- الإعلانات -

دیکھدا جاندارہ

ایک خاتون سردیوں میں گرمی کے موسم کو یاد کرتی ہوئی فرمانے لگیں کیسا اچھا موسم ہوتا ہے گرمیوں کا طرح طرح کے مشروبات پیئے جاتے ہیں سبزیاں اور فروٹ بھی اسی موسم کی مناسبت سے اللہ عطا فرماتا ہے اے سی چل رہے ہوتے ہیں اور خوب نیند آتی ہے۔ ٹھنڈے کمروں میں گرمی کا احساس ہی نہیں ہوتا اور اگر زیادہ حساس ہونے لگے تو یورپ جانے کو ترجیح دی جاتی ہے وہاں تو حبس اور گرمی کا پتہ ہی نہیں چلتا ۔ دوسری خاتون جو خلاف توقع بڑی دیر سے خاموش بیٹھی تھیں ٹھنڈی آہ بھر کر کہنے لگیں آپ درست کہہ رہی ہیں شاید آپ کی دوہری شہریت ہے جب دل چاہا ملک سے باہر چلے گئے اور جب واپس آنے کو دل مچلنا شروع کیا تو پھر یہیں آگئے ۔ ہمارے تو نصیب ہی کھوٹے ہیں۔ منے کے ابا کو کئی بار کہاکہ آپ بھی ملک سے باہر جانے کی کوشش کریں سرکاری نوکر میں کیا رکھا ہے کسی زمانے میں اوپر کی آمدنی بہت تھی ہم بھی عیش ، عشرت کی زندگی گزارتے تھے لیکن جب سے نیب والوں نے ’’سے نو ٹو کرپشن ‘‘کا شور مچانا شروع کیا ہے میرے میاں ڈرنے لگے ہیں بس بڑی مشکل سے تنخواہ پر گزارا کرنا پڑ رہا ہے ۔ مرمر کے مہینے کے تیس دن کٹتے ہیں میں تو انہیں سمجھاتی ہوں کہ کوئی بڑا ہاتھ ماریں اور اگر نیب نے پکڑ لیا تو پلی بارگین سے جان چھٹ جائے گی دل بڑا کریں اسمیں ڈرنے کی بات نہیں لیکن وہ یہی کہتے ہیں مجھے سوچنے دو پہلی خاتون نے کہا بھلا اس میں ڈرنے کی کیا بات ہے افسر اور ڈرنا دو متضاد باتیں ہیں آپ کے بھائی کنٹرولر امپورٹس اینڈ ایکسپورٹس کے دفتر میں ایگزیکٹو افسر تھے وہ محکمہ تو مدت ہوئی بند ہوگیا لیکن انہوں نے اتنی بہادری دکھائی کہ کچھ ہی عرصہ میں ہماری پوری فیملی امریکہ سیٹل ہوگئی اب تو ہم جب بھی پاکستان آتے ہیں تو لوگ رشک کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں بلکہ اپنے بچے اور بچیوں کے رشتوں کیلئے بھی ترستے ہیں کہ ہمارے ذریعے ان کے رشتے امریکہ میں ہو جائیں دعائیں دیتی ہوں اپنے خاوند کو جنہوں نے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا ڈر کر زندگی تو نہیں گزرتی حوصلہ کرنا پڑتا ہے بھائی صاحب کا حوصلہ بڑھاتی رہو ذرا سوچو اسلام آباد یا ملک کے بڑے شہروں میں صرف بزنس کمیونٹی کے لوگوں کے گھر تو نہیں زیادہ تعمیرات تو سرکاری افسران نام بدل کرکرواتے ہیں اگلے سال میں آؤں تو بڑے سیکٹر میں تمہارا بھی بنگلہ بنا ہوا ہونا چاہیے۔ پکڑے جانے سے نہ ڈریں کیا خوب سودا نقد ہے اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے یہاں سب ادارے دونوں ہاتھوں سے سمیٹ رہے ہیں۔ دوسری خاتون نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا بہن آپ نے تو مردہ دل میں جان ڈال دی آپ کے بھائی سے آپ کے حوالے سے بات کروں گی شاید ہمارے دن بھی بدل جائیں ۔ دعا کریں ایک خاتون کپڑے کی دکان پر گئیں اوردکاندار سے کہنے لگیں اچھا سا سوٹ دکھائیں دکاندار نے ایک سوٹ دکھایا اور ساتھ میں قیمت بھی بتا دی کہ یہ ڈیڑھ ہزار روپے کا سوٹ ہے۔ خاتون نے حیرانگی سے کہا اُف دوسرے سوٹ کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگیں بھائی صاحب اس سوٹ کی کیا قیمت ہے تو دکاندار نے بڑے اطمینان سے جواب دیا باجی دو دفعہ اُف اُف ایسے واقعات ہمارے معاشرے کی تصویر کے چند رخ ہیں۔ کسی زمانے میں حسب نسب شرافت خاندانی روایات اور وقار صاحب شرف ہونے کیلئے ضروری تھا آج کل صرف پیسہ اہم ہے بڑا گھر بڑی گاڑی بے دریغ خرچ کوئی ایک دوسرے کو پوچھتا نہیں کہ آپ کونسا کاروبار کررہے ہیں کہ اتنا پیسہ اکٹھا ہوگیا کل تک تو آپ متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے راتوں رات امیر کبیر بننے کے بھوت سوار ہیں نوجوان نسل تو مواقع نہ ملنے کی وجہ سے بے راہ روی کا شکار ہوتی جارہی ہے نئے سال کی پارٹیز فیشن بن چکی ہیں۔ اسلامی سال تو محرم الحرام سے شروع ہوتا ہے لیکن ہمارا کاروباری نظام اسی جنوری فروری سے جڑا ہوا ہے اس لئے یورپ کی نقل میں ہمارے ہاں بھی رات بارہ بجے کے بعد نئے سال کی تقریبات عروج پر ہوتی ہیں آتشبازی سے لیکر شراب ، کباب کی محافل بھی اپنا رنگ جماتی ہیں کیا ہم ایک اسلامی ملک میں رہتے ہیں یہاں کونسی چیز اسلامی روایات کی عکاسی کررہی ہے ۔ سوائے مساجد جہاں دن میں پانچ وقت اور جمعے کے اجتماعات ہونا فرائض میں شامل ہیں ۔ اگر یہ مولوی صاحبان نہ ہوں تو میرا خیال ہے معاشرہ کبھی رب کو یاد بھی نہ کرے سوائے ان چند افراد کے جن پر اللہ کا خاص کرم ہوتا ہے اور وہ کسی بھی حالت میں رب العزت کی کرم نوازیوں کو بھولتے نہیں ۔ آجکل سرکاری تقریبات میں بھی نماز کے اوقات کا خیال نہیں رکھا جاتا تقریب کی کارروائی چلتی رہتی ہے ۔ اذان سن کر بھی چند لمحوں کی خاموشی اختیار نہیں کی جاتی ۔ میڈیا والے ذہنوں کو اتنا خراب کررہے ہیں کہ خدا کی پناہ ایک ٹیلی ویژن چینل تو بار بار یاد دہانی کروا رہا ہے کہ آپ نے نیوز ایئر کیسے منانا ہے سیلفی بنا کر ہمیں بجھوائیں۔ ہم نشر کریں گے ۔ اسی طرح ویلنٹائن ڈے ،مدر ڈے اور نہ جانے کیا کیا ڈے منانے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ انہی اقدار کا ہم خود ہی بیڑا غرق کرنے کے درپے ہیں ۔ سیاسی بحث ایسے ہوتی ہے جیسے انہوں نے ٹیلی ویژن اسٹیشن کو فتح کرلینا ہو ۔ تہذیب شائستگی سلیقہ سب کچھ ترقی کی نذر ہوچکا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ملک کو ہمیشہ قائم رکھے جہاں سب رنگ دکھائی دے رہے ہیں اپنے کشادہ دامن میں یہ ملک سب کو سمیٹے ہوئے ہے چاہے کوئی اس سے محبت کرے یا نہ کرے یہ اس ماں کی طرح سلوک کرتا ہے جسکا بچہ ماں کے ساتھ بدتمیزی کرتا ہے لیکن ماں ناراض ہونے کی بجائے اسے پھر اپنے سینے سے لگاتی ہے اسکی خیر مانگتی ہے اور اس کے آنے کے انتظار میں نظریں دروازے پر لگائے رکھتی ہے اسی ملک کے وفادار بن کر دنیا میں ممتاز مقام ملے گا ۔ سیاسی لٹیرے بھاگ بھاگ کر پردیس جاتے ہیں لیکن پھر ایک دن یہی دھرتی ماں انکے ناپاک قدموں کو اپنے سینے پر سجاتی ہے یہ ہے پاکستان۔
*****