- الإعلانات -

ؑ بلدیاتی الیکشن اورعمران خان کا آبائی ضلع۔۔۔۔!

عمران خان کے آبائی ضلع میانوالی میں پاکستان تحریک انصاف کی واضح اکثریت کے باوجود چےئرمین مسلم لیگ ن کا منتخب ہو گیا ۔ گوکہ شادی خیل برادران ایم این اے حاجی عبید اللہ خان شادی خیل،صوبائی وزیر حاجی امانت اللہ خان شادی خیل اور سابق ایم پی اے علی نور خان نیازی کے روکھڑی گروپ سابق صوبائی وزیرحاجی گل حمید خان روکھڑی اور سابق ایم این اے حاجی حمیر حیات خان روکھڑی کے ساتھ سیاسی اختلافات تھے لیکن ان سب نے ذاتی پسند اور اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر بلدیاتی الیکشن کے آخری مرحلے میں ضلع کونسل چےئرمین کے لئے یک درگیر و محکم گیر ہوئے جبکہ پاکستان تحریک انصاف میں معاملہ برعکس رہا اورپارٹی فیصلہ کی بجائے اپنی پسند اور اختلافات کو مدنظر رکھ کر پی ٹی آئی کو گزند پہنچا یا۔پی ٹی آئی کا یہ پہلی مرتبہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی متعدد بار باراس قسم کے پرایکٹس کرتے رہے ہیں۔گذشتہ عام انتخابات میں پی پی43 میں پاکستان تحریک انصاف نے احسن جمال خان کو ٹکٹ دیا تھا لیکن محترمہ عائلہ ملک پی ٹی آئی ٹکٹ ہولڈر کی بجائے سابق صوبائی وزیر عبدالرحمن خان المعروف ببلی خان کیلئے ووٹ مانگتی رہی۔اس عاقبت میں پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار جمال احسن خان کوکم ووٹ پڑے اور ببلی خان بھی ہار گیا جبکہ مسلم لیگ ن کا امیدوار حاجی امانت اللہ خان شادی خیل کامیاب ہوگیا۔ اسی طرح ضمنی الیکشن 2013ء میں پاکستان تحریک انصاف کے بعض ورکر ز انتخابی مہم میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر نوابزادہ ملک وحید خان کی بجائے مسلم لیگ ن کے امیدوار حاجی عبیدا للہ خان شادی خیل کے لئے ووٹ مانگتے رہے کیونکہ وہ محترمہ عائلہ ملک کے روئیے سے نالاں تھے اور پی ٹی آئی کے بہت سے ورکرز الیکشن کے دن ووٹ کاسٹ کرنے کیلئے گھروں سے نہیں نکالے۔ جس کا ثمر مسلم لیگ ن کے امیدوار حاجی عبید اللہ خان شادی خیل نے حاصل کیا اور وہ کامیاب ہوگئے۔ اسی طرح بلدیاتی الیکشن میںیونین کونسل چےئرمینوں کو ٹکٹ جاری کرتے ہوئے یہ بات عام ہوئی تھی کہ پی ٹی آئی میں شامل نئے سیاستدان پارٹی کے پرانے ورکرزکے بجائے ٹکٹ اپنے گروپ کے ساتھیوں کو دے رہے ہیں یعنی اپنی چہلم بھرنے کو میراجھونپڑا جلارہے ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان تحریک انصاف میں "اب بھی میرا مردہ تیرے زندہ پربھاری ہے” بہت زیادہ ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے پرانے ورکرز قطعی پسند نہیں کرتے ہیں کہ ان کو کوئی نظرانداز کرے اوروہ پرانے ورکرز کو ہی خالص پارٹی ورکرز سمجھتے ہیں۔پرانے ورکرزکا یقیناًحق بنتا ہے لیکن ساتھ ساتھ نئے ورکرز کو موقع دینا چاہیے۔پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز میں جنون بہت زیادہ ہے جبکہ جوش کے ساتھ ہوش بھی ضروری ہے۔اس سلسلے میں ان کے قائدین کو زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرنے چاہیے۔ضلع میانوالی سمیت بہت سے اضلاع میں پارٹی ورکرز کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلے کیے گئے اور اس کے ردعمل میں پی ٹی آئی کو کافی سیٹوں سے ہاتھ دھونا پڑا ۔پاکستان تحریک انصاف کے چےئرمین عمران خان نے ایکشن لیا اور ضلع میانوالی میں ملک مطیع اللہ ڈرہال کی بنیادی رکنیت معطل کی۔عمران خان کو اب ایکشن لینے کی بجائے الیکشن سے قبل ان کو اعتماد میں لینا تھا اور اب پچھتائے کیاہوفائدہ، جب چڑیاں چُگ گئیں کھیت۔ کہا جاتا ہے کہ انسان خطا کا پتلا ہے اور ہر انسان سے غلطیاں ہو سکتی ہیں ۔ ایم این اے امجد علی خان بشر ہیں اور اس لئے اس سے بھی خطائیں ہوسکتی ہیں لیکن وہ مخلص ورکر اور بہترین لیڈر ہیں۔ان پرپرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پر تنقید مناسب نہیں ہے۔پارٹی معاملات کومیڈیا میں زیر بحث نہیں لانے چاہیے۔ اس سے پارٹی ورکرز بددل ہوجاتے ہیں اور ان میں فاصلے بڑھ جاتے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کو الیکشن 2013ء کے بعد ایک بہترین چانس ملا گیا تھا لیکن اب وہ پانی ملتان بہ گیا اور انھوں نے ا س سے کماحقہ فائدہ نہیں اٹھایا۔ اب ان کو چپ چاپ الیکشن 2018ء کیلئے بھرپور تیاری کرنی چاہیے اور اسی میں ان کی عافیت ہے۔اگر بقیہ وقت بھی اپنی اصلاح کی بجائے پارٹی ورکرز اور سیاسی مخالفین پر بلاوجہ تنقید کرتے رہے تو پھران کیلئے الیکشن 2018ء کافی مشکل اور کٹھن ہوگا۔ صوبہ سرحد(صوبہ کے پی کے )میں ایم ایم اے کی بھی پانچ سال حکومت رہی لیکن اس کے بعد ایم ایم اے کا کیا بنا۔۔۔۔ ؟ میڈیا اور سوشل میڈیا سے سب کام نہیں ہوتے ہیں ۔ کچھ عملی کام بھی کرنے پڑتے ہیں جس کو عوام چھو اور محسوس کر سکے۔ پاکستان تحریک انصاف عوام کیلئے امید کی ایک کرن ہے اور اس میں حائل نہیں آنا چاہیے۔ اس آس کے پھول کونزاکت سے نہ مسلیں۔پاکستان تحریک انصاف کے قائدین اور ورکرز کو سنجیدہ ہونا چاہیے۔شارٹ کٹ راہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ سوشل میڈیا دنیا سے نکل کرحقیقی دنیا کی طرف آنا چاہیے۔پاکستان اور عالم اسلام کیلئے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔عمران خان اپنے جوانوں سے بہترین کام لے سکتا ہے۔وہ حکومت سے باہر ہوتے ہوئے بھی وطن عزیز کیلئے کام کرسکتا ہے۔

چاندماری۔۔۔ شوق موسوی
اسمبلی میں الیکشن جیت کر وہ دونوں آئیں گے
وہ کہتے ہیں کہ مل کر حشر ہم دونوں اٹھائیں گے
اگرچہ ان دنوں گولوں میں کچھ بارود بھی کم ہے
تو باپ اور بیٹا مل کر کونسی توپیں چلائیں گے؟