِس طرح زرداری نے فریال تالپور کے ساتھ آصفہ زرداری کو لگاکر یہ پیغام بھی دے ڈالاہے کہ آصفہ زرداری بھی اپنی سیاست کی ابتدا ء تنظیمی امورسے کررہی ہیں اور اگلے انتخابات تک یہ پارٹی کے انتخابی جلسے جلوسوں اور جلسیوں میں پارٹی کارکنان سے خطاب کے قابل ہوجائیں گے اور انتخابات کے آنے تک پارٹی کے جیالے اور جیالیوں کو وارم اَپ کیا کریں گے۔تاہم اِس سارے منظر او ر پس منظر میں راقم الحرف کا خام اور قوی خیال یہ ہے کہ پی پی پی کے دبئی پلٹ ریگ مال زدہ شریک چیئرمین مسٹر آصف علی زرداری نے آئندہ دِنوں میں حکومت مخالف جس احتجاج کا جس انداز سے اعلان کیا ہے پھر یہ احتجاج تو نہ ہوایہ تو ایسے ہی ہے جیسے کہ کوئی فرینڈلی اپوزیشن اگلے انتخابات سے قبل اپنے بے جان اور بے حس و حرکت ووجود میں روح پھونکنے کے لئے کوئی ڈرامہ کررہی ہے اگر ہم دیکھیں تو اِسی حکومت میں پی ٹی آئی نے بھی کئی ایسے لمبے لمبے دھرنے اور احتجاج کئے ہیں جوبھی بے مقصد اور بے معنی ثابت ہوئے کیونکہ اِس کی نیت بھی جمہوریت کو ڈی ریل کرنااور لولے لنگڑے جمہوری نظام کیلئے خطرہ پیداکرنا نہیں تھی اور اَب ایسی ہی ایک نیت کے ساتھ پی پی کے شریک چیئرمین زرداری بھی حکومت مخالف احتجاجوں کا سلسلہ شروع کرنے کا اگلے دنوں میں ارادہ رکھتے ہیں۔زرداری صاحب، اگر آپ واقعی نواز حکومت کے حقیقی مخالف ہیں تو پھر جمہوری نظام کے خطرے کی فکرکرناچھوڑیں اور وہ کریں جس سے حکومت ہل جائے اور حکومت کا تختہ پلٹ جائے ورنہ اپنے یہ احتجاجوں اور مظاہروں کی ڈرامہ بازی لپیٹ کرایک طرف رکھ دیں اِس سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے کیونکہ اَب عوام سب کی سب ڈرامہ بازی سمجھنے لگے ہیں ۔