- الإعلانات -

عوام اور وطن سے تعلق

ہم بھی ایک عجب قوم ہیں اور مومن کہلاتے ہیں لیکن کیا ہم مومن ہونے کی صفات پر پورا اترتے ہیں ہمارا دعوی ہے کہ فراست مومن کی گمشدہ میراث ہے لیکن ہمیں لگتا ہے کہ یہ کھوئی ہوئی میراث اب تک ہمارے ہتھے نہیں چڑھی اس کاثبوت یہ ہے کہ ہمارے فیصلے ایسے ہیں جن کا نتیجہ ذلت اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں اگر فراست ہوتی تو کیا ہم ایسے لوگوں کو ووٹ دیکر اپنی باگ ڈور بلکہ نکیل ان کے ہاتھ میں نہ دے دیتے جو دہائیوں سے نعرے بدل بدل کر ہمیں دونوں ہاتھوں بلکہ ہر ہر عضو کو استعمال کرکے ہمیں لوٹ رہے ہیں اور ہمیں مقروض ترین قوم بنا دیا ہمارے ایرپورٹ اور موٹر وے گروی رکھ کرقرضے لئے جارہے ہیں لیکن یہ قرضے کہاں اور کس کی جیب میں جارہے ہیں یہ کسی کو معلوم نہیں اور سب کو معلوم ہے اگر قرض لینا اتنا ہی ناگزیر تھا تو لوگوں کے جم غفیر کو بتاتے کہ یہ قرضے ہم آپ کے نام پر لے رہے ہیں تو کیوں لے رہے ہیں اور کہاں استعمال کر رہے ہیں ہم جم غفیر اس لئے ہیں کہ ہماری نام نہاد قیادتوں نے نہ ہمیں قوم بننے دیا اور نہ ہمیں عوام رکھا بس مجرد غلام جو ان کے ڈنکے کی ہر چوٹ پر ان کی مرضی اور منشا کا رقص کرتے ہیں اور دھمالیں ڈالتے ہیں کبھی آوے ای آوے تو کبھی جاوے ای جاوے کبھی کسی نے ان نام نہاد سیاسی مداریوں یہ پوچھنے کی جسارت کی گزشتہ الیکشن میں آپ نے ہم سے جو وعدے کئے تھے ان کیاایفا کا کیا ہوا کتنوں کے پیٹ پھٹے کتنوں کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا جن کو لٹیرا انسان کہا گیا اور جن سے قوم کا پیسہ چھین کر اس عوام کے قدموں میں نچھاور کرنے کی بات کی گئی لیکن اسی عوام کے قدموں میں جوتی تک نہیں رہنے دی بلکہ انہیں لٹیروں سے دست بستہ ہو کر اور باقائدہ معافی مانگ لی گئی کہ ہم سے غلطی ہو گئی مائی باپ اس لئے کہ لوگوں کے اس ہجوم کو جس کو کچھ لوگ عوام بھی کہتے ہیں ہم بے وقوف کیسے بناتے اور ووٹ لیتے باقی چونکہ ہمارا الیکشن ویسے ہی جھرلو مار کہ ہے کہ ہمیں اکثر ووٹ تو ابلیس اور اس کے چیلے ڈال جاتے ہیں اور کچھ نشے کے مارے ہوئے ایسیمریض جن کو ہم نے اپنی آوے ای آوے کی افیم لگا رکھی ہے کوئی نہیں پوچھتا کہ نندی پور میں سرمائے کے بے دردی سے ضیاع کا مجرم کو ن ہے میٹرو بس منصوبے کی لاگت اصل لاگت سے کتنی زیادہ ہے سستی روٹی تندور میں کیا کیا گھپلے کئے گئے قطر سے خریدی جانے والی گیس کی اصل لاگت کیا ہے اور اس کاایگریمنٹ کہاں ہے اور یہ کن شرائط اور قیمت پر درآمد کی جارہی ہے پانامہ کے معاملے میں پارلیمنٹ کے فلور پر کھڑے ہو کر اعلان کرنا کہ تمام ثبوت موجود ہیں اور سپریم کورٹ میں جاکر مکر جانا نا اہلیت کے لئے یہی کافی ہے کبھ دبی کی مل بیچنا جو خسارے میں چلنے وجہ سے بنک نے ضبط کر لی تو بکی کہاں سے پہلے کہا گیا کہ یہ سرمایہ سعودیہ میں لگایا گیا پھر کہا گیا نہیں سعودیہ نہیں قطر بھیجا گیا وہاں ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کی گئی جبکہ قطر میں دومنزلہ بلڈنگ سے بڑی کوئی عمارت نہیں تھی وہ بھی اکثر حکومت یا لوگوں کی ذاتی ملکیت تھی دوسرا گروپ تو پوری الیکشن کمپین میں بین ہی ڈالتا رہا کہ کاکردگی زیرو نہیں بلکہ منفی تھی پوری الیکشن مہم وہ آئی تھی وہ گئی تھی کا الاپ الاپتے رہے کہ شاید پھر کوئی ہمدردی کا ووٹ مل جائے لیکن اندھے کے پیر کے نیچے روزانہ تو بٹیر نہیں آتے نتیجہ سب نے دیکھ لیا اپنے صوبے میں کیا گل کھلائے کہ فضائیں معطر ہونے کی بجائے گٹر کی بدبو سے عوام الناس کے ناک سڑ گئے پھر بھی امید کہ ہم پھر آئیں گے بڑیبڑے اشتہارات اور پانا فلیکس سرکاری خرچ پر یعنی لٹے پٹے مفلوک الحال لوگوں کے دئے ہوئے ٹیکس کو ابا جی کا ذاتی مال سمجھ کر اڑایا جا رہا ہے اور اپنی لیڈر کی برسی منائی جا رہی ہے کئی دنوں شاہ مفاہمت کی آمد کا اعلان ہو رہا تھا تعریفوں کے ڈونگرے برسائے گئے کہ کوئی بہت بڑا نجات دہندہ آرہا ہے نتیجہ پہلے خود تقریر فرمالی تو اس کے بعد کون اور کس کی کوئی سنے گا بلاول کے ساتھ یہی کچھ ہوتا رہا تو پھر اس کے لئے ابھی سے دعائے خیر کر لینی چاہیئے ہمارا مشورہ ہے کہ سرکار آپ اتالیق بن کر اس کی تربیت کریں اپنا بیگیج اس سے نہ اٹھوائیں وگرنہ کہانی” نہ تین میں نہ تیرہ میں” والی ہو جائے گی سندھ سرکار کے اللے تللے جارہی ہیں چھینک آئے تو پوری کابینہ بمعہ مصاحب سب کو دبی بلا لیا جاتا ہے اسی کو کہتے ہیں حرام کا مال سمجھ کر اڑاناجبکہ یہ عام آدمی کا نچڑا ہوا خون ہے جو سکت نہ ہونے کے باوجود لوگ دے رہے ہیں. ہے کوئی اس معاملے کو سو موٹو نوٹس لینے والا کہ یہ غیر ضروری اخراجات کیوں اور کس اصول کے تحت کئے جا رہے ہیں . لاڑکانہ کے لئے ایک سو ارب کے پیکیج کا اعلان کیا گیا لیکن عملا اس سو ارب میں سے سو روپے کو بھی لاڑکانہ کی ہوا نہیں لگی سیدھا منزل مقصود پر پہنچا دیا گیاکچھ دن خبریں قومی پریس میں آئیں اوردبا دی گئیں اب کوئی نام بھی نہیں لیتا کہ شاید لفافے پہنچ گئے ویسے تو پورے سندھ کا یہی حال ہے لیکن لاڑکانہ اور نوابشاہ کا شمار سندھ کے سب سے خراب اور گندے ترین شہروں میں ہوتا ہے کراچی میں گندگی کے پہاڑ بن گئے ہیں اور گڈگورننس کا راگ الاپا جارہا ہے سنجیدگی ملاحظہ فرمائیے کہ وزیراعلی رات کو تفریحا نکل کھڑے ہوتے ہیں کہیں چاٹ قلفی کھالی چینل پہ کلپ دکھا دی جاتی ہے کہ نوجوان وزیراعلی بڑے متحرک ہیں اور راتوں کو بھی چین سے نہیں بیٹھتے لیکن نتیجہ آپ کے سامنے ہے اللہ،ہمیں عقل دے تاکہ ووٹ جیسی امانت کا درست استعمال کر سکیں اور ان کو منتخب کرنے سے اجتناب برتیں جو ہمارے مصائب کا سبب بنے اللہ ہمیں درست لوگوں کے انتخاب کی توفیق عطا فرمائے اور اس وطن سے غداری کرنے والوں کا مقدر روسیاہی بنے اللہ اس وطن کی حفاظت فرمائے۔
****